با اصول چیف سیکرٹری نے لاڈلے افسر کو سرکاری رہائش گاہ الاٹ کرتے وقت تمام اصول قاعدے بالائے طاق رکھ دیے ۔ کمزور ملازمین بے بسی کی تصویر بن گئے

تفصیلات کے مطابق سندھ کے با اصول اور سادہ طبیعت کے ہر دل عزیز چیف سیکرٹری بھی لاڈلے افسر کے سامنے ڈھیر ہو گئے مذکورہ افسر کو سرکاری رہائش گاہ الاٹ کرتے وقت تمام قاعدے اصول فراموش کر دیے گئے جو ملازمین سرکاری رہائش گاہ کے انتظار میں قطار میں لگے ہوئے تھے وہ منہ تکتے رہ گئے اور چیف سیکرٹری کے سامنے بے بسی کی تصویر بن گئے ۔ مذکورہ لاڈلے افسر کچھ عرصہ قبل کراچی کے ایک ضلع میں ڈپٹی کمشنر بھی رہ چکے ہیں اور کچھ عرصہ قبل ہی انہیں ایک تعلیمی ادارے میں اہم پوزیشن پر تقررنامہ تھمایا گیا تھا دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ افسر بھی خود کو با اصول اور قانون پسند افسر قرار دیتے ہیں ۔ چیف سیکرٹری سندھ کے قریبی ذرائع کے مطابق سرکاری رہائش گاہوں کی شدید کمی ہے اور افسران و ملازمین طویل عرصے سے انتظار میں رہتے ہیں سب نے درخواستیں جمع کرا رکھی ہیں اور اپنی اپنی باری کا انتظار بھی کر رہے ہوتے ہیں لیکن شاید ہی کوئی چیف سیکرٹری ایسا گزرا ہو جس کے دور میں سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ کے معاملے میں کسی کی حق تلفی نہ ہوئی ہو ۔ تمام طاقتور افسران کہتے تو یہی ہیں کہ وہ کسی کا حق نہیں مارتے لیکن سرکاری رہائش گاہوں کے معاملے میں اس دعوے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے اس معاملے میں صرف اتنا ہی کہا جاتا ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ۔ چیف سیکرٹری کوئی بھی ہو وزیراعلی کوئی بھی ہو سرکاری افسران اپنی مضبوط لابی اور طاقتور حیثیت کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں ایماندار اور شرافت کا مظاہرہ کرنے والے خاموش تباہ افسران اور ملازمین بے بسی کی تصویر بنے رہتے ہیں یا کچھ ہمت کر کے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں لیکن ایسے افسران کو دیگر معاملات میں کافی سختی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مسائل سے دوچار ہو جاتے ہیں اس لیے یہ راستہ کم افسران اور ملازمین ہی چنتے ہیں ۔ موجودہ چیف سیکرٹری بھی سرکاری رہائش گاہوں کے معاملے میں پالیسی کو شفاف نہیں بنا سکے مطالقہ محکمے کے افسران بھی اس معاملے میں اپنی کمزوری کا اعتراف کرتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ اس حوالے سے قائد قانون کی کسی کو نہ کوئی پرواہ ہے نہ کسی کو کسی بات کا کوئی ڈر ۔ اوپر سے جس کا نام آجاتا ہے اس کے لیے سرکاری رہائش گاہ کا انتظام کر دیا جاتا ہے سرکاری رہائش گاہ کے حوالے سے سندھ حکومت میں ہمیشہ سے فرمائشی پروگرام ہی کامیاب رہا ہے حقدار کو حق ملنا بہت دور کی بات ہے وہ اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ۔ سرکاری رہائش گاہوں کے حوالے سے کافی جھگڑے بھی ہو چکے ہیں مختلف افسران اس تنازع اور لڑائی میں کافی آگے تک بھی گئے لیکن چیف منسٹر اور چیف سیکرٹری کی طاقت کے سامنے سب بے بس ہو جاتے ہیں ۔ یہاں فیصلے پسند ناپسند اور اوپر کے احکامات پر کیے جاتے ہیں اور یہی حقیقت ہے ۔























