بھارتی جارحیت، پہلگام واقعہ اور پاکستان کی عوام و افواج کا ناقابلِ شکست اتحاد

تحریر ©: محمد شہباز انصاری
ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر
ٹوبہ ٹیک سنگھ

بھارتی جارحیت، پہلگام واقعہ اور پاکستان کی عوام و افواج کا ناقابلِ شکست اتحاد
بھارت کی جانب سے مسلسل جاری جارحیت نہ صرف جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال رہی ہے بلکہ عالمی ضمیر کے لیے بھی ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی پامالی اور حالیہ پہلگام واقعہ ان اقدامات کی ایک اور کڑی ہے، جس میں بھارتی حکومت نے ایک بار پھر بغیر کسی تحقیق اور ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشی کر کے اپنی داخلی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔
دفتر خارجہ پاکستان نے پہلگام واقعے پر بھارت کی الزام تراشی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بھارت کی ایک پرانی اور ناقابلِ قبول روش ہے کہ ہر ناخوشگوار واقعے کا الزام فوری طور پر پاکستان پر عائد کر دیا جاتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ الزامات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ بھارت کے اندرونی حالات اور انتہاپسند پالیسیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش بھی ہیں۔ پہلگام میں پیش آنے والا واقعہ دراصل بی جے پی حکومت کی شدت پسندی، مذہبی تعصب اور اقلیت دشمن پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔موجودہ بھارتی حکومت، بالخصوص بی جے پی، نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے پورے ملک کو انتہا پسندی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف تشدد، میڈیا پر قدغن، عدلیہ پر دباو¿ اور سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں اب بھارتی سیاست کا معمول بن چکی ہیں۔ اسی پس منظر میں پہلگام جیسے واقعات جنم لیتے ہیں اور پھر ان کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیا جاتا ہے تاکہ دنیا کی نظر اصل حقائق سے ہٹ جائے۔
پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان نہ صرف دہشت گردی کا خود شکار رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر اس لعنت کے خاتمے کے لیے کلیدی کردار بھی ادا کرتا رہا ہے۔ ایسے میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر جھوٹے الزامات نہ صرف غیر منطقی ہیں بلکہ خطے میں تناو¿ کو مزید بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔پاکستان کی افواج نہ صرف ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہیں بلکہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی اور روشن مثال 27 فروری 2019 کا واقعہ ہے، جب بھارتی فضائیہ کے ونگ کمانڈر ابھینندن کا طیارہ پاکستانی حدود میں مار گرایا گیا۔ پاکستان کی فضائیہ نے نہ صرف اپنی فضائی برتری کا عملی مظاہرہ کیا بلکہ ابھینندن کو گرفتار کرنے کے بعد بین الاقوامی قوانین کے تحت عزت و احترام کے ساتھ واپس بھارت کے حوالے کر کے دنیا کو امن کا واضح پیغام بھی دیا۔ یہ واقعہ پاکستان کی پیشہ ورانہ قابلیت، دفاعی صلاحیت اور اخلاقی برتری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔پاکستان کی افواج اور قوم کا رشتہ محض دفاعی ضرورت کا نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا مقدس بندھن ہے جس میں قربانی، اعتماد اور حب الوطنی کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔ ہر محاذ پر، جب بھی پاکستان کی سرحدوں کو خطرہ لاحق ہوا، فوج نے اپنے خون سے اس وطن کے سر فخر سے بلند کیے اور قوم نے اپنے افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اس بات کا ثبوت دیا کہ ہم ایک جسم اور ایک روح ہیں۔یہ جذبہ اور عزم وہ ہے جو پاکستان کے ہر فرد کے دل میں بستا ہے، اور جب دشمن نے 27 فروری 2019 کو اپنی جارحیت کی کوشش کی، تو پاکستان کی افواج نے اپنی طاقت اور عزم کا مظاہرہ کر کے دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ اس دن پاکستان کی فضائیہ نے دشمن کا طیارہ مار گرایا اور بھارتی پائلٹ ابھینندن کو گرفتار کیا۔ قوم کے ہر فرد نے یہ محسوس کیا کہ ہماری افواج ہمارے سروں کی محافظ ہیں، اور ہم ان کے شانہ بشانہ ہیں۔
آج جب بھارت دوبارہ الزامات کی گرد اڑا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تو پاکستان کی قوم ایک بار پھر اسی جذبے کے ساتھ کھڑی ہے کہ ہم اپنی افواج کے شانہ بشانہ ہیں اور کسی بھی جارحیت کا جواب دیں گے۔ ہم ہر سازش کو ناکام بنائیں گے اور اپنے پاکستان کی عزت و حرمت کو ہر قیمت پر محفوظ رکھیں گے۔
پاکستان زندہ باد افواج پاکستان پائندہ باد