
صوبائی سیکریٹری طحہٰ احمد فاروقی کا سی آرٹس آٹزم سینٹر شھید بینظیر آباد، اسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس نواب شاھ اور سماجی تنظیم این ڈی ایف بحالی مرکز کا دورہ
نواب شاہ۔ صوبائی سیکریٹری برائے محکمہ معذور افراد کی بااختیاری (DEPD) طحہٰ احمد فاروقی نے رکن سندھ اسمبلی غلام قادر چانڈیو کے ہمراہ شہید بینظیر آباد (نوابشاہ) میں قائم سی آرٹس آٹزم سینٹر کا دورہ کیا اور اس کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر ارم اور ڈاکٹر سید ادریس نے ادارے سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ طحہٰ احمد فاروقی نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جلد سروسز کا آغاز کیا جائے تو علاقے کے بچوں کو بڑی سہولت حاصل ہو سکے۔

ایم پی اے غلام قادر چانڈیو نے کہا کہ آٹزم سینٹر سندھ حکومت کی جانب سے نوابشاہ کے لیے ایک بڑا تحفہ ہے۔ صوبائی سیکریٹری نے DEPD کے ریجنل ڈائریکٹر غلام مرتضیٰ چنڑ کی میزبانی میں اسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس کا بھی دورہ کیا۔ کمپلیکس میں تین ادارے کام کر رہے ہیں، جہاں 300 سے زائد بچے تعلیم و تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ صوبائی سیکریٹری نے بچوں سے گُھل مِل کر بات چیت کی، اساتذہ اور بچوں کی حوصلہ افزائی کی

اور ریجنل ڈائریکٹر اور ان کی ٹیم کو عمدہ انتظامات پر سراہا اور مزید محنت جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں طحہٰ احمد فاروقی نے نوابشاہ میں قائم سماجی تنظیم این ڈی ایف کے معذور بچوں کے بحالی مرکز کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے خصوصی بچوں کو فراہم کی جانے والی مختلف سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر

صدر این ڈی ایف پاکستان عابد لاشاری نے بحالی خدمات، جیسے فزیو تھراپی، سائیکو تھراپی، آکوپیشنل تھراپی، اسپیچ تھراپی اور ابتدائی تعلیم (ECE) کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ طحہٰ احمد فاروقی نے این ڈی ایف پاکستان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سندھ میں معذور بچوں کی بحالی ایک بڑا چیلنج ہے، مگر سندھ حکومت اس ذمہ داری کو سنجیدگی سے ادا کر رہی ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم پسماندہ علاقوں میں این ڈی ایف اور دیگر این جی اوز کے ساتھ مل کر معذور بچوں کو مفت اور معیاری سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔
ایم پی اے غلام قادر چانڈیو نے کہا کہ معذور افراد معاشرے سے الگ نہیں بلکہ اس کا برابر کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ معذوری کا مکمل علاج ممکن نہیں، لیکن مستقل بحالی کی کوششوں سے اسے مؤثر انداز میں منظم کیا جا سکتا ہے۔ ذہنی معذوری کی بحالی صرف تھراپی تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان بچوں کو باعزت زندگی گزارنے کے مواقع بھی دینا ضروری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ DEPD اور این ڈی ایف مل کر اس مشن میں قابلِ ستائش کردار ادا کر رہے ہیں۔ مشترکہ منصوبہ بندی کے ذریعے ذہنی معذوری سے متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کو درپیش رکاوٹوں کا حل تلاش کیا جا رہا ہے، اور باہمی تعاون ہی اس مشن کی کامیابی کی کنجی ہے۔اس کے علاوہ، صوبائی سیکریٹری نے دوڑ روڈ پر قائم اسپیشل ایجوکیشن سینٹر اور سکرنڈ میں پیر ذاڪري اسپیشل ایجوکیشن مرکز کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے زیر تعمیر نئی عمارت کے منصوبے کا جائزہ لیا، جو ایم پی اے غلام قادر چانڈیو کی دلچسپی اور محنت کے باعث منظور ہوا تھا۔ صوبائی سیکریٹری نے نئی عمارت کا کام جلد مکمل کر کے اسے استعمال میں لانے کی ہدایت دی۔ اس موقع پر DEPD کے ڈپٹی سیکریٹری اعتبار حسین برڑو، ڈائریکٹر قمر شاہد صدیقی، نثار احمد بروہی، پرنسپل مراد علی جمالي، عدنان مہر، عبدالرحیم ٹانوری، پاکستان ڈاؤن سنڈروم ایسوسی ایشن کی صدر سائرہ لاشاری، اور این ڈی ایف کے پروگرام مینیجر طارق حسین چنڑ سمیت دیگر افراد بھی موجود تھے۔























