
ن و القلم ۔۔۔مدثر قدیر
عوام کی آواز مریم نواز۔
26فروری 2024کو مریم نواز شریف نے صوبہ پنجاب کے 20ویں اور پہلی خاتون وزیر اعلی کی حثیت سے حلف اٹھاکرنئی تاریخ رقم کی انھوں نے اپنے پہلے ہی خطاب میں ہیلتھ کارڈ بحال کرنے ، ایئر ایمبولینس سروس کا آغاز، رمضان پیکیج اوراپنے منشور پر فوری عمل کرنے کا اعلان کیا ،اور اس کے بعد پنجاب کی ترقی کا جو سفر شروع ہوا اس نے آج ایک سال مکمل کرلیا ہے اور اس گزرے سال کے دوران وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے عوام سے کیے گئے اپنے وعدوں کی تکمیل کی اور عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں پر کام کرکے ان کو مکمل کیا اور عملی طور پر انھوں نے پنجاب کو اکنامک حب بنانے کے اپنے ویژن کو عملی شکل دی۔ مریم نواز آج جس مقام پر پہنچی ہیں اس میں اللہ تعالیٰ کے بعد انکی اپنی محنت، جدوجہد اور مشکلات سے بھرپور پچھلے پانچ سے چھ سال کا کٹھن ترین سفر ہے۔ مریم نواز کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملی اور نہ ہی ملکی سیاسی منظر نامے پر انکی مقبولیت کسی کی مرہون منت ہے بلکہ انہوں نے ایک بہادر بیٹی ہونے کے جرم میں پہلے اپنے والد میاں نواز شریف کیساتھ دو مرتبہ بے گناہ جیل کاٹی پھر وہ اپنے والد کیساتھ ڈٹ کر اور قدم سے قدم ملا کر کھڑی رہیں۔ایک سال میں 90سے زائد عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے شروع کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے اور ان منصوبوں میں سے 50سے زائد منصوبے مکمل بھی کر دیے گئے جن میں اپنی چھت اپنا گھر،الیکٹرک بائیکس،الیکٹرک بسیں،آسان کاروبار پروگرام،400 ارب کا کسان کارڈ،گرین ٹریکٹر،سپر سیڈر،ہزاروں کلو میٹر کی نئی سڑکیں،دھی رانی پروگرام،ہمت کارڈ،مینارٹی کارڈ، لائیو اسٹاک،مفت ادویات کی فراہمی،ستھرا پنجاب پروگرام، لاہور میں پاکستان کے پہلے سرکاری نواز شریف کینسر اسپتال کا قیام جبکہ سرگودھا میں کارڈیالوجی اسپتال کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔مریم نواز شریف کی جانب سے عوامی فلاحی منصوبوں کا جو آغاز کیا گیا ان میں مجھے نواز شریف کینسر کئیر ہسپتال کا منصوبہ سب سے ذیادہ اہم لگا کیونکہ یہ وہ منصوبہ ہے جو نواز شریف کے فلاحی ویژن سے تعلق رکھتا ہے ۔اس منصوبےکی افادیت پورے ملک کے لیے ہے آپ سوچ نہیں سکتے کہ پاکستان میں سرکاری سطح پر ایسا کینسر کا ہسپتال بننے جارہا ہے جہاں پر ایک ہی چھت کے نیچے کینسر کے مریضوں کو بلا معاوضہ ریڈیو تھراپی،کیمو تھراپی ،سرجری اور میڈیکل انکالوجی کی سہولیات میسر آئیں جو اس سے قبل کسی بھی سرکاری ادارے میں میسر نہ تھیں ۔مریم نواز شریف نے ثابت کیا ہے کہ انکی ترجیحات بہت واضح اور سیاست خدمت کا نام ہے ۔فلاحی منصوبوں میں پنجاب کے مریضوں کو ملی پاکستان کی پہلی ائر ایمبولنس سروس جس کے ذریعے دور دراز علاقوں سے اب تک 80 سے زائد مریض ہسپتال منتقل کیے جا چکے ہیں جبکہ اپنا گھر اپنی چھت کے تحت تقریبا پانچ ہزار گھر زیر تکمیل ہیں۔ پنجاب کے نوجوانوں کو ملا چیف منسٹر سکل ڈیویلپمنٹ پروگرام جس کے تحت ان کو جدید دور کے مفت آئی ٹی کے کورسز کروائے جا رہے ہیں۔پنجاب کے کسانوں کو ملا لائف سٹاک کارڈ جس کے تحت جانوروں کی فیڈ کے لیے دو لاکھ سے زائد کے بلا سود قرضوں کی فراہمی جاری ہے۔ صاف ستھرا پنجاب پروگرام جس کے تحت صوبہ بھر کے دیہات اور شہروں میں صفائی کی یکساں سہولیات کی فراہمی کا عمل جاری ہے جبکہ تاریخ میں پہلی بار پنجاب میں بسنے والے اقلیتوں کو ملا منیارٹی کارڈ جس کے تحت 50 ہزار مستحق خاندانوں کو سہ ماہی بنیادوں پر 10500 روپے کی ادائیگی جاری ہے۔ مریم نواز شریف نے پنجاب کی خواتین کو پاکستان کا پہلا ورچول وومن پولیس اسٹیشن کا منصوبہ دیا جس کے تحت اب خواتین بغیر کسی خوف کے گھر بیٹھے اپنی شکایات آن لائن درج کروا سکتی ہیں۔اس کے علاوہ مزوروں کو ملا ہمت کارڈ جس کے تحت 65 ہزار مستحق افراد کو مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ پنجاب کے کسانوں کو کسان کارڈ کے تحت بیج کھاد ادویات کے لیے ڈیڑ سو ارب کے بلا سود قرضوں کی فراہمی جاری ہےاسی طرح کاروبار سے منسلک افراد کو تاریخ میں پہلی بار 84 ارب روپے کے بلا سود قرضوں کی منفرد سکیم کا آغاز کیا گیا جس کے تحت لاکھوں افراد کو بلا سود قرضوں کی فراہمی کی جارہی ہے۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں ایک اہم منصوبہ جو وقت کی ضرورت تھا اس کا آغاز بھی کیا گیا جس کے تحت پنجاب میں بون میرو جگر اور گردوں کی پیوندکاری کے منتظر مریضو ں کو ٹرانسپلانٹ کارڈ دیا گیا جس کے تحت ہوٹا سے رجسٹرڈ مریضوں کا بالکل مفت علاج ان کے گھروں کے نزدیک سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوںمیں کیا جائے گا جو فلاحی پراجیکٹ ہے جس کی مثال پنجاب کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ پنجاب میں سکھ کمیونٹی کو ملا سکھ میرج ایکٹ جس کے تحت اب سکھ برادری اپنی شادی قانونی طریقے سے رجسٹرڈ کروا سکتے ہیں جبکہ پنجاب کے گھریلو صارفین کو بجلی کے بلوں میں 14 روپے فی یونٹ تک کا تاریخی ریلیف پیکج دیا گیا جس کے ذریعے اب تک 73 لاکھ صارفین مستفید ہو چکے ہیں ۔وزیر اعلی کے احکامات کی روشنی میں پنجاب کے دیہی علاقوں میں صحت کی جدیدی سہولیات کی فراہمی کے لیے 32 موبائل فیلڈ ہسپتال قائم کیے گئے ہیں جہاںسینکڑوں افراد روزانہ مفت علاج کروا رہے ہیں جبکہ پنجاب کے شہری علاقوں میں بسنے والوں کو ملا کلینک ان ویلز پراجیکٹ جس کے تحت 200 موبائل کلینکس عوام کو ان کی دہلیز پر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں ۔پنجاب کے ننھے طلبا کے لیے بھی وزیر اعلی نے پراجیکٹ شروع کروایا جسے میرا غذائیت سے بھرپور سکول میل پروگرام کا نام دیا گیا جس کے ذریعے ان بچوں میں دودھ کے ڈبوں کی تقسیم جاری ہے ۔پنجاب کے ہونہار طلباء کو ملا لیپ ٹاپ اور سکالرشپ کا پروگرام اس سکیم کے ذریعے 30 ہزار مستحق بچوں کو وظائف جبکہ لیپ ٹاپ سکیم کے پہلے مرحلے میں 35 ہزار بچوں کو لیپ ٹاپس دیے جائیں گےاور پنجاب کے طلباء کو ٹرانسپورٹ کی بہترین سہولت کے ذریعے گرلز کالجز میں 19 بسوں کی تقسیم کی جاچکی ہے۔ پنجاب کی بے سہارا بیٹیوں کے لیے دھی رانی پروگرام کا آغاز کیا گیا جس کے تحت اب تک 1500 جوڑوں کی شادیاں کروائی گئی ہیں اور دلہنوں کو شادی میں ایک لاکھ روپے سلامی اور تحائف دیے گئےاسی طرح فری ادویات کی گھر کی دہلیز تک فراہمی کا آغاز بھی انقلابی اور فلاحی اہمیت کا حامل ہے اس پراجیکٹ کے آغاز کے بعد اب ہسپتالوں کی آئوٹ ڈور میں ادویات کے حصول کے لیے مریضوں کو لائنوں میں لگنا نہیں پڑتا اور کورئیر سروس کے ذریعے اب تک سوا لاکھ سے زائد مریضوں کو مفت ادویات مہیا کی جا چکی ہیں۔پنجاب کے سپیشل بچوں کے لیے تاریخ میں پہلی بارا سٹیٹ آف دی آرٹ آٹزم کے اسکول کا قیام جہاں پران کو مفت تعلیم دی جائے گی۔ پنجاب میں شوگر کے مریض بچوں کو ملا فری انسولین پروگرام جس کے تحت شوگر میں مبتلا بچوں کو انسولین کی فراہمی کے لیے رجسٹریشن کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور ان کو گھر کی دہلیز پر انسولین فراہم کی جائے گی ۔ مریم نواز شریف یقینا پانچ سال اسی ڈگر پر چلتے ہوئے پنجاب کے عوام کی خدمت کرتی ہیں تو یقینی طور پر پنجاب سے منفی سیاست کرنیوالے اور فتنہ فساد پھیلانے والوں کا مکمل خاتمہ ہو جائیگا ۔مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت نے اپنے پہلے ہی سال میں تمام محکمے اور شعبے کھنگال مارے اتنے پراجیکٹ شروع کر دیے کہ اب یہ موازانہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ کس پراجیکٹ کی افادیت کیا ہے ،کچھ منصوبے ایسے ہیں جن کے اثرات وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوں گے لیکن کچھ منصوبے ایسے ہیں جنھوں نے فوری اپنا آپ کمال دکھانا شروع کر دیا ہے۔ ہمارے سرکاری ملازم ہر جائز کام میں بھی رکاوٹ ڈال کر سائل کے اتنے چکر لگواتے ہیں کہ وہ تنگ آ کر خود ہی چائے پانی ، مٹھائی اور فیس دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے حکومت اگر اور کچھ نہ کرے صرف ایک کام کر دےکہ لوگوں کے جائز کام بغیر کسی رشوت سفارش اور تاخیر کے صاف شفاف سسٹم کے ذریعے یقینی بنا دے تو یقین کریں انقلاب آ جائےگااور صرف ایک ہی آواز باقی رہے گی کہ پنجاب کے روشن مستقبل کی آواز مریم نواز۔























