
قائم مقام گورنر اور سپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ کا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سی سی آئی ارکان سے اظہارِ تشکر
ہم نے وعدہ کیا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں سندھ کے عوام کو ان کا حق دلوائیں گے۔ سید اویس قادر شاہ
آج مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں کینالوں کا دیرینہ مسئلہ حل ہوگیا۔ اسپیکر سندھ اسمبلی
ارسا کی جانب سے پنجاب حکومت کو دیا گیا پانی دستیابی کا سرٹیفکیٹ واپس لیا جانا، سندھ کے عوام کی بڑی کامیابی ہے۔ اسپیکر اویس قادر شاہ
سندھ کے عوام کے حقوق کی بحالی پر اللہ تعالیٰ کا شکر اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی شکریہ۔ سید اویس قادر شاہ
سندھ کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ سپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ
جاری کردہ: اسد علی ڈاہری
پبلک ریلیشنز آفیسر (پی آر او)
اسپیکر سندھ اسمبلی
============================
مشترکہ مفادات کونسل کی باہمی منظوری کے بغیر کوئی نیا نہر منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا
مشترکہ مفادات کونسل کی باہمی منظوری کے بغیر کوئی نیا نہر منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا
مشترکہ مفادات کونسل نے نئی نہریں بنانے کا فیصلہ مسترد کر دیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 52 واں اجلاس ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کی باہمی منظوری کے بغیر کوئی نیا نہر منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا، تمام صوبوں کےدرمیان مفاہمت کے بغیر وفاقی حکومت اس سلسلے میں مزید پیشرفت نہیں کرے گی۔
اعلامیے کے مطابق وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں سے مل کر زرعی پالیسی کا روڈ میپ تیار کر رہی ہے، حکومت ملک میں آبی وسائل کے انتظامی ڈھانچے کی ترقی کے لیے طویل المدتی متفقہ روڈ میپ تیار کر رہی ہے، تمام صوبوں کے پانی کےحقوق1991 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے میں محفوظ ہیں، یہ حقوق2018 کی پانی پالیسی میں فریقین کی رضا مندی کے ساتھ محفوظ کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبوں کے تحفظات دور کرنے، غذائی و ماحولیاتی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے، کمیٹی میں وفاق اور تمام صوبوں کی نمائندگی ہوگی، کمیٹی طویل المدتی زرعی اور صوبوں کی آبی ضروریات کے حل تجویز کرے گی، تجویز کیے گئے حل دونوں متفقہ دستاویزات کے مطابق ہوں گے۔
پہلگام واقعے کے بعد بھارتی یکطرفہ غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی بھرپور مذمت
مشترکہ مفادات کونسل نے قومی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے بھارتی غیر قانونی اقدامات اور بھارت کی جانب سے کسی بھی جارحیت کے تناظر میں پورے ملک و قوم کیلئے اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیا۔
کونسل کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک پر امن اور ذمہ دار ملک ہے لیکن ہم اپنا دفاع کرنا خوب جانتے ہیں، تمام صوبائی وزراء اعلیٰ نے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف یک زبان ہو کر اتحاد و قومی یکجہتی کا اظہار کیا۔
مشترکہ مفادات کونسل نے سینیٹ میں بھارتی غیر قانونی و غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے خلاف قرارداد کی بھر پور پذیرائی کی اور کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور پاکستان کا پانی روکنے کی صورت میں پاکستان اپنے آبی مفادات کے تحفظ کا حق رکھتا ہے۔
اجلاس کو سی سی آئی سیکریٹیریٹ کی جانب سے مشترکہ مفادات کونسل کی مالی سال 2021-2022 ، مالی سال 2022-2023 اور مالی سال 2023-2024 کی رپورٹس پیش کی گئیں، مشترکہ مفادات کونسل نے سی سی آئی سیکریٹیریٹ ریکروٹمنٹ رولز کی منظوری دے دی۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی سال 2020-2021, سال 2021-2022 ، سال 2022-2023 اور اسٹیٹ آف انڈسٹری کی سال 2021, 2022 اور 2023 کی رپورٹس بھی پیش کی گئیں۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف ، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام ، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔
============================
بھارت نے پھر بغیر ثبوت الزام لگایا، بلاول بھٹو زرداری
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کےلیے اندرونی چیلنجز سے توجہ ہٹانے کےلیے پاکستان پر الزام تراشی آسان ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دیگر ممالک کی طرح پاکستان نے بھی پہلگام حملے کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا شکار ملک ہیں اور ہم دہشت گردی کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں، افسوسناک ہے کہ بھارت نے ایک بار پھر بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام لگایا ہے۔
پی پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ بھارت جو الزامات پاکستان پر لگا رہا ہے وہ سب پرانے ہیں، پاکستان اور بھارت کوئی بھی مسئلہ بات چیت سے حل کرسکتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اندرونی چیلنجز سے توجہ ہٹانے کےلیے دوسروں پر الزام تراشی بھارت کےلیے آسان ہے، نئی دہلی کو اسلام آباد سے متعلق اپنے موقف پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان کی بات چیت کی تمام تر کوششوں کو بھارت نے مسترد کر دیا، بھارتی الزامات فرسودہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی پالیسی پاکستان کے ساتھ بات چیت سے انکار پر مبنی ہے، اگر بھارت واقعی کسی حل کا خواہاں ہے تو اسے اپنی پالیسی بدلنا ہوگی۔
پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ عالمی سطح پر آبی سفارت کاری کا سنہری معیار سمجھا جاتا ہے، بھارت کا معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبردار ہونا دنیا کےلیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان پورے خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے سوا کچھ نہیں چاہتا، پاکستان نے غیر جانبدارانہ تحقیقات میں شامل ہونے کی پیشکش کی ہے تاکہ سچ سامنے آئے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے، جب بھارت میں کوئی دہشت گردی ہوتی ہے، بھارتی حکومت پاکستان پر الزام لگادیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں عام لوگوں اور اُن کے رشتہ داروں کے گھروں کو تباہ کررہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں عوام کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔























