
پریس ریلیز
صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ کی گورنمنٹ بابا گرو نانک ہائی اسکول کی سو سالہ تقریبات میں خصوصی شرکت
بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشتگردی کے الزام کی شدید الفاظ میں مذمت
ننکانہ صاحب27 اپریل: صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے گورنمنٹ بابا گرو نانک ہائی اسکول ننکانہ صاحب کے سو سال مکمل ہونے پر منعقدہ خصوصی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے اسکول کی صد سالہ تاریخ کو علم و روشنی کا روشن باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ “گورنمنٹ گرو نانک ہائی اسکول صرف ایک تعلیمی ادارہ ہی نہیں، بلکہ بابا گرو نانک کی تعلیمات کا عملی مظہر ہے جو علم، برداشت، انسانیت اور رواداری پر زور دیتی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ “تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہے اور اس اسکول نے نسل در نسل طلباء کو علم، شعور اور کردار سازی کا تحفہ دیا ہے۔ تقریب کے دوران صوبائی وزیر نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “جب بھی پاکستان دنیا کو امن، بھائی چارے اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام دیتا ہے، بھارت ایسے موقعوں پر جھوٹے الزامات اور اوچھے ہتھکنڈوں سے پاکستان کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت پر خود عالمی سطح پر دہشتگردی میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات لگ چکے ہیں۔ کینیڈا کے وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں بھارت پر اپنے ملک میں دہشتگردی کرانے کا الزام لگایا، امریکہ، قطر اور دیگر ممالک نے بھی ایسے ہی الزامات عائد کیے۔ جبکہ بھارت کے اندر سکھ، مسلمان اور مسیحی خود کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں، ایسے میں پاکستان پر الزامات لگانا عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔
صوبائی وزیر نے بابا گرو نانک دیو جی کی بین المذاہب ہم آہنگی، علم دوستی اور امن پر مبنی تعلیمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ “بابا جی کا پیغام آج بھی دنیا کے لیے رہنمائی کا چراغ ہے۔ سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے اسکول کی انتظامیہ، اساتذہ، اور طلباء کو مبارکباد دیتے ہوئے اس تاریخی سنگِ میل کو ایک فخر کا لمحہ قرار دیا اور حکومت پنجاب کی جانب سے اقلیتوں کی تعلیم و ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
تقریب میں اسکول کے سابق و حالیہ طلباء، اساتذہ، مقامی رہنماؤں، سکھ کمیونٹی اور دیگر مذاہب کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔























