
سندھ ہائیکورٹ نے بلڈر مافیا اور جعلی ایف آئی آرز کیخلاف 2 خواتین کی درخواست پر اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دیدیا، عدالت عالیہ نے آئی جی سندھ کو ہدایت کہ ڈی آئی جی کی سربراہی میں ایس ایس پی، آئی بی اور آئی ایس آئی کے افسران کمیٹی میں شامل کیئے جائیں۔ ہائیکورٹ میں بلڈر مافیا اور جعلی ایف آئی آرز کیخلاف 2 خواتین کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست مسز نور السبح اور اُن کی بہن، نے وکیل سہیل بیگ نوری اور بلڈر مافیا کیخلاف دادرسی کے لیے دائر کی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ وکیل سہیل بیگ نوری نے اُن کا مکان زبردستی خالی کروانے کی کوشش کی۔ انکار پر جھوٹی ایف آئی آرز درج کروا دیں۔ درخواست میں انکشاف کیا گیا کہ بعض وکلاء عام شہریوں کو جعلی مقدمات میں پھنسا کر مالی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ جس کا ریکارڈ بھی عدالت کو پیش کیا گیا ہے۔ عدالت نے پولیس تفتیش پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تفتیشی افسر نے وکیل کے بیانیے کو بغیر تحقیق کے اپنایا اور متاثرہ خواتین کے الزامات کو نظر انداز کیا۔ پولیس پیشہ ورانہ انداز میں غیر جانبدار تفتیش کرے۔عدالت نے درخواست پر اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ ڈی آئی جی کی سربراہی میں اعلی سطح ٹیم تشکیل دی جائے، جس میں ایس ایس پی، آئی بی اور آئی ایس آئی کے افسران شامل ہوں۔ عدالت نے حکم دیا کہ
اعلی سطح ٹیم اس کیس کی بلکہ جعلی ایف آئی آرز و دیگر معاملات کی بھی گہری چھان بین کرے۔ عدالت نے سماعت سماعت 6 مئی 2025 تک ملتوی کردی۔
Load/Hide Comments























