سندھ حکومت کی ناکامی: کراچی کے لاکھوں شہری پانی کے بحران میں کیوں تنہا؟

سندھ حکومت کی ناکامی: کراچی کے لاکھوں شہری پانی کے بحران میں کیوں تنہا؟

یہ سندھ حکومت اور وزیراعلیٰ سندھ کے لیے ایک بڑی ناکامی تھی کہ کراچی یونیورسٹی کے قریب بلک واٹر سپلائی لائن پھٹنے کے بعد متاثرہ علاقوں کے غریب عوام کو پانی فراہم کرنے کا کوئی بیک اپ پلان موجود نہیں تھا۔ گزشتہ 7 دنوں سے گلشن اقبال، ایف بی ایریا، مختلف بلاکس، لیاقت آباد، پرانے علاقوں اور دیگر متصل علاقوں کے لاکھوں شہریوں کو پانی کی قلت کا سامنا ہے، لیکن نہ سندھ حکومت اور نہ ہی کے ایم سی نے مفت ٹینکرز فراہم کر کے عوام کو ریلیف دیا۔

عوام سوال کر رہے ہیں کہ ہم حکومت کو ٹیکس کس مشکل وقت کے لیے دیتے ہیں؟ جب ہماری بنیادی ضروریات پوری کرنے کی ضرورت تھی، تو حکومت کہاں تھی؟ وزیراعلیٰ سندھ، میئر کراچی اور دیگر منتخب نمائندے کہاں غائب ہو گئے؟ جب پانی جیسی بنیادی ضرورت کے لیے عوام مدد کے لیے پکار رہے تھے، تو کوئی بھی سیاستدان ان کے درمیان نظر نہیں آیا۔

سوال یہ ہے کہ سندھ حکومت اور کے ایم سی نے اتنی گنجان آبادی والے علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر پانی کی فراہمی کا کوئی ٹھوس منصوبہ کیوں نہیں بنایا؟ غریب شہری مہنگے ٹینکرز نہیں خرید سکتے۔

حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے شہریوں کی مدد کے لیے فوری اقدامات کرتی۔ لیکن بدقسمتی سے، عوام کو ایک بار پھر نظرانداز کیا گیا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ اور متعلقہ حکام اس ناکامی کی ذمہ داری قبول کریں اور عوام کو بتائیں کہ اتنا بڑا بحران ہونے کے باوجود انہوں نے کراچی کے شہریوں کو بنیادی سہولت فراہم کرنے میں کیوں ناکامی کا مظاہرہ کیا؟