کراچی میں آبی بحران: میئر مرتضیٰ وہاب کے کردار پر سوالات

کراچی میں آبی بحران: میئر مرتضیٰ وہاب کے کردار پر سوالات

کراچی: کراچی کے عوام کو شدید آبی بحران کا سامنا ہے، لیکن میئر کراچی اور کے ڈبلیو ایس سی کے سربراہ مرتضیٰ وہاب کی جانب سے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کے کوئی واضح اشارے نظر نہیں آ رہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ میئر کراچی کے غیر سنجیدہ رویہ اور غیر فعال کارکردگی نے صورتحال کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے، جبکہ کے ڈبلیو ایس سی کے اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مورتضیٰ وہاب باقاعدگی سے اپنے دفتر بھی نہیں آتے اور نہ ہی آبی بحران کے حل کے لیے کسی جامع حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔

میئر کراچی کی غیر موجودگی اور غیر سنجیدگی
کے ڈبلیو ایس سی کے کئی اہلکاروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ میئر مورتضیٰ وہاب کو بارہا آبی بحران کی سنگینی سے آگاہ کیا گیا، لیکن وہ اس مسئلے کو سمجھنے یا حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ ایک سینئر انجینئر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “میئر صاحب کے پاس تمام رپورٹس اور تجاویز موجود ہیں، لیکن وہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھا رہے۔ ان کا دفتر میں وقت گزارنا بھی معمول کی بات نہیں، جس کی وجہ سے فیصلہ سازی کا عمل سست پڑ گیا ہے۔”

عوامی غم و غصہ اور پیپلز پارٹی کو نقصان
شہریوں کا غصہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے، اور پیپلز پارٹی کے کارکنان بھی میئر کی کارکردگی پر حیران و پریشان ہیں۔ پیپلز پارٹی کے کئی رہنماؤں نے نجی طور پر اعتراف کیا ہے کہ مورتضیٰ وہاب کی غیر سنجیدہ پالیسیوں کی وجہ سے پارٹی کی شہری سطح پر بدنامی ہو رہی ہے۔ ایک کارکن نے کہا، “اگر میئر صاحب متاثرہ علاقوں میں جاکر عوام سے بات کریں، ان کے مسائل سنیں، اور ٹھوس اقدامات کریں، تو صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ لیکن ان کی غیر موجودگی عوامی غصے کو ہوا دے رہی ہے۔”

کیا میئر کراچی عوامی رابطہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں؟
شہریوں اور سیاسی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مورتضیٰ وہاب عوامی رابطے سے کترا رہے ہیں۔ کراچی کے کئی متاثرہ علاقوں میں لوگ احتجاج کر رہے ہیں، لیکن میئر صاحب کا ان علاقوں میں جا کر عوام کو یقین دہانی کرانے یا کام کی نگرانی کرنے کا کوئی منظر نظر نہیں آتا۔ ایک مقامی رہائشی نے شکایت کرتے ہوئے کہا، “اگر میئر صاحب خود گرمی میں کھڑے ہو کر پانی کی سپلائی بحال کرنے کی کوشش کریں، تو عوام کو لگے گا کہ ان کے لیے کوئی کام کر رہا ہے۔ لیکن اب تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ انہیں عوام کی پریشانی سے کوئی سروکار ہی نہیں۔”

سوال یہ ہے کہ آخر میئر کراچی کہاں ہیں؟
عوام، سیاسی حلقوں اور کے ڈبلیو ایس سی کے اہلکاروں کے ذہن میں یہ سوال بار بار ابھر رہا ہے کہ آخر میئر کراچی اس بحران کے دوران کہاں ہیں؟ کیا وہ اپنے فرائض سے بھاگ رہے ہیں؟ اگر وہ سنجیدہ نہیں ہیں، تو پھر انہیں اس عہدے پر برقرار رکھنے کا کیا جواز ہے؟

نتیجہ:
کراچی کا آبی بحران دن بدن سنگین ہوتا جا رہا ہے، لیکن میئر مورتضیٰ وہاب کی غیر موجودگی اور غیر سنجیدہ رویہ اس بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ اگر میئر صاحب نے فوری طور پر اپنی کارکردگی بہتر نہ کی اور عوام کے ساتھ براہ راست رابطہ نہ کیا، تو نہ صرف ان کی ذمہ داریوں پر سوالات اٹھیں گے، بلکہ پیپلز پارٹی کو بھی سیاسی طور پر نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ میئر کراچی فوری طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور شہر کو درپیش اس بحران کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔