
کراچی 26 فروری ۔حکومت سندھ اور صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے کراچی کے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے، فریقین کی جانب سے قوانین کے نفاذ کو یقینی بنانے، اور کاروباری برادری کے مسائل کے حل کے لئے بھی مشترکہ کاشوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بزنس فسیلیٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی کی ٹرانسپورٹ پر سب کمیٹی کا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت سندھ سیکریٹریٹ میں اجلاس ہوا۔ اجلاس میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ خالد حیدر شاہ، کمشنر کراچی حسن نقوی، سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر کمال دایو، سی ای او ٹرانس کراچی طارق منظور چانڈیو، ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ جبکہ اجلاس میں معروف صنعتکار عارف حبیب، کاٹی کے صدر جنید نقی، دیوان گروپ کے دانش دیوان، زبیر چھایا، زبیر موتی والا، جاوید بلوانی او دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں بات کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت جلد ہی برآمد کنندگان اور ٹرانسپورٹ سے متعلقہ مسائل کو حل کرے گی، پورے صوبے میں غیر قانونی طور پر قابض ٹرانسپورٹ لینڈز کو ایک ماہ کے اندر واگزار کرایا جائے گا تاکہ بس ٹرمینلز کے مسائل حل کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت جلد ہی ایک نئی الیکٹرک وہیکل (ای وی) پالیسی متعارف کرانے والی ہے، جس میں غیر ملکی کمپنیاں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہی ہیں، مستقبل بجلی سے چلنی والی گاڑیوں کا ہے، 
اس سلسلے میں ہمیں ابھی سے ہی اقدامات کرنے ہونگے، حکومت سندھ جلد ای وی ٹیکسی شروع کرنے جا رہی ہے، جس سے نہ صرف لوگوں کو روزگار ملے گا بلکہ ماحولیات کا بھی تحفظ بھی ہو سکے گا۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ریاست کی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، حکومت ٹرانسپورٹ قوانین کے سخت نفاذ کو یقینی بنائے گی۔ اجلاس میں ایس ایم ٹی اے کے ایم ڈی کمال دایو نے ماس ٹرانزٹ سسٹم پر تفصیلی بریفنگ دی اور شہر میں ٹرانسپورٹ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ممکنہ اقدامات پیش کیے۔ اجلاس میں موٹر وہیکل انسپیکشن سسٹم، ماس ٹرانزٹ انفراسٹرکچر کی بہتری، اور کاروباری ٹرانسپورٹ سے متعلقہ مسائل پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات کی جانب سے حکومت سندھ کی جانب سے پبلک پرائیوٹ پاٹنرشپ جاری منصوبوں کی تعریف کی اور دیگر منصوبے پبلک پرائیورٹ پارٹنرشپ کے تحت شروع کرنے پر زور دیا۔ کاروباری شخصیات کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ کے شعبے کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانا حکومت سندھ کا تاریخی اور قابل تحسین کام ہے، حکومت سندھ کو مختلف شعبوں میں

مزید منصوبے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت شروع کرنے چاہئیں۔ اجلاس میں معروف صنعتکار عارف حبیب نے امپورٹرز اور ایکسورٹرز کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان تعاون پر زور دیا اور کہا کہ برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کے مسائل کے حل کے لئے حکومت اور کاروباری براداری میں مضبوط تعاون ناگزیر ہے، قانون کی پاسداری ہر طبقے پر لازم ہے تاکہ ایک منصفانہ اور قانونی طریقے سے تجارت اور ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کیے جا سکیں۔اجلاس میں آن لائن شرکت کے دوران معروف تاجر زبیر موتی والا نے تجویز دی کہ انفراسٹرکچر کے لیے سیس فنڈز کے استعمال کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جائے، انہوں نے کہا کہ فنڈز کے شفاف اور مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ایک واضح طریقہ کار ہونا چاہیے تاکہ ٹرانسپورٹ سہولیات اور سڑکوں کے نظام میں بہتری لائی جا سکے۔ کورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹریز کے صدر جنید نقی نے کہا کہ عوام اور کاروباری برادری کو ٹریفک اور ٹرانسپورٹ کے قوانین سے آگاہ کرنے کے لیے شعور بیدار کرنے کی مہم چلائی جائے، بہتر آگاہی سے ٹرانسپورٹ کے نظام میں ڈسپلن آئے گا، جس سے ٹریفک جام اور روڈ سیفٹی کے مسائل کم ہوں گے۔
ہینڈآؤٹ نمبر 255۔۔۔
===========================
رمضان المبارک سال 2025 سیکیورٹی پلان کی ترتیب میں رینجرز سندھ و دیگر اسٹیک ہولڈرز سے روابط و مشاورت کو ترجیح دی جائے۔وزیر داخلہ سندھ
کراچی فروری27۔وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے پولیس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ پولیس رینج، ڈسٹرکٹ اور زونز کے لحاظ سے مساجد ،امام بارگاہوں،مدارس اور دیگر کھلے مقامات کی فہرستوں کا جائزہ لیکر رمضان المبارک سیکیورٹی پلان جلد مرتب کرکے برائے ملاحظہ ارسال کیا جائے جس میں رینجرز سندھ اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون اور مشاورت کے عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ تاکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے مجموعی امور غیر معمولی بنائے جاسکیں ۔وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ تمام مساجد امام بارگاہوں مدارس اور نماز و تراویح کے دیگر کھلے مقامات سے متعلقہ تھانہ حدود میں کرائم انالیسسز کو پیش نظر رکھ کر انتہائی حساس ، حساس اور نارمل کٹیگریز پر مشتمل سیکیورٹی پلان ترتیب دیاجائے جسکے تحت تینوں عشروں بشمول یوم شہادت حضرت علی،طاق راتوں/شب قدر کے موقع پر سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کو یقینی بنایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے تینوں عشروں میں تھانہ جات نفری کے علاوہ پولیس کی اضافی نفری کی تعیناتیوں کے اقدامات بھی کیئے جائیں جس میں پولیس کمانڈوز کو ممکنہ حساس علاقوں میں خصوصی ذمہ داریاں سونپی جائیں ۔رمضان المبارک سیکیورٹی پلان کے تحت مرکزی مساجد ، امام بارگاہوں، مدارس،نماز تراویح کے دیگرکھلے مقامات، سہ روزہ،پانچ روزہ ، پندرہ روزہ تراویح کے مقامات پر متعلقہ ایس ایس پیز ، ایس ڈی پی اوز کی نگرانی کے تحت نا صرف سیکیورٹی کو مربوط اور موُثر بنایا جائے بلکہ منتظمین کی معاونت سے کڑی نگرانی جیسے اقدامات بھی کیئے جائیں ۔ٹیکنکل سوئپنگ، کلیئرنس،ایڈوانس انٹیلی جینس کلیکشن شیئرنگ ، رینڈم اسنیپ چیکنگ ، پکٹنگ ، پیٹرولنگ ،داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی ، سرچنگ ، نمایاں مقامات پر پولیس ڈپلائمنٹ ، جرائم کے خلاف جاری آپریشنز کو مذید تیز کرنے اور مفرور و اشتہاری ملزمان سمیت مقدمات میں مطلوب ملزمان کی گرفتاریوں جیسے اقدامات کو رمضان المبارک سیکیورٹی پلان کی حکمت عملی اور لائحہ عمل میں باالخصوص شامل کیا جائے ۔وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ رمضان المبارک سیکیورٹی پلان میں صوبے کے تمام اہم سرکاری نیم سرکاری عمارتوں ، دفاتر ، حساس تنصیبات ، قونصل خانوں ، اقلیتی برادری کے مذہبی مقامات ، تمام پبلک مقامات وغیرہ پر سیکیورٹی تفصیلات کا بھی احاطہ کیا جائے علاوہ اذیں پولیس افسران اور جوانوں کو سیکیورٹی فرائض سے متعلق بریفنگ اقدامات سمیت شہریوں سے پولیس کے جملہ سیکیورٹی اقدامات میں ہر ممکن تعاون جیسے عمل کو بھی پلان کا حصہ بنایا جائے۔
ہینڈآؤٹ نمبر 256۔۔۔























