ایرو اسپیس میں چین کی ترقی اور کامیابیاں

اعتصام الحق ثاقب
24 اپریل چین کی خلائی ترقی کے حوالے سے ایک اہم دن ہے ۔یہ دن اب ہر سال چین کے خلائی دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔سال 2025 میں اس دن کو چین کا خلائی دن منانے کا دسواں سال ہے ۔گزشتہ دس سالوں میں چین نے خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں غیر معمولی ترقی کی ہے اور خود کو دنیا کی ایک بڑی خلائی طاقت کے طور پر منوایا ہے۔ چین کی خلائی ایجنسی (CNSA) نے متعدد کامیاب مشنز مکمل کیے ہیں، جن میں چاند اور مریخ کی کھوج، سیٹلائٹ نیٹ ورکس کی تعمیر، اور خلائی اسٹیشن کا قیام شامل ہیں۔
24 اپریل 2025 کو ہی چین کے نیشنل ایرو اسپیس ڈے کے موقع پر چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (سی این ایس اے) نے بتایا کہ ہ چانگ 8 قمری تحقیقات 2029 کے آس پاس لانچ ہونے والی ہے ، اور بین الاقوامی تعاون کے حصے کے طور پر 11 ممالک اور خطوں اور ایک بین الاقوامی تنظیم سے پے لوڈ لے جائے گی ۔یہ کوششیں مستقبل کے بین الاقوامی قمری تحقیقی اسٹیشن کی بنیاد رکھیں گی ۔
چین کی خلائی ترقی کے حوالے سے اگر چاند کے مشن کی بات کی جائے تو چین کے چھانگ حہ چاند مشن پروگرام گزشتہ دہائی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں چھانگ حہ مشن 3 جو 2013 کا مشن تھا اس میں چین نے چاند کی سطح پر اترنے والا پہلا روور “یوتو” (Yutu) مشن بھیجا، جو 37 سال بعد چاند پر اترنے والا پہلا مشن تھا۔ اسی طرح 2019 کا چھانگ حہ مشن 4 چاند کے تاریک حصے پر اترنے والا دنیا کا پہلا مشن تھا جس نے وہاں کے ماحول اور زمین کی معدنیات کا مطالعہ کیا۔ 2020 کے چھانگ حہ مشن 5 نے چاند کی سطح سے نمونے واپس زمین پر بھیجے، جو 1976 کے بعد پہلی بار ہوا۔ یہ چین کی خلائی ٹیکنالوجی کی ایک بڑی کامیابی تھی۔
چاند کے مشنز کے ساتھ ساتھ مریخ کے مشنز نے بھی گزشتہ ایک دہائی میں زبردست کامیابیاں حاصل کی ہیں. مریخ پر پہلا کامیاب مشن: تیان ون- 1 تھا جو 2021 میں مریخ پر بھیجا گیا جس میں ایک آربیٹر، ایک لینڈر اور ایک روور شامل تھا۔ یہ مشن کامیابی سے مریخ کی سطح پر اترا اور یوں چین امریکہ کے بعد دوسرا ملک بنا جس نے مریخ پر کامیاب لینڈنگ کی۔ چین کے اپنے خلائی اسٹیشن کی بات کی جائے تو تیانگونگ نامی اس اسٹیشن کو 2021 میں لانچ کیا گیا اور پھر 2022-23 کے دوران مزید ماڈیولز کو اس سے جوڑا گیا جس سے یہ اسٹیشن مکمل ہو گیا۔
چین کی ایرو اسپیس ترقی میں ایک اہم کامیابی اس کا سیٹلائٹ نیٹ ورک سسٹم بیدو ہے ۔اس کے علاوہ، چین نے متعدد مواصلاتی اور زمینی مشاہداتی سیٹلائٹس بھی لانچ کیے ہیں، جو دفاع، موسمیاتی تحقیق اور انٹرنیٹ کی سپیڈ کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
گزشتہ دس سالوں میں چین نے خلائی تحقیق کے میدان میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ چاند اور مریخ پر کامیاب مشنز، اپنے خلائی اسٹیشن کا قیام، اور جدید سیٹلائٹ نیٹ ورکس کی تعمیر نے چین کو خلائی سپر پاور بننے کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔ مستقبل میں چین کی خلائی کامیابیاں نہ صرف سائنس کے لیے نئے دروازے کھولیں گی بلکہ بین الاقوامی خلائی مقابلے کو بھی نئی جہت دیں گی۔