
بہاولپور (محمد عمر فاروق خان ) چولستانیوں نے اپنے حقوق کے حصول کے لیے بذریعہ محمد کامران بھٹی ایڈووکیٹ ہائیکورٹ بہاولپور میں رٹ پٹیشن نمبر 334/2025 دائر کی کہ انکے حقوق کو پس پشت ڈالتے ہوئے چولستان کا لاکھوں ایکڑ رقبہ ایک پرائیویٹ لمیٹید کمپنی کو لیز پر دے دیا گیا اور مزید 30000 ایکڑ رقبہ MFRO کو دیا جا رہا ہے جبکہ لاہور ہائیکورٹ کے جج شاہد جمیل حسن صاحب کے حکم مورخہ 03.12.2024 کے مطابق پٹیشنرز کا رقبہ الاٹمنٹ کے لیے کیٹگری A میں شامل ہے اور اسکی نیلامی ہونی ہے اور چولستانیوں کو الاٹمنٹ ہونی ہے۔ آج مورخہ 26.02.2025 کو لاہور ہایکورٹ بہاولپور بنچ میں کیس کی سماعت ہوئی جس میں MD چولستان، ممبر کالونیز بورڈ آف ریونیو اور دیگر سرکاری افسران عدالت میں پیش ہوئے۔ کیس سماعت کرنے کے بعد ہائیکورٹ کے جج عاصم حفیظ صاحب نے عبوری حکومت کی جانب سے کارپوریٹ فارمنگ کے لیے 700000 ایکڑ اراضی چولستان مختص کیے جانے کا کنٹریکٹ(Joint Venture Agreement) اور عبوری حکومت کے فیصلہ اور MFRO کے لیے 30000 ایکڑ چولستان اراضی مختص کیے جانے کو الیکشن ایکٹ کی دفعہ 230 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے معطل کر دیا اور حکومت و حکومتی اداروں کے اختیارات پر سوال اٹھا دیا اور قرار دیا کہ Major Policy Decisions عبوری حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے اور عبوری حکومت کا یہ اقدام غیر قانونی تھا۔ مزید عدالت نے الیکٹڈ کیبنٹ کو مذکورہ بالا فیصلہ جات اور کنٹریکٹ پر 8 ہفتوں کے اندر نظر ثانی کا حکم صادر فرمایا اور تب تک کے لیے پٹیشنرز کے حق میں حکم امتناعی بھی جاری کیا۔























