“چھوٹی ایئر لائنز کا بین الاقوامی رخ: گھریلو مسافر پریشان”

گھریلو ہوائی سفر کا بحران: کیا حکومت توجہ دے گی؟”

پاکستان میں ہوائی سفر کے شعبے میں حالیہ برسوں میں کئی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، لیکن ان تبدیلیوں کے باوجود مسافروں کو درپیش مسائل میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی جانب سے گھریلو ایئر لائنز کو بین الاقوامی پروازوں کے لیے لائسنس دینے کی پالیسی کے نتائج نے گھریلو مسافروں کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

چھوٹی ایئر لائنز، جن کے پاس تین سے بھی کم ہوائی جہاز ہیں، بین الاقوامی پروازوں کو ترجیح دے رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے گھریلو پروازوں میں مسلسل تاخیر، فلائٹس کے کینسل ہونے، اور مسافروں کو ہوائی اڈوں پر گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور ہونا معمول بن گیا ہے۔

گھریلو پروازوں کے مسافروں کو نہ صرف تاخیر اور پروازوں کے منسوخ ہونے کا سامنا ہے، بلکہ انہیں مہنگے کرایوں کا بھی بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ چھوٹی ایئر لائنز نے گھریلو راستوں پر کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے، لیکن سی اے اے کی جانب سے اس معاملے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔

ایک مسافر نے بتایا کہ وہ کراچی سے اسلام آباد کے لیے پرواز لینا چاہتے تھے، لیکن انہیں ہوائی اڈے پر پانچ گھنٹے انتظار کرنے کے بعد بتایا گیا کہ پرواز منسوخ کر دی گئی ہے۔ دوسری طرف، انہیں مہنگے کرایوں کی وجہ سے دوبارہ ٹکٹ خریدنا پڑا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹی ایئر لائنز کے پاس وسائل کی کمی ہے، اور وہ بین الاقوامی پروازوں پر توجہ دے کر زیادہ منافع کمانا چاہتی ہیں۔ اس کی وجہ سے گھریلو مسافروں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

سی اے اے کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ ادارے کو چاہیے کہ وہ ایئر لائنز کے معیارات کو بہتر بنانے اور مسافروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات اٹھائے۔

گھریلو ہوائی سفر کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے ضروری ہے کہ سی اے اے چھوٹی ایئر لائنز کے لیے واضح پالیسیاں مرتب کرے اور انہیں گھریلو راستوں پر بھی یکساں توجہ دینے پر مجبور کرے۔

مسافروں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ سی اے اے کو چاہیے کہ وہ ایئر لائنز کے کرایوں پر نظر رکھے اور غیر معقول اضافے کو روکے۔

اس صورتحال میں، گھریلو ہوائی سفر کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ مسافروں کو درپیش مشکلات کو کم کیا جا سکے۔

جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی ٹیم نے سی اے اے کے حکام سے رابطہ کیا، لیکن اب تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو گھریلو ہوائی سفر کا شعبہ مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔

مسافروں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر فوری اقدامات اٹھائے اور گھریلو ہوائی سفر کو بہتر بنانے کے لیے پالیسیاں مرتب کرے۔

اس صورتحال میں، گھریلو ہوائی سفر کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ مسافروں کو درپیش مشکلات کو کم کیا جا سکے۔

جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی ٹیم نے سی اے اے کے حکام سے رابطہ کیا، لیکن اب تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو گھریلو ہوائی سفر کا شعبہ مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔

مسافروں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر فوری اقدامات اٹھائے اور گھریلو ہوائی سفر کو بہتر بنانے کے لیے پالیسیاں مرتب کرے۔

اس صورتحال میں، گھریلو ہوائی سفر کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ مسافروں کو درپیش مشکلات کو کم کیا جا سکے۔

جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی ٹیم نے سی اے اے کے حکام سے رابطہ کیا، لیکن اب تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو گھریلو ہوائی سفر کا شعبہ مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔

مسافروں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر فوری اقدامات اٹھائے اور گھریلو ہوائی سفر کو بہتر بنانے کے لیے پالیسیاں مرتب کرے۔

بلوچستان اسمبلی کا ایئر لائنز کے کرایوں میں کمی کا مطالبہ

بلوچستان اسمبلی نے ہوائی کمپنیوں کے کرایوں میں فوری کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی ہے۔ یہ قرارداد صوبائی وزیر برائے آبپاشی میر صادق عمرانی نے پیش کی، جس میں کہا گیا کہ کوئٹہ سے ملک کے دیگر شہروں کے لیے ہوائی کرایوں میں غیر معقول اضافہ کیا گیا ہے، جو کہ ناقابل قبول ہے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ بلوچستان ایک غریب صوبہ ہے، جہاں کے لوگ علاج اور کاروبار کے لیے کراچی اور دیگر شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ کوئٹہ-کراچی اور دیگر شاہراہوں کے بار بار بند ہونے کی وجہ سے ہوائی سفر واحد آپشن ہے، لیکن مہنگے کرایوں نے اسے بھی مشکل بنا دیا ہے۔

اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پی آئی اے کو کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر شہروں کے لیے پروازیں بڑھانے کا حکم دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نجی ایئر لائنز کو بھی کوئٹہ کے لیے پروازیں بحال کرنے کا کہا جائے، کیونکہ انہوں نے شہر کے لیے اپنی خدمات معطل کر رکھی ہیں۔

نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا کہ تربت کے لیے پروازوں کے دوران ایئر لائنز ایک طرفہ ٹکٹ پر 60,000 روپے وصول کر رہی ہیں، جو کہ انتہائی مہنگا ہے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں رات کی پروازوں کو بند کیا جائے۔

اسمبلی نے اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کیا، جس میں وفاقی حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو گھریلو ہوائی سفر کا شعبہ مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایئر لائنز کے کرایوں پر کنٹرول کرے اور مسافروں کو ریلیف فراہم کرے۔
جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی ٹیم اس معاملے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور سی اے اے کے حکام سے جواب کا منتظر ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس مسئلے پر جلد از جلد توجہ دی جائے گی اور مسافروں کو درپیش مشکلات کو کم کیا جائے گا۔

( جیوے پاکستان ڈاٹ کام ٹیم)
ویب سائٹ: www.jeeveypakistan.com