مصطفیٰ عامر قتل کیس: نئی گردشیں، نئے انکشافات اور منشیات کا بڑا نیٹ ورک- دو سالوں میں اس گروپ کے ذریعے 50 کروڑ روپے مالیت کی منشیات کولمبیا، کیلیفورنیا سے اسلام آباد اور لاہور کے راستے کراچی پہنچائی گئی

کراچی: مصطفیٰ عامر قتل کیس نے نئی گردشیں لے لی ہیں، جس میں منشیات کی اسمگلنگ سے لے کر طاقتور گینگز تک کے تعلق کے انکشافات سامنے آرہے ہیں۔ مصطفیٰ عامر، جو 6 جنوری 2025 کو بلوچستان میں ایک کار میں جلا دیا گیا تھا، کو کراچی میں ان کے خاندان کی طرف سے پوسٹ مارٹم کے بعد دفن کر دیا گیا ہے۔ پولیس اب بھی اس کیس کی تفتیش میں مصروف ہے اور کئی گواہان اپنے بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں۔

کیس کی تفصیلات:
مصطفیٰ عامر کو گرفتار ملزم ارمغان اور اس کے دوست شیراز نے بلوچستان میں ایک کار میں زندہ جلا دیا تھا۔ یہ واقعہ 6 جنوری 2025 کو پیش آیا تھا۔ مصطفیٰ کے خاندان نے کراچی میں ان کی آخری رسومات ادا کیں۔ پولیس نے اس کیس میں کئی گرفتاریاں کی ہیں اور تفتیش جاری ہے۔

منشیات کا نیٹ ورک:
اس کیس میں ایک اور اہم موڑ ٹیوی آرٹسٹ ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن کی گرفتاری ہے، جو کراچی میں نوجوانوں کو منشیات فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار ہوا ہے۔ ساحر حسن کا بیان اس کیس میں اہم ہے۔ کچھ میڈیا اور یوٹیوب رپورٹس کے مطابق، گزشتہ دو سالوں میں اس گروپ کے ذریعے 50 کروڑ روپے مالیت کی منشیات کولمبیا، کیلیفورنیا سے اسلام آباد اور لاہور کے راستے کراچی پہنچائی گئی تھی۔

https://www.youtube.com/watch?v=oAy_kLXXS1U

لڑکیوں کے بیانات:
تفتیش کاروں نے دو لڑکیوں زوما اور اینجیلینا کو بھی بیان دینے کے لیے بلایا ہے۔ ایک اور لڑکی مرشا شاہد، جو اس واقعے کے بارے میں اہم معلومات رکھتی ہے، امریکا چلی گئی ہے۔ مصطفیٰ عامر کی والدہ وجیہہ عامر کا کہنا ہے کہ مرشا کو پورے واقعے کی بہتر معلومات ہو سکتی ہیں، لیکن وہ ملک چھوڑ کر جا چکی ہے۔

خاندان کا موقف:
مصطفیٰ عامر کے والد، جو کسٹم کے افسر ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ اس کیس کو آخر تک لڑیں گے۔ دوسری طرف، ملزم ارمغان کے والد کامران قریشی، جو پاکستان کے پہلے راک اسٹار ہیں، کا دعویٰ ہے کہ ان کا بیٹا اس واقعے میں ملوث نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کے کچھ بدعنوان افسران اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور ان کا بیٹا انہی “بلیک شیپس” کی وجہ سے پریشانی میں ہے۔

حکومت اور پولیس کی کوششیں:
حکومت اور پولیس اس منشیات کی سپلائی چین کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس گینگ کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ کیس عدالت میں زیر سماعت ہے اور ملزمان جیل کی حراست میں ہیں۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش سے جلد یا بدیر نئے انکشافات ہو سکتے ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟
اس کیس کے نئے انکشافات سے نہ صرف مصطفیٰ عامر کے قتل کی حقیقت سامنے آئے گی بلکہ پاکستان میں منشیات کی اسمگلنگ کے بڑے نیٹ ورک کو بھی بے نقاب کیا جا سکے گا۔ عوام کی نظریں اب عدالت پر ہیں کہ وہ اس کیس میں انصاف فراہم کرے۔

مزید تفصیلات کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیں۔
www.jeeveypakistan.com

(یہ کہانی مصطفیٰ عامر قتل کیس کی تازہ ترین معلومات پر مبنی ہے۔ ہم اس کیس کے ہر نئے موڑ پر آپ کو اپ ڈیٹ کرتے رہیں گے۔)