
1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگ کی وجہ سے قوم میں جذبہ اتفاق و اتحاد پیدا ہوا تھا۔ سیاسی جماعتوں کا اتحاد اور جنگ میں کردار قابل دید تھا۔ کونسل مسلم لیگ، جماعت اسلامی ، نظام اسلامی پارٹی عوامی لیگ اور نیشنل عوامی پارٹی تمام سیاسی اختلافات بھلا کر پاکستان کے دفاع میں آگئیں حالاں کہ سیاسی نظریات میں ایک دوسرے کے مخالف تھیں۔ پوری قوم نے سیاسی، مذہبی اور حکومتی اختلافات بھلا کر یک جان اور ایک قوم ہونے کا ثبوت دیا حالاں کہ اس سے پہلے خاص طور پر صدر مملکت ایوب خان کے ایبڈو قانون کی وجہ سے پاکستانی سیاست انتشار کا شکار ہو چکی تھی ، جنگ کے دوران ہر مکتبہ فکر اور ہر شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں نے اپنے تئیں بخوبی اپنا اپنا کردار نبھایا تھا اعلان جنگ کے بعد پوری قوم اپنے دفاع کے لیے مستعد ہوگئی تھی۔ ناظم آباد میں جگہ جگہ خندقیں کھودی جارہی تھیں۔ گھروں میں زمینوں تخت اور چار پائیوں کے نیچے پناہ گاہیں بنائی گئی تھیں ۔ خطرے کا الارم بجھتے ہیں
بچوں کو ڈرا دھمکا کر ان کے نیچے لٹا دیا جاتا تھا۔ سر شام گھروں میں کھانا تیار کر لیا جاتا تھا۔ گھروں کے اندر اور باہر ریتی بجری کے ڈھیر لگا دیے گئے تھے۔ سفید اور اونچی عمارتوں کا رنگ تبدیل کر دیا گیا تھا۔ گھروں کی دیواروں اور چھتوں پر مٹی کا رنگ چڑھادیا گیا تھا۔ رات کو مکمل بلیک آوٹ کرنا پڑتا تھا۔ ۱۹۶۵ء کی جنگ کے دوران ناظم آباد پولیس اسٹیشن سے ملحقہ سول ڈیفنس کا دفتر بنایا گیا تھا اور علاقے کی سطح پر وارڈ بنائے گئے تھے۔ جہاں شہری دفاع میں شمولیت کے خواہش مند افراد کو بھرتی کیا جاتا تھا۔ رضا کارانہ طور پر بھرتی ہونے والے افراد کو مسلح افواج کا کیپیٹن یا میجر سطح کا افسر شہری دفاع کی تربیت دیتا تھا۔ رضا کاروں کو دن کے وقت کھلے میدانوں میں فوجی طرز پر پریڈ کرائی جاتی تھی اور اسلحہ چلانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تربیت کی جاتی تھی۔ سول ڈیفنس کے رضا کاروں کے لیے مخصوص قسم کی وردیاں تیار کی گئی تھیں جو پولیس کے یونی فارم سے ملتی جلتی تھیں۔ وردیاں پہن کر شہری دفاع کے رضا کار اپنے محلوں میں چاق چوبند ہو کر ڈیوٹی انجام دیتے تھے رات کے وقت سڑکوں اور گلیوں میں پریڈ کیا کرتے تھے۔ اخباری اطلاع کے مطابق ڈپٹی کمشنر کراچی نے جو شہری دفاع کے کنٹرولر بھی ہیں انھوں نے فوری طور پر روشنی اور آواز پر کنٹرول کا آرڈر نافذ کر دیا تھا تا کہ دشمن کی کارروائی کے خلاف شہریوں کا تحفظ کیا جاسکے۔ اس حکم کے مطابق پورے ضلع میں تا اطلاع ثانی غروب آفتاب سے لے کر طلوع آفتاب تک مستقل طور پر بلیک آؤٹ رکھا گیا تھا اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والے کو چھے ماہ قید یا جرمانہ یا دونوں کی سزا دی جاسکتی تھی۔ اس حکم نامے کے تحت عمارتوں ، بحری جہازوں میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا تھا کہ کسی زاویے سے روشنی کی کوئی کرن بھی باہر سے نظر نہ آسکے، اگر اندرونی روشنیاں مناسب طریقے پر ڈھانپیں نہ جاسکیں تو انھیں گل کر دیا جاتا تھا۔ موٹر گاڑیوں کی تمام اندرونی لائیں منقطع کر دی گئی تھیں اور بیرونی بیتیوں پر سیاہ کاغذ یا کتالگا دیا جاتا
تھا اور صرف ڈیڑھ انچ حصہ کھلا رکھا جاتا تھا۔ اسی طرح ٹیکسیوں کے میٹر بھی ڈھانپ دیے گئے تھے تاکہ ان سے روشنی باہر نہ آسکے ۔ فائر ایمبولینس اور شہری دفاع کی گاڑیاں مدھم روشنیاں استعمال کرتی تھیں۔ اسی طرح علاقے میں چلنے والی فیکٹریوں کو بھی کریش بلیک آؤٹ کی ہدایت کی گئی تھیں ۔ جنگ کے دوران کئی کئی بار سائرن بجائے جاتے تھے اور مکمل تاریکی میں صرف توپوں کے دھماکوں کی آواز میں سنائی دیتی تھیں۔ تاریک آسمان دھماکوں کے ساتھ سرخ و زرد گولوں کی شیلنگ سے سرخ ہو جاتا تھا۔ اس موقعے پر لوگ اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے تھے۔ جنگ کے دوران لوگوں کا جذبہ دیدنی تھا۔ آپس کے اختلافات ان دنوں دوستی میں بدل گئے تھے ۔ سب ایک دوسرے کا خیال رکھنے لگے تھے۔ ریڈیو سے قومی و ملی نغمے نشر ہوتے تھے اور جنگ کی صورت حال کو جاننے کے لیے محلے کے بزرگ اور نوجوان رات ۸ بجے گھروں کے باہر ریڈیو سننے کے لیے جمع ہوتے تھے ۔ ناظم آباد نمبر دو میں ۱۹۶۵ء اور ۱۹۷۱ء کی جنگ کے دوران خالی میدان میں خندقیں بھی بنائی گئی تھیں۔ ۱۹۷۱ء کی جنگ کے دوران بھارتی افواج نے شہری علاقوں میں بمباری کی تھی۔ ناظم آباد نمبر تین ہمدرد دواخانہ کے نزدیک بجری کے ٹیلے میں ایک بھارتی ہم آ کر گرا تھا جبکہ پاپوش نگر میں گرنے والے شیل لگنے سے ایک خاتون زخمی ہوگئی تھیں ۔ اسی طرح ناظم آباد نمبر دو میں المرتضی اسپتال موجود و بقائی شوگر اسپتال کے نزدیک بجلی کے پول پر بھی ایک شیل آ کر گرا تھا۔ جنگ کے دران جہاں جہاں شیل یا بم گرائے گئے تھے لوگ ان مقامات کو دیکھنے دور دور سے بڑی تعداد میں پہنچے تھے ۔ جنگ کے دوران شہر اور ناظم آباد میں جرائم کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔ خصوصاً چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں بالکل ختم ہوگئی تھیں اس صورت حال نے جہاں پولیس کو عضو معطل بنادیا تھا وہاں سر کاری راشی افسران و عملے کا رخ مساجد کی طرف ہو گیا تھا۔ کتاب ! شکستہ تہذیب (ناظم آباد اور نارتھ ناظم آباد تاریخ- شخصیات – واقعات) شاہ ولی اللہ جنیدی























