تھر کا کوئلہ: پاکستان کی معاشی ترقی کا کلید

24 اپریل، 2025
کراچی (اسٹاف رپورٹر)

تھر کے کوئلے کے ذخائر پاکستان کو نہ صرف توانائی کے بحران سے نجات دلاسکتے ہیں بلکہ ملک کو ایشیائی ٹائیگر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اینگرو کول مائنز اور شنگھائی الیکٹرک کے نمائندوں نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ تھر میں موجود 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر سے اگلی دو صدیوں تک 50 ہزار میگاواٹ سستی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، جو ملکی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے۔

ان ذخائر کی مالیت تقریباً 29 کھرب امریکی ڈالر ہے، جو پاکستان کو توانائی کے شعبے میں خودکفالت کی راہ پر گامزن کرسکتی ہے۔ اینگرو کول مائنز کے افسران کے مطابق، تھر کے صرف بلاک ٹو میں 3,500 سے زائد افراد کو روزگار مہیا کیا گیا ہے، جن میں 80% کا تعلق سندھ کے مختلف اضلاع سے ہے۔

تھر کوئلہ: گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے
بریفنگ میں بتایا گیا کہ تھر کا کوئلہ پاکستان کی کمزور معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ فی الحال ملک کو 32 ہزار میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے، جبکہ تھر سے حاصل ہونے والی اضافی بجلی کو افغانستان اور دیگر پڑوسی ممالک کو فروخت کرکے سالانہ اربوں ڈالر کمائے جاسکتے ہیں۔

تھر کوئلہ کی دریافت اور ترقی
1992 میں تھر میں کوئلے کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے۔

2008 میں اینگرو کول مائننگ کمپنی نے تھر کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ کیا۔

2019 میں فیز ون سے بجلی کی تجارتی پیداوار کا آغاز ہوا۔

2022 میں فیز ٹو مکمل ہوا، جس سے 1,320 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوئی۔

شنگھائی الیکٹرک کے چیئرمین مینگ ڈونگ نے کہا کہ “اگر تھر کے کوئلے کا صحیح استعمال کیا گیا تو پاکستان سعودی عرب اور ایران سے بھی زیادہ خوشحال ہوسکتا ہے۔”

تھر کا کوئلہ نہ صرف پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکال سکتا ہے بلکہ اسے خطے کی ایک معاشی طاقت بھی بناسکتا ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کے باہمی تعاون سے اس خزانے کو ملکی ترقی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔