
از۔۔۔ ظہیرالدین بابر
پہلگام میں ہونے والی دہشت گردی کاروائی کی مذمت سرحد کے آرپار موجود ہر باضمیر انسان کی جانب سے کی جارہی ہے ، نہتے اورمصوم بھارتی شہریوں کا قتل عام کرکے دہشت گردوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیکھایا کہ ان کے لیے انسانی جان کی حرمت کی کوئی اہمیت نہیں، ستم ظریفی یہ ہے کہ پہلگام سانحہ کو مودی سرکار جو رنگ دے چکی وہ قابل مذمت ہونے کے ساتھ ساتھ باعث تشویش بھی ہے ، مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے دہشت گردی کی اس کاروائی کے بعد جس طرح سے بےچے پی اور اس کے ہم خیال میڈیا کی جانب سے پاکستان پر الزامات کی بارش جاری ہے وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار ریاست کو ہرگز زیبا نہیں ، مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ کو ختم کرنے کا اعلان دراصل بھارت کی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے، اس پس منظر میں پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس مودی سرکار کو دو ٹوک پیغام دینے میں کا کام کرگیا ، وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے اس اہم اجلاس میں نئی دہلی کو واشگاف الفاظ میں بتا دیا گیا کہ پہلگام میں فالس آپریشن کے بعد بھارت پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کا مرتکب ہورہا ہے وہ سیاسی اور سفارتی آداب کے صریحا خلاف ہے ، مودی کو یہ بھی بتا دیا گیا کہ بھارت کی کسی قسم کی جارحیت کا پاکستان فوری اور بھرپور جواب دے گا، قومی سلامتی کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے پانی کے رخ کو موڈنے یا پھر روکنے کے عملا کو جنگ تصور کیا جائے گا لہذا پاکستان مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے ، مذکورہ اجلاس میں واہگہ بارڈر سمیت بھارت کے ساتھ ہر قسم کی تجارت بند کرتے ہوئے 30 اپریل تک تمام بھارتی شہریوں کو پاکستان سے نکل جانے کا حکم بھی دے دیا گیا ۔ بھارت کے ساتھ پاکستان نے نہ صرف اپنی تجارت معطل کرنے کا اعلان کیا بلکہ پاکستان کے راستے افغانستان کے ساتھ بھی نئی دہلی کے روٹ بند کردئیے گے ۔ ماہرین کے مطابق پاکستانی اقدام بھارتی معیشت پر بلاشبہ منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے ، پاکستان نے بھارتی الزام تراشیوں کا ایک اور ٹھوس جواب دیتے ہوئے بھارت کی سرکاری اور نجی ائرلائنز کو فوری طور پر اپنی حدود استعال کرنے سے روک دیا ہے ، ماضی میں جب بھی پاکستان نے بھارتی طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روکا تو اس کے نتیجے میں پڑوسی ملک کو کروڈوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا، پاکستان نے ایک اور پیش رفت یہ بھی کی بھارتی اتاشیوں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر 30 اپریل تک پاکستان چھوڈنے کی ہدایت جاری کردیں، قومی سلامتی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں واشگاف الفاظ میں کہا گیا کہ پاکستان پرامن ملک ہے جو دہشت گردی کی ہر قسم کا مخالف ہے چنانچہ امن کو ہرگز کمزوری نہ سمجھتے ہوئے نئی دہلی کو ہوش کے ناخن لینے چاہے ،”
بلاشبہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے ، سالوں سے نہیں بلکہ کئ دہائیوں سے عوام اور سیکورٹی فورسز کے آفیسر اور جوان اپنی جانوں کا نذارنہ پیش کررہے ہیں، پہلگام واقعہ کے بعد مثالی صورت حال یہ ہوتی کہ بھارت حملے کے ثبوت پاکستان کے سامنے رکھتا اور پھر اسلام آباد سے غیر اعلانیہ نہیں بلکہ اعلانیہ تعاون کا طلب گار ہوتا، افسوس کہ مودی سرکار کا رویہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس تاثر مہر تصدیق ثبت کررہا پہلگام میں ہونے والی کاروائی خود بھارتی ایجنسیوں کی سوچی سمجھی کاروائی ہے جس کا مقصد ایک طرف تو ہندو انتہاپسند حلقوں کی حمایت حاصل کرنا ہے تو دوسری جانب پاکستان کو علاقائی اور عالمی سطح پر بدنام کرنے کی مہم جاری وساری رکھنا، بے جے پی سرکار اس حقیقت سے انحراف کرنے کی مرتکب ہورہی ہے کہ دوست تو بدلے جاسکتے ہیں مگر پڑوسی نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت جہاں مسلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتی ہے وہی وہ بھارت سمیت سب ہی ہمسائیوں کے ساتھ دوستانہ خوشگوار تعلقات کی خواہاں ہے ، خبیر تا کراچی عام پاکستانی چاہتا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی موجودگی کو یقینی بنائے ، ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ آج بھارت میں امن پسند لوگوں کو آگے بڑھ کر مودی سرکار کی جانب سے پیدا کیے جانے والے اس جنون کو کم کرنے کی ضرورت ہے ، سرحد کے دونوں اطراف پائے جانے والے مسائل بجا طور پر تقاضا کرتے ہیں کہ دونوں ممالک ہوشمندی کا مظاہرہ کریں ، مودی سرکار کسی طور پر اس حقیقت کو فراموش نہیں کرسکتی کہ اس کی سیاست کی بنیاد ہی اسلام ، پاکستان اور مسلمان دشمنی پر مبنی ہے، تین مرتبہ وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہونے والے بھارتی وزیر اعظم اپنے وعدوں کو وفا کرنے میں ناکام رہے ہیں، لہذا نریندر مودی کی سیاسی ضرورت تھی کہ وہ کچھ ایسا کرے کہ ایک بار پھر ہندو انتہاپسند اس کی حمایت میں خم ٹھونک کر میدان میں نکل آئیں ، اس پس منظر میں بہت لازم ہے کہ بطور قوم ہم اپنے اندرونی تنازعات پر قابو پائیں مثلا سوچنا ہوگا کہ آخر کیوں ہم دہائیوں سے پانی کے معاملہ میں خودکفیل ہونے میں ناکام رہے ، یقینا درپیش چیلنج ایک بار پھر ہمیں دیرینہ ملکی مسائل حل کرنے کی یاد دہانی کروا رہا ہے ،























