کے ایف سی فوڈز پر حملوں کی تحقیقات میں پیش رفت، ماسٹر مائنڈز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

عوام اور تجارتی حلقوں کی طرف سے مجرموں کو سخت سزا دلانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ ان حملوں میں املاک کو نقصان پہنچانے اور معصوم گاہکوں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف فوری انصاف کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

پاکستان فوڈ ایسوسی ایشن کے صدر راشد احمد صدیقی نے اس معاملے میں ابتدائی طور پر کہا تھا کہ یہ حملے محض غزہ کے تنازعے سے وابستہ عوامی غصے کا نتیجہ نہیں ہو سکتے، بلکہ ممکنہ طور پر کچھ کاروباری حریفوں کا ہاتھ بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ کچھ فون کالز ٹریس کی گئی ہیں اور مزید ثبوت ملنے پر تفصیلات میڈیا کو دی جائیں گی۔ تاہم، اب تک کوئی نئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔

عوام اور سماجی رہنماؤں کا اصرار ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس معاملے میں سنجیدگی سے کام لیتے ہوئے ماسٹر مائنڈز اور تمام ملوث افراد کو جلد از جلد گرفتار کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی، یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔

دوسری طرف، KFC اور دیگر بین الاقوامی برانڈز اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن کچھ حلقوں کی طرف سے بائیکاٹ کی مہم بھی جاری ہے۔ بہر حال، عوام کی یہ واضح خواہش ہے کہ ان حملوں میں شامل تمام مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ انصاف کا عمل تیز کیا جائے اور مجرموں کو قرار واقعی سزا ملے!

https://www.youtube.com/watch?v=CMlz-_gL6H8