
کراچی کا پانی کا بحران: ٹینکر مافیا کا کھیل اور عوام کی بے چارگی
کئی روز سے کراچی کے بیشتر علاقوں میں پانی کی شدید قلت نے عوام کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں۔ یونیورسٹی آف کراچی کے قریب 84 انچ کے پانی کے پائپ لائن کے پھٹنے کے بعد شہر کے 45 فیصد سے زائد حصوں میں پانی کی سپلائی معطل ہو گئی۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC) کے مطابق، اس حادثے کے نتیجے میں لاکھوں گیلن پانی ضائع ہوا، جبکہ پائپ لائن کی مرمت میں آٹھ دن لگ گئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی ایک حادثہ تھا، یا پھر پانی کی مافیا کے مفادات کے لیے جان بوجھ کر کھیلا گیا ایک گھناؤنا کھیل؟

ٹینکر مافیا کا کاروبار…………………………کراچی کے لوگ پانی خریدنے پر مجبور، ایک موٹا خیال یہ ہے کہ ان دنوں شہر میں پانی کی خریداری پر 4 ارب روپے سے زائد رقم خرچ ہو گئی ہے۔
پانی کی قلت کے دوران، ٹینکر مافیا نے عوام کو پانی کے نام پر لوٹا۔ رپورٹس کے مطابق، صرف آٹھ دنوں میں ٹینکر مافیا نے چار ارب روپے کمائے، جبکہ پانی کی قیمت چار روپے فی گیلن تک پہنچ گئی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا KWSC اور متعلقہ ادارے اس مافیا کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہیں، یا پھر ان کا بھی اس میں کوئی کردار ہے؟




امیروں کو پانی، غریبوں کو فکر
اس بحران میں سب سے زیادہ نقصان غریب اور کمزور طبقے کا ہوا، جو مہنگے داموں ٹینکرز سے پانی خریدنے پر مجبور ہوئے۔ دوسری طرف، شہر کے بااثر اور امیر افراد کو باآسانی پانی کی سپلائی ہوتی رہی۔ کیا یہ واضح امتیاز نہیں کہ پانی کی تقسیم کا نظام شفاف نہیں، بلکہ طاقتوروں کے مفادات کے تابع ہے؟




KWSC کے دعوے پر شکوک
KWSC کا کہنا ہے کہ پائپ لائن کا پھٹنا دباؤ کی وجہ سے ہوا، لیکن عوام اور ماہرین اس بیان پر یقین نہیں کرتے۔ کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ پانی کی مافیا اور KWSC کے اندر موجود بدعنوان عناصر کا سازشی کھیل تھا، جس کا مقصد مصنوعی قلت پیدا کر کے ٹینکرز کی فروخت بڑھانا تھا۔ اگر یہ سچ ہے، تو کیا اس میں ملوث افراد کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی؟
شفافیت کا فقدان اور احتساب کی ضرورت
کراچی کا پانی کا نظام نہ صرف ناکارہ ہے، بلکہ انتہائی غیرشفاف بھی۔ اداروں کی نااہلی، بدعنوانی اور مافیا کے ساتھ ملی بھگت نے شہریوں کو بنیادی سہولت سے محروم کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کب تک عوام کو اس نظام کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا؟ کیا کبھی اس شہر میں پانی کی منصفانہ تقسیم ہو پائے گی؟
حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس بحران کی تحقیقات کریں، ٹینکر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کریں، اور پانی کی سپلائی کے نظام کو شفاف بنائیں۔ ورنہ، یہ شہر ایک بار پھر اسی طرح کے بحران کا شکار ہوتا رہے گا، جہاں طاقتور پانی خرید لیں گے، اور غریب پیاسے مر جائیں گے۔























