بھارت عالمی امن کے لئے بڑا خطرہ ہے۔ مودی کی دھمکیوں پرپاکستان کا ردعمل قابل تعریف ہے۔ عالمی برادری کشیدگی کوختم کرنے میں کردارادا کرے۔ میاں زاہد حسین

(25۔اپریل۔2025)
نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، ایف پی سی سی ائی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بھارت خطے اورعالمی امن کے لئے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی دھمکیوں اوریکطرفہ کاروائیوں کے جواب میں حکومت پاکستان کا ردعمل انتہائی نپا تلا اورقابل تعریف ہے۔ پہلگام میں بھارتی ڈرامہ بے نقاب ہونے کے بعدعالمی برادری کشیدگی کے خاتمہ کے لئے اپنا کردارادا کرے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردی کومسلسل ہوا دے رہا ہے اورپاکستان کے خلاف جھوٹے الزامات اسکی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ بھارت کا مقصد پاکستان کوبدنام کرنا اوردنیا کی توجہ اپنے مظالم سے ہٹانا ہے۔ بھارت اپنے مذموم مقاصد کے لئے صرف کشمیرمیں ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کررہا ہے۔ بھارتی حکومت کے اقدامات ثابت کرتے ہیں کہ بھارت عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔ بھارت نے ہمیشہ بلوچستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کی ہے اور افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کی مدد کی ہے بھارت پاکستان میں دہشت گردی کے ذریعے مسلسل عدم استحکام پیدا کر رہا ہے جبکہ بنگلہ دیش، نیپال اورسری لنکا بھی اسکی ریشہ دوانیوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت متعدد عالمی اداروں اورکئی ممالک کی جانب سے بھارت پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سنگین الزامات لگ چکے ہیں۔ بھارت کینیڈا، امریکہ اور پاکستان میں سکھ رہنماؤں کے قتل میں بھی ملوث ہے۔ کشمیر میں 6 لاکھ بھارتی فوج کی طرف سے عورتوں، بچوں اور بزرگوں پرتشدد اورنوجوانوں کی جعلی مقابلوں میں ہلاکت عام ہے۔ اگرکوئی ملک اپنے ہی شہریوں پرظلم کرے تو وہ دنیا کے لیے کیسے پرامن ہوسکتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ اس خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑبھی بھارت نے ہی شروع کی جبکہ نریندی مودی نے نہ صرف گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا، عیسائیوں پر عرضہ حیات تنگ کیا، سکھوں کی زندگی اجیرن کی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزمہم چلائی جواب بھی جاری ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور دیگراقدامات کا بھرپورجواب دیتے ہوئے واہگہ بارڈر پوسٹ کوفوری طورپربند، ہرقسم کی تجارت اوربھارتی شہریوں کوجاری تمام ویزے معطل، بھارتی ہائی کمیشن میں سفارتکاروں اورعملہ کی تعداد کم کرنے اوربھارتی ایئرلائنزپرپاکستانی فضائی حدود کی بندش کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ پانی روکنے کے کسی بھی عمل کوجنگ تصورکیا جائے گا۔ پاکستان میں موجود تمام بھارتی شہریوں کوکہا گیا ہے کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندرپاکستان سے نکل جائیں جبکہ مسلح افواج کوالرٹ کردیا گیا ہے۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ عالمی برادری بھارت کے یکطرفہ، غیرمنصفانہ، سیاسی محرکات پرمبنی، انتہائی غیرذمہ دارانہ اورغیرقانونی اقدامات کا نوٹس لے، بھارت کے مظالم کوتسلیم کرے اور اسے جوابده ٹھہرائے۔ جب تک بھارت اپنی جارحانہ پالیسیوں کونہیں بدلتا جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا اورعالمی برادری کا اس خطرے کوسنجیدگی سے لینا چاہیے ورنہ بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑسکتی ہے۔