“امریکہ سے 8 پاکستانی غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیج دیا گیا”


“امریکہ سے 8 پاکستانی غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیج دیا گیا”

“ڈپورٹیشن فلائٹ: پاکستانی شہریوں کی واپسی”

امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم آٹھ پاکستانی شہریوں کو پاکستان واپس بھیج دیا گیا ہے۔ یہ امریکہ سے پاکستان کی جانب پہلا براہ راست ڈپورٹیشن فلائٹ تھا، جس میں غیر قانونی تارکین وطن کو واپس لایا گیا۔

ڈپورٹیشن فلائٹ کی تفصیلات:
امریکی حکومت نے پاکستانی حکام کو قومیت کی تصدیق کے لیے تقریباً 10 نام بھیجے تھے، جن میں سے آٹھ کی تصدیق ہو گئی۔ ان افراد کو غیر قانونی طور پر امریکہ میں رہنے کے جرم میں واپس بھیج دیا گیا۔

پاکستانی ڈائسپورا کا حجم:
امریکہ میں پاکستانی ڈائسپورا کا حجم نسبتاً چھوٹا ہے، جہاں تقریباً 6 لاکھ 80 ہزار پاکستانی شہری رہتے ہیں۔ تاہم، غیر دستاویزی پاکستانیوں کی تعداد کے بارے میں مختلف اندازے ہیں۔ 2022 کے تخمینوں کے مطابق، یہ تعداد 7,000 سے 15,000 کے درمیان ہو سکتی ہے۔

امریکی حکومت کا موقف:
امریکی وزیر خارجہ مارو رؤ نے کہا ہے کہ ڈپورٹیشن فلائٹس غیر قانونی تارکین وطن کے بہاؤ کو روکنے کا ایک مؤثر طریقہ ہیں۔ یہ اقدام سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی مہم کے وعدوں کے مطابق ہے، جس میں انہوں نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت اقدامات کا وعدہ کیا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیاں:
ٹرمپ انتظامیہ نے وسطی اور جنوبی امریکہ کے آمرانہ حکومتوں سے فرار ہونے والے افراد کے لیے پناہ گاہ کے پروگرام کو بھی محدود کر دیا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں افراد میکسیکو کی سرحد پر پھنس گئے ہیں۔

پاکستانی حکام کا ردعمل:
پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومیت کی تصدیق کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

غیر قانونی تارکین وطن کے مسائل:
غیر قانونی تارکین وطن کو اکثر معاشی اور سماجی مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ وہ ملازمتوں کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور اکثر قانونی تحفظ سے محروم رہتے ہیں۔

ڈپورٹیشن کے اثرات:
ڈپورٹیشن کے بعد، ان افراد کو اپنے وطن واپس آنے پر دوبارہ شروع کرنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ انہیں معاشرے میں دوبارہ ضم ہونے کے لیے مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔

آخر میں:
یہ ڈپورٹیشن فلائٹ پاکستان اور امریکہ کے درمیان غیر قانونی تارکین وطن کے معاملے پر تعاون کا ایک اہم قدم ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مزید تعاون سے اس مسئلے کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔

مزید معلومات کے لیے جیوے پاکستان ڈاٹ کام وزٹ کریں: www.jeeveypakistan.com