سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کا اہم اعلان

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کا اہم اعلان

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں چارجڈ اور غیرقانونی پارکنگ سے متعلق اہم اعلان کیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں چارجڈ پارکنگ ختم کرنےکا فیصلہ ہوا اور ایکشن لیا گیا چارجڈ پارکنگ اور غیرقانونی پارکنگ دو الگ الگ چیزیں ہیں چارجڈ پارکنگ چلانے والوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ چارجڈ پارکنگ سے متعلق فیصلے کے وقت میئرکراچی بھی موجود تھے چارجڈ پارکنگ کے معاہدے اگر پہلے ہو چکے ہیں لیکن حکومتی فیصلہ کے سب پابند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہر جگہ غلط پارکنگ تھی جس کا ہم نےخاتمہ کیا ہے خالد بن ولید روڈ پر گاڑیاں پارک ہونےکی وجہ سےسنگل ٹریک چل رہا ہوتا ہے کراچی کی سڑکیں وسیع ہیں لیکن مسئلہ ہے ہر جگہ ہم گاڑی کھڑی کر دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ منظم انداز میں چارجڈ پارکنگ مستقبل میں ہو سکتی ہے۔

میئر کراچی

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا تھا کہ کےایم سی کی پارکنگ سائٹس سے جلد فیس وصول نہیں کی جائے گی اور اس حوالے سے جلد نوٹیفکیشن کر کے شہریوں پر پارکنگ فیس کا بوجھ ہٹا دیا جائے گا۔

مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ کےایم سی اب اپنے پیروں پر کھڑی ہے جس کے اکاؤنٹ میں 2 ارب سے زائد موجود ہیں مزید کی توقع ہے، اب کےایم سی کو 4 سے 5 کروڑ روپے کی ضرورت نہیں، کےایم سی کے نام پر پیسے وصول کرنے والوں کیخلاف قانونی ایکشن لیا جائے گا۔

میئر کا کہنا تھا کہ 106 مرکزی سڑکوں میں سے 46 پارکنگ سائٹس سے فیس وصول نہیں ہو گی البتہ شہر کے 25 ٹاؤنز اور 6 کنٹونمنٹ بورڈز میں پارکنگ فیس برقرار رہے گی۔
============================

کراچی بوٹ بیسن میں شہری پر تشدد کے مقدمے میں فریقین میں صلح ہوگئی
کراچی: بوٹ بیسن فوڈ اسٹریٹ پر شہری پر تشدد کے مقدمے میں فریقین نے راضی نامہ کرلیا۔

ڈی آئی جی ساؤتھ علی رضا کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان صلح ہوگئی مدعی برکت سومرو نے راضی نامہ کرلیا۔

ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق راضی نامے کا قانونی کارروائی پر اثر نہیں پڑے گا، ملزم شاہ زین مری کراچی میں ملا تو ضرور گرفتار کیا جائے گا۔

ڈی آئی جی ساؤتھ علی رضا کے مطابق کیس کا چالان بھی متعلقہ عدالت میں جمع کرایا جائے گا۔

خیال رہے کہ شاہ زین مری نامی مرکزی ملزم اور اس کے گارڈز نے 19 فروری کی رات سڑک پر چلتے شہری کی گاڑی کو پہلے اپنی جیپ سے ٹکر ماری اور پھر گاڑی سے اتر کر اسلحے کے زور پر شہری کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور گزشتہ روز مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر واقعے میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتار کیا جبکہ مرکزی ملزم شاہ زین مری بلوچستان فرار ہوگیا۔

واقعے کا مقدمہ 21 فروری کو برکت علی کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔