
کراچی(کورٹ رپورٹر) مصطفی عامر اغواء و قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے مزید 2 مقدمات منظر عام پر آگئے، عدالت نے پروڈکشن آرڈر جاری کردیئے۔ عدالت نے حکم دیا کہ ملزم کو دونوں مقدمات میں 18 مارچ کو ویڈیو لنک پر پیش کریں۔ اینٹی نارکوٹکس فورس کے مطابق ارمغان نے اپنے والد کے نام پربیرون ملک سے منشیات اسمگل کرتا رہا۔ ملزم نے 2018 اور 2019 میں والد کے نام منشیات اسمگل کیں۔ ملزم نے 10 پارسل منشیات اسمگل کروائے۔ ملزم ارمغان نے

ایک پوسٹ پارسل 1300 گرام اور 500 گرام منشیات اسمگل کروائی۔ملزم نے 2 سلور اور پولیتھین پاوچ منشیات اسمگل کروائے۔ ملزم نے ایک لائٹ براؤن کارٹن میں منشیات امپورٹ کروایا۔ ملزم نے منشیات پاوڈر سے بھری ہوئی بوتل بھی اسمگل کروائی۔ اینٹی نارکوٹیکس کی رپورٹ کے مطابق دوران تفتیش کامران اصغرق ریشی نے بتایا کہ وہ بے گناہ ہے۔ دوران تفتیش کامران قریشی نے اپنا پاسپورٹ دکھایا کہ وہ امریکہ میں تھا۔ دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ کے وقت کامران قریشی امریکہ میں تھا۔
====================
اینٹی نارکوٹکس عدالت نے مقتول مصطفی عامر کا نام منشیات کے مقدمے سے خارج کردیا۔ اینٹی نارکوٹکس عدالت میں منشیات کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ اینٹی نارکوٹیکس حکام نے رپورٹ عدالت میں جمع کرادی۔ تفتیشی افسر نے رپورٹ میں کہا کہ مصطفی عامر کا قتل ہوگیا ہے۔ مصطفی عامر کو 31 جنوری 2024 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ 20 مارچ 2024 کو مصطفی عامر اور نعمان یعقوب کی ضمانت منظور ہوگئی تھی۔
مصطفی قتل ہونے سے چند گھنٹے قبل 6 جنوری کو عدالت میں آخری بار پیش ہوا تھا۔ 22 فروری تک مصطفی عامر کے عدالت سے وارنٹ گرفتاری جاری ہوتے رہے۔ مصطفی کے 2 ساتھی میاں عمار حمید اور فیصل یعقوب اشتہاری ہیں۔ عدالت نے تفتیشی افسر کی رپورٹ کے بعد مقتول مصطفی عامر کا نام منشیات کے مقدمے سے خارج کردیا۔
==================























