قدرتی آفات میں جب بجلی سمیت کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کام نہیں کرتا ہے تو اُس وقت صرف ریڈیو ہی وہ واحد میڈیم ہے جو ابلاغی خدمات سرانجام دے سکتا ہے اور دیتا ہے۔

قدرتی آفات میں جب بجلی سمیت کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کام نہیں کرتا ہے تو اُس وقت صرف ریڈیو ہی وہ واحد میڈیم ہے جو ابلاغی خدمات سرانجام دے سکتا ہے اور دیتا ہے۔ یہ بات اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ڈیپارٹمنٹ آف میڈیا اسٹڈیز کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عدنان ملک نے ریڈیو پاکستان لاہور میں ریکارڈ ہونے والے اپنے ایک پاڈکاسٹ انٹرویو میں کہی ۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے معروضی حالات متقاضی ہیں کہ ہم ریڈیو جیسے ابلاغی میڈیم، خاص کر سرکاری ریڈیو کو مضبوط کرتے ہوئے اس کا بھرپور استعمال کریں۔ روایتی میڈیا کے مقابلے میں ریڈیو کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے برطانیہ، امریکہ کے اعداد و شمار پیش کیے اور کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی جہاں ڈیجیٹل میڈیا عام ہو چکا ہے، ریڈیو اب بھی اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے پاکستان میں بھی ریڈیو اسٹیشنز کی موجودگی کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ کہنا کہ ریڈیو متروک ہو رہا ہے، درست نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر عدنان ملک نے کہا کہ ریڈیو کی سب سے بڑی خوبی اس کی وسیع رسائی اور بآسانی دستیابی ہے۔ کم لاگت اور بجلی کے بغیر چلنے والے ریڈیو سیٹوں کی وجہ سے یہ معلومات کی ترسیل کا ایک قابلِ بھروسہ اور سستا ذریعہ ہے۔ انہوں نے آفات سے پہلے، دوران اور بعد میں ریڈیو کے اہم کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تباہ کاریوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جہاں فوری نوعیت کے اقدامات کی ضرورت ہے وہیں ایسے حالات میں میڈیا کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتا ہے، خصوصاً ریڈیو کا۔ پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلی کی اہمیت اور اس منظر نامے میں ریڈیو کے کردار پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر عدنان ملک نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں ریڈیو کی رسائی اسے ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم ذریعہ بناتی ہے۔ ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل دور میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق غلط معلومات کا مقابلہ کرنے میں ریڈیو کے کردار پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عدنان ملک نے کہا کہ ریڈیو ایک ایسا ذریعہ ہے جو مستند معلومات کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچا سکتا ہے۔ زیادہ تر ریڈیو سامعین ماہرین، سائنس دانوں اور مقامی تجزیہ کاروں کی آراء سننے کو ترجیح دیتے ہیں جو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غلط معلومات کے مقابلے میں زیادہ مستند ہوتی ہیں۔ کمرشل ریڈیو اسٹیشنز کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی کے مواد کو نشر کرنے کے حوالے سے ڈاکٹر عدنان ملک نے پبلک۔پرائیویٹ پارٹنرشپ اور کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلیٹی (CSR) کے تحت حل نکالنے کی تجویز دی اور حکومت سے ایسے اسٹیشنز کے لیے مالی معاونت یا ٹیکس ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ریڈیو کو قومی آفات سے نمٹنے کے منصوبوں کا بنیادی جزو قرار دینے کی ضرورت پر زور دیا اور اس حوالے سے مختلف اقدامات تجویز کیے۔ ریڈیو پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عدنان ملک نے کہا کہ یہ ملک کا سب سے پرانا اور معتبر نشریاتی ادارہ ہے جو وسیع رسائی کا حامل ہے۔ اس کا لسانی اور جغرافیائی تنوع اسے ملک کے ہر طبقے اور ہر علاقے تک رسائی فراہم کرتا ہے جو اسے ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے ایک مؤثر ذریعہ بناتا ہے۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان کو درپیش مالی مسائل اور پرانی ٹیکنالوجی جیسے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے ان رکاوٹوں کو دور کرنے اور ادارے کی صلاحیت کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔