سندھ طاس معاہدہ، نئی کشیدگیاں اور ہماری نئی نسل کی غفلت

تحریر: سیدہ سنمبلہ بخاری

گزشتہ چند ہفتوں سے ایک بار پھر جنوبی ایشیا میں پانی کی سیاست سرخیوں میں ہے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ پر نظرثانی کا عندیہ، اور پھر معاہدہ کے چند شقوں پر عملدرآمد روکنے کی خبریں، خطے میں پانی کے بحران کو سنگین بناتی جا رہی ہیں۔ مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہماری نئی نسل اور تعلیم یافتہ طبقہ ان حالات سے یا تو بے خبر ہے یا مکمل طور پر غیر سنجیدہ۔

سندھ طاس معاہدہ: ایک تاریخی جائزہ

1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ تین مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم، چناب) کو پاکستان کے لیے اور تین مشرقی دریاؤں (راوی، بیاس، ستلج) کو بھارت کے لیے مختص کرتا ہے۔ یہ معاہدہ جنوبی ایشیا میں پانی کی تقسیم کے حوالے سے ایک نادر مثال ہے جو اب تک قائم ہے۔

حالیہ کشیدگی: خطرے کی گھنٹی

2023 کے اختتام اور 2024 کے آغاز میں بھارت نے “کشن گنگا” اور “رتلے” جیسے متنازعہ ڈیموں پر کام تیز کر دیا۔ پاکستان نے ان منصوبوں کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دے کر عالمی بینک اور ثالثی عدالت سے رجوع کیا۔ لیکن بھارت کی جانب سے ثالثی عدالت کی کاروائی میں شرکت سے انکار نے ایک نیا بحران جنم دیا ہے۔

طلبا کی بے خبری: ایک تعلیمی سانحہ

بدقسمتی سے، ہمارے کالجوں اور جامعات کے طلبا کی اکثریت نہ صرف ان معاملات سے ناواقف ہے بلکہ ان میں سیکھنے اور تحقیق کا رجحان بھی مایوس کن حد تک کم ہے۔ Higher Education Commission (HEC) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں 18 سے 25 سال کے صرف 12% نوجوان ملکی و عالمی حالات کو باقاعدگی سے فالو کرتے ہیں۔

SDGs اور پانی کا بحران

پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے تحت “صاف پانی اور صفائی” (Goal 6) اور “ماحولیاتی تحفظ” (Goal 13) کو عالمی سطح پر ترجیح حاصل ہے۔ پاکستان میں ہر سال 80% سے زیادہ پانی زراعت میں استعمال ہوتا ہے، جب کہ صرف 36% دیہی آبادی کو صاف پینے کا پانی میسر ہے۔ اگر سندھ طاس معاہدہ پر عملدرآمد متاثر ہوا تو یہ SDGs کے اہداف کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ بن جائے گا۔

آگے کا راستہ: طلبا اور تعلیمی اداروں کا کردار

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو محض نمبر لینے کی مشینیں بنانے کے بجائے، انہیں جیوپولیٹکس، ماحولیاتی تحفظ، اور بین الاقوامی معاہدوں کے متعلق تعلیم دیں۔ جامعات کو SDGs کے اہداف کو اپنے نصاب کا حصہ بنانا ہوگا اور پانی جیسے حساس موضوعات پر سیمینارز، ریسرچ پروجیکٹس اور مکالمے شروع کرنے ہوں گے۔

خلاصہ:

سندھ طاس معاہدہ محض ایک بین الاقوامی دستاویز نہیں بلکہ پاکستان کے بقا سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ اس کی حفاظت صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، بلکہ نوجوان نسل کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ورنہ نہ صرف ہماری زمین بنجر ہوگی بلکہ ہمارے ذہن بھی۔