اسلام آباد میں اپوزیشن گرینڈ الائنس کانفرنس میں صحافی عاصمہ شیرازی بہت طاقتور اور بہادر اور آنکھ کھولنے والی تقریر


اسلام آباد میں اپوزیشن گرینڈ الائنس کانفرنس میں صحافی عاصمہ شیرازی بہت طاقتور اور بہادر اور آنکھ کھولنے والی تقریر

ہال میں تالیاں

Journalist Asma Shirazi’s Speech at Opposition Grand Alliance Conference in Islamabad – YouTube

Transcript:
(00:00) شکریہ مشرر محمود خانہ چکزی صاحب آپ کی تفصیل و گتگو کا اب ہم اپنا پہلا سیشن اوپن کر رہے ہیں جو میڈیا سے ریلیٹڈ ہے تو اس میں ہم اپنے میڈیا کے جو ہمارے نمائندگان ادھر آئے ہیں ان کو ہم دلائیں گے اور وہ آپ سے بات کریں گے تو اس سلسلے کی سب سے پہلے میں دعوت خطاب دوں گا ہماری بہن ہے پاکستان میں صحابت میں اور ان کا ایک نام ہے اور ہمیشہ ہمارے پی ٹی آئی والے اکثر توڑا سے وہ کرتے ہیں ان کے ساتھ لیکن بذات خود میں ایک ذمہ دار کے حصے تھے ہمیشہ ان کو سپورٹ بھی کرتا ہوں رسپیکٹ بھی کرتا ہوں ایک توان آواز ہے جمہور کے لیے عوام کی حاکمیت کے لیے تو میں ملتمیس ہو جناب محترمہ آسمہ شیراجی صاحب کا کو آئے اور آپ لوگوں سے مخاطب ہو آسمہ شیراجی
(01:07) بسم اللہ الرحمن الرحیم بہت شکریہ مجھے یہاں مدعو کرنے کے لئے بہت شکریہ راجہ صاحب حامد رضا صاحب اسد کیسے صاحب اور میرے بزرگ محمود خانہ چکزئی صاحب عباسی صاحب مہتاب عباسی صاحب سب لوگ کو پہلے فیضہ مرزا صاحبہ اور جو مجھے نظر نہیں آرہے مگر میں نام ان کا نہیں لے سکی ان کے سب ماذت کے لئے ماذت خواہوں یہ کانفرنس پہ فیویدہ مرزا صاحبہ اور جو مجھے نظر نہیں آ رہے اگر میں نام ان کا نہیں لے سکی ہوں ان کے سب ماذت کے لیے ماذت خواہوں یہ کانفرنس پہلے تو کل عباس صاحب میں پروگرام پہ بھی تھے اور انہوں بڑی وضاحت کے ساتھ یہ بتایا کہ ایک قومی ڈائیلوگ ہے جس میں کہ
(01:38) سیول سوسائٹی میڈیا میڈیا کا ایک بڑا کردار رہا ہے ہر تحریک کے اندر جمہور کے اندر آئین کی پاس تاری کے اندر پاکستان میں جمہوریت کی سربلندی کے اندر میڈیا کا جتنا کردار ہے میرا نہیں خیال کہ سیاسی جماعتوں کے شانہ بشانہ ہمیشہ یہ جوڈیشن مومنٹ ہو جس کو میں نے خود کور کیا بتیس بتیس گھنٹے ہم سڑکوں پہ رہے اور ہم نے اس جوڈیشن مومنٹ کو ایک مومنٹ کی شکل دی آہ وہ بھی ہم نے دیکھا اور آہ نباب زدہ نصرورہ خان صاحب آج کل مجھے بہت یاد آ رہے ہیں آہ باسی صاحب کو مہتا واس صاحب کو یاد ہوگا اے آر ڈی جب شروع ہوئی چند لوگ ان کے پاس جاتے تھے چند
(02:17) لوگ ان کے ساتھ ہوتے تھے چند صحافی ان کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے کیونکہ بہت سخت حالات تھے جنرل مشرف کے ابتدائی ایام اور بہت آہ پابندیاں تھی جس طرح سے آج بہت سارے لوگوں کو مجھے ابھی مفتا صاحب نے بتایا کہ منع کر دیا گیا اور وہ نہیں آ رہے اس طرح کی پابندیاں ہم نے کئی بار دیکھی کئی بار دیکھی یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ جو صحافی ہیں ان کو روک دیا جائے ان کو پابند کر دیا جائے ان کو آنے سے منع کر دیا جائے ان کے اخبارات کے مالکان ان کے جو ٹی وی چینلز کے مالکان ہیں ان کے اوپر پابندی اور سختیاں نہ کریں یہ پہلی بار
(02:52) نہیں ہوا یہ ہم نے اسلام آباد کی سڑکوں پہ کئی بار دیکھا کئی بار بھگتا کئی بار یہ ایکسپیلینس کیا میں اس وضاحت کا کہ قومی کانفرنس ہے اور ہمیں ایک جو ہماری باؤنٹری ہے ہم کسی سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں ہیں ہم کسی سیاسی اجتماع کے ساتھ نہیں ہیں ہم پاکستان کے نظریے پاکستان کے جو نظریاتی سرحد ہے ہم اس کے محافظ ہیں ہم صحافی اس نظریاتی سرحد کے محافظ ہیں جو کہتا ہے کہ ملک میں جمہوریت ہو، جو کہتا ہے کہ آئین کی سربلندی ہو، جو کہتا ہے کہ عدل اور انصاف ہو، جو کہتا ہے کہ تحریر کی آزادی ہو، جو کہتا ہے تقریر کی آزادی ہو، جو کہتا ہے کہ آپ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرسکے۔
(03:47) بلند کرسکے ہم اس نظریاتی سرحد کے محافظ ہیں اس میں جو بھی آئے گا ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں جو بھی جب بھی جنرل مشرف سے لے کے پی ایم ایل این کی پہلی حکومت جو کہ پیکا انٹرڈیوز کروانے والی ہے جس نے پیکا جیسا کالا قانون پاکستان میں پہلی بار متعارف کروایا ہم نے اس وقت بھی اس کے خلاف آواز بلند کی پھر پاکستان تحریک انصاف جو اس وقت ہمارے ساتھ تھی جب پیکہ کا قانون نون لیگ لے کے آ رہی تھی اور وہ کہتی تھی کہ ہم اس طرح کے سارے قوانین کو ختم کریں گے جب انہوں نے یہ قانون پاس کیا ہم نے ان کی مخالفت بھی کی اور ہم نے یہ کہا کہ یہ قانون آپ کے
(04:22) خلاف استعمال ہوگا اور آپ نے دیکھا کہ ان کے خلاف استعمال ہوگا ہمیں وہ دن بھی یاد ہے کہ جب ہمارے کیمپس کے اندر شباز شریف صاحب جو وزیراعظم پاکستان ہے آج بلاول بھٹو صاحب جو کہ اتحادی پارٹی کے سربراہ ہیں وہ ہمارے کیمپس میں آئے محمود خان اچکزی صاحب تو ہمیشہ آپ کو پتہ ہے اپوزیشن میں رہتے ہیں تو ہر کیمپ میں رہے گئے ہمارے ساتھ تو ہمارے کیمپ میں آئے اور کہا کہ یہ کالا قانون اگر پاس ہوا تو ہم اس کو پہلے ہی دن ختم کر دیں گے اقتدار میں آنے کے بعد بلکل اس کے الٹ ہوا وہ اقتدار میں آئے اور جو پہلے قوانین انہوں نے پاس کیے اس میں پی کا قانون بھی شادل تھا یہ ہے متضاد روئیوں کا یہ ہے اقتدار کے راستوں پہ آنے کے لیے وہ پہلی شرط جو کہ پوری کی جاتی ہے
(05:14) کہ میڈیا کا گلہ دبا دیا جائے اور پھر آج کے اشتہار تو آپ نے دیکھی ہوں گے کل بھی اشتہار دیکھی ہوں گے آپ نے اخباروں کے ساتھ سٹھ صفوں کے اخبار جب اس طرح کے اشتہاروں میں بک جاتے ہیں تو مجھے بتائیے کہ کون سی صحافت آزادی مانتی ہے کون سی صحافت ہے جو یہ کہتی ہے کہ مجھے اشتہار بھی میں لے لوں اور پیکہ کے خلاف کھڑی بھی ہو جاؤں کون سی صحافت ہے جو یہ کہتی ہے کہ یہ کروڑوں کروڑوں روپے کے اشتہار آپ فرنٹ پیج پہ چھاپ دیں اور اس کو سب سے بڑی بددیانتی دیکھئے کہ خبر کی صورت اس کو چھاپیں آپ ہم نے کبھی صحافت میں یہ نہیں دیکھا تھا کہ آپ خبر کی صورت
(05:55) اشتہار کو چھاپیں چھاپیں تاکہ لوگ یقین کر لیں آپ نے جو پڑھنے والا ہے اس کے ساتھ سب سے زیادہ بددیانتی یہ کی کہ آپ نے خبر کی صورت اشتہار چھاپا ہے ان اخباروں کے بھی خلاف بولنا چاہیے جو اس طرح کے اشتہار چھاپتے ہیں ان صحافیوں کے خلاف بھی اور جو چھپوانے والے ہیں وہ تو آپ دیکھی رہے ہیں کہ صحافت کا سودا ہے صحافت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے کوئی نہیں بولے گا کوئی نہیں بولے گا کیونکہ آوازیں چپ ہیں اور جو صحافت کھڑی ہے جمہوریت کے ساتھ آئین کے ساتھ وہ کل بھی مطمون ٹھہرائی جاتی تھی وہ آج بھی ہے مگر یہاں چلتے چلتے ایک بات ضرور کہہ دوں
(06:38) فیک نیوز ایک بہت بڑا مسئلہ ہے فیک نیوز ایک پرابلم ہے اور فیک نیوز کے سہولتگار بھی سیاسی جماعتوں میں اور صحافیوں میں موجود ہیں فیک نیوز کے سہولتگار فیک نیوز پھیلاتے ہیں پروپیگنڈا کرتے ہیں نفرت پھیلاتے ہیں نفرت کے سوداغر ہیں جمہوریت کے خلاف کام کرتے ہیں سہولت کاری کرتے ہیں کہ پیکا جیسے قوانین جو ہیں وہ لائے جائیں تو وہ آوازیں جو ان کے خلاف ہیں کہ پیکا کے قانون کیوں لائے ان کے خلاف بھی بولیں جو اس طرح کے فیک نیوز پھیلاتے ہیں پروپیگنڈا کرتے ہیں مہم لگاتے ہیں تاکہ پیکا کا قانون جو ہے اس کا رستہ ہموار کیا جائے اور وہ آپ اپنے اپنے اندر
(07:25) چھپی ہوئے ان کالی بھیڑوں کو دیکھ لیجئے وہ سیاست سیاست کے اندر ہوں وہ صحافت کے اندر ہوں ان کو دیکھ لیں کہ وہ صحورتکاری کس کی کر رہے ہیں کہ اس طرح کے قوانین کو نافذ کیا جائے کیا سیاسی جماعتوں کے اندر مسوجنسٹ نہیں ہے کیا سیاسی جماعتوں کے اندر لبادہ اوڑے ہوئے صحافی نہیں ہیں کہ جو اس طرح کی صحافت کر رہے ہیں کہ لوگوں کے خلاف مہم چلائی جائے جھوٹے بیانیے بنائے جائیں فیک نیوز پھیلائی جائے اور پھر رستہ ہموار کیا جائے اس طرح کے قوانین کا تو پہلے دو سیاسی جماعتوں کو ان کے خلاف بھی بولنا چاہیے اپنے اندر بھی جمہوریت
(08:02) لانی چاہیے کہ ایسے لوگوں کو سامنے لے کے آئیں کہ جو اس طرح کی مہم چلاتے ہیں جو اس طرح کے فیک پروپیگنڈے کا رستہ ہم بار کرتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ان کو بھلایا جاتا تھا فائلیں دکھائی جاتی تھی کیا آج فائلیں نہیں دکھائی جا رہی ہیں آج بھی فائلیں دکھائی جا رہی ہیں لیکن جو یقین کر لے وہ صحافی نہیں ہے جو تحقیق کر کے بات کرے وہ صحافی ہیں تو میرا یہ ماننا ہے اور میں صرف اپنے آپ کو صحافت تک آج محدود کر رہی ہوں کہ یہ جو آئین کی جدوجہد ہے یہ جو جمہور کی جدوجہد ہے یہ جو تحریر کی آزادی ہے یہ جو تقریر کی آزادی ہے
(08:39) اس کو نہ کل دبایا جا سکا ہے نہ آج دبایا جا سکے گا اس کے اوپر آپ جتنی قدغنیں لگا دیں کچھ چند ست پھرے ہوتے ہیں ہر وقت میں جو کہ آواز بلند کرتے ہیں بے شک وہ ہر جگہ سے ان کو مطون کیا جاتا ہے ہر جگہ پہ ان کو گالی دی جاتی ہے ہر جگہ سے ان کے خلاف آوازیں بلند ہوتی ہیں لیکن ان کے قلم میں اتنا سچ ہوتا ہے کہ ان کی ایک آواز بہت ساری آوازوں پر بھاری ہوتی ہے تو پیکا جیسے قلعہ قوانین ہو یا اس طرح کے اور قانون ہو ہم اس کے خلاف تھے ہیں اور جمہوریت کے ساتھ ہیں جمہوریت کے ساتھ اپنی ذاتی پسند ناپسند کے خلاف ان جماعتوں کے ساتھ اس نظریہ کے ساتھ ہیں
(09:22) جس کے ہم محافظ ہیں پاکستان کی نظریاتی سرحد کے یعنی آئین کے جمہوریت کے آزادی رائے کے انسانی حقوق کے کل بھی تھے اب بھی ہیں اور ہمیشہ رہیں گے بہت بہت شکریہ اور توقع کی جا سکتی ہے کہ اور بھی بہت سے لوگ یہاں پہ آئیں گے جو وہ اسی کے ساتھ اسی نظریے کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور بات کریں گے بہت شکریہ آپ لوگوں تینکیو سوٹا