“نئی رہائشی سوسائٹیز: تہذیب کی ضرورت یا مجبوری؟

تحریر: سیدہ سنمبلہ بخاری
===============

“معاشرت وہ خوشبو ہے جو افراد کے حسنِ سلوک سے پھوٹتی ہے؛
جہاں بدبو ہو، وہاں رہائش کے محلات بھی بے معنی ہیں۔”

برصغیر کا محلہ کلچر کئی صدیوں سے لوگوں کی اجتماعی زندگی کا محور رہا ہے۔ صحنوں میں لگے آم کے درخت، گلیوں میں بچوں کی کھیلتی ٹولیاں، اور گھروں کی دہلیزوں پر بیٹھی عورتوں کی گپ شپ — یہ سب اس معاشرت کا حصہ تھے۔ مگر جیسے جیسے شہروں کا پھیلاؤ بڑھا، ویسے ویسے رہنے کے انداز میں تبدیلی آتی گئی۔ آج، ہم بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچ اے، اور دیگر جدید سوسائٹیز میں ایک بالکل نیا طرزِ زندگی دیکھتے ہیں۔ اس تبدیلی نے ہمارے سماجی رویوں کو کس حد تک متاثر کیا؟ آئیے ایک تنقیدی جائزہ لیتے ہیں۔

محلہ کلچر: روایتی معاشرت کی خوبیاں

محلہ کلچر کی کئی خوبیاں تھیں جنہوں نے ایک مضبوط سماجی ڈھانچہ تشکیل دیا:
• اجتماعی تحفظ: ہر کوئی ایک دوسرے کی خبر رکھتا، چوری ڈاکے جیسے جرائم کی شرح کم تھی۔
• سماجی روابط: دکھ سکھ میں شرکت، شادی بیاہ میں تعاون، بچوں کی تربیت میں اجتماعی کردار۔
• معاشرتی ہم آہنگی: ہر طبقے کے لوگ ایک ساتھ مل جل کر رہتے تھے۔

محلہ کلچر کی خامیاں

تاہم، اس کلچر کے سائے میں کچھ مسائل بھی پروان چڑھے:
• نجی معاملات میں مداخلت: ہر کوئی دوسرے کے ذاتی معاملات میں ٹانگ اڑاتا۔
• چغلی اور سازشیں: خواتین کا گلی محلوں میں بیٹھ کر بلاوجہ کی باتوں پر لڑائی جھگڑے کروانا۔
• عدم برداشت: معمولی تنازعات بڑے جھگڑوں میں بدل جاتے۔

یہ رویے نوجوان نسل پر برا اثر ڈالتے اور معاشرے میں عدم برداشت کو فروغ دیتے۔

نئی رہائشی سوسائٹیز کا ظہور

شہری آبادی میں اضافے، بڑھتے ہوئے جرائم، اور معیارِ زندگی کی بہتری کی خواہش نے جدید سوسائٹیز کی بنیاد رکھی۔

اہم حقائق:
• پاکستان میں 2023 تک تقریباً 35 فیصد شہری آبادی گیٹڈ کمیونٹیز میں مقیم ہے۔
• بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچ اے، اور نیو لاہور سٹی جیسے منصوبوں میں سالانہ 8 فیصد کی شرح سے ترقی ہو رہی ہے۔
جدید سوسائٹیز کے فوائد
• سیکیورٹی کا اعلیٰ نظام: گارڈز، CCTV، اور بند سوسائٹیز کی سہولت۔
• پرائیویسی کا تحفظ: کوئی غیر ضروری مداخلت نہیں۔
• بہتر بنیادی سہولیات: پارکس، ہسپتال، اسکول اور کمیونٹی سینٹرز۔
• معاشرتی وقار: تہذیب یافتہ برتاؤ کی روایت۔

روایتی خواتین اور سوسائٹی کا چیلنج

پرانے محلوں کی خواتین جو گلی میں بیٹھ کر باتیں کرنے اور ہر آنے جانے والے پر تبصرہ کرنے کی عادی تھیں، ان کے لیے یہ نیا ماحول ایک چیلنج بن گیا۔ یہاں قوانین سخت ہیں:
• گلی میں بیٹھنے پر ممانعت
• ہمسایوں پر تبصروں کی حوصلہ شکنی
• شکایت کی صورت میں سوسائٹی جرمانہ عائد کر سکتی ہے

یہ تبدیلی عورتوں کے سماجی کردار میں تہذیب اور وقار لانے کا باعث بنی ہے۔
نئی رہائشی سوسائٹیز: کچھ نقصانات
• معاشرتی تنہائی: پڑوسیوں سے دوری، جذباتی فاصلہ۔
• مصنوعی زندگی: قدرتی تعلقات کی کمی۔
• اعلیٰ لاگت: عام شہری کے لیے مشکل رسائی۔

نتیجہ: تہذیب اور روایت کا امتزاج ضروری

جہاں جدید سوسائٹیز نے ہمیں معیارِ زندگی، تحفظ اور سہولتیں فراہم کی ہیں، وہاں ہمیں اپنی روایتی خوبصورتی — یعنی ہمدردی، خوش اخلاقی، اور باہمی احترام — کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم نئی جگہوں پر رہتے ہوئے نہ صرف قوانین کی پاسداری کریں بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں سے اخلاق، احترام اور گرمجوشی سے پیش آئیں۔ محلے کی وہ روایات جو انسان دوستی، خلوص اور مدد پر مبنی تھیں، انہیں نئے انداز میں زندہ رکھا جا سکتا ہے۔

“رہائشی سوسائٹیز ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ
رہائش کا مقام جتنا بھی شاندار ہو، اگر کردار میں تہذیب نہ ہو،
تو وہ محل بھی ویران لگتے ہیں۔”