لاہور، فیصل آباد اور بہاولپور کے صحافیوں کا دورۂ ہمدرد

عامر سعید خان
محترمہ سعدیہ راشدکی ہمہ جہت شخصیت کی ایک اہم جہت اُن میں احساس ِصحافتی اقدار کا ہونا ہے۔شہید پاکستان حکیم محمد سعید کی دختر ہونے کے باوجود آپ نے ہمدرد پاکستان میںبہ طور پروف ریڈر شمولیت اختیار کی تھی ۔ابھی بھی آپ اپنی تمام تر ذمے داریوں کے باوجود ہمدرد کے زیر اشاعت مختلف جرائد اور مطبوعات کی مدیر اعلا ہیں اورہمدرد سے جاری ہونے والی تمام ترتشہیری و فکری تحاریر کی نگرانی فرماتی ہیں تاکہ اہل وطن کی فکری آبیاری تسلسل کے ساتھ جاری رہے ۔ آپ سمجھتی ہیں کہ اصولی طور پر قوم کی فکری تربیت و راہنمائی کا کام اہل صحافت کا ہے۔اسی لیے آپ ریاست کے چوتھے ستون ذرائع ابلاغ کی اہمیت سے بہ خوبی واقف ہیں اور شہید پاکستان حکیم محمد سعید کی خوبصورت روایت کو آج بھی برقرار رکھا ہوا ہے جس میں حکیم صاحب اہل صحافت سے اپنے تعلقات کو استوار رکھنے کے لیے ملک کے مختلف اخبارات کے نمائندوں کو ہمدرد کے دورے کی دعوت دیتے تھے۔ محترمہ سعدیہ راشد بھی صحافیوں کی میزبانی اپنے لیے اعزاز سمجھتی ہیں اور ہر سال اُن کی دعوت پرکراچی سے باہر کے صحافی جامعہ ہمدرد کے جلسہ برائے عطائے اسناد کے موقع پرمدعو کیے جاتے ہیں۔

چناں چہ اس سال بھی ہمدرد یونی ورسٹی کے 27واں جلسہ عطائے اسناد 2025ء کے موقع پر محترمہ سعدیہ راشد کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر سید علی بخاری صاحب فیصل آباد، لاہور اور بہاولپور کے سینئر صحافیوں کے ہمراہ 20فروری2025 کو کراچی پہنچے۔ اُن کا استقبال راقم السطور اور ہمدرد کے دیگر کارکنان نے کیا۔ صحافیوں کے وفد میں ہمایوں گلزارصاحب (مدیر،روزنامہ سیادت ، بہاولپور)، ایس ایم منیر جیلانی صاحب(مدیرمسٔول، ڈیلی پیغام ، فیصل آباد)، صائمہ نواز چوہدری صاحبہ(نامہ نگار، روزنامہ آواز-جنگ گروپ، لاہور)، حافظ عدنان طارق صاحب(نامہ نگار،ایکسپریس ٹری بیون، لاہور) اور عاطف پرویزصاحب(نامہ نگار، دنیا نیوز ٹی وی چینل، لاہور )شامل تھے۔ کراچی میں پہلے سےموجود روزنامہ کلیم سکھر کے مدیر مسٔول جاوید مہر شمسی صاحب نے بھی وفد

میں شمولیت اختیار کی۔معزز مہمانوں کی آمد پر اُن کے اعزاز میں معروف جگہ پورٹ گرینڈ میں موجود ریسٹورنٹ میں پرتکلف عشائیہ دیا گیا۔ صحافتی وفد کے شرکاء نے سائبیریا سے آئے مہمان پرندوں کو کھانا ڈالا اور ملک کی گہری بندرگاہ پر کھڑے پاکستانی بحریہ کے جنگی جہازوں کو دیکھ کر بہت مسرت کا اظہار کیا۔ صحافیوں نے بتایا کہ وہ پہلی بار کراچی آئے ہیں بحری دفاعی کشتیوں اور ساز و سامان دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ تمام معزز مہمانوں میں مدینۃ الحکمہ کے اسکالر ز ہائوس میں ٹھہرایا گیا۔ہمدرد پاکستان کےکارکنان نے


مہمانوں کو بتایا کہ سائبیریا سے آئے پرندوں کے شکار پر پانچ سال سے پابندی ہے اس لیے اب یہ بڑی تعداد میں پاکستان کے گرم ساحلوں پر آنے لگے ہیں۔ عشائیے میں کراچی کے تین صحافی منظر نقوی صاحب(مدیر فنانشل ڈیلی)، حمیرا موٹالاصاحبہ(سینئر صحافی) اور مبشر میر صاحب (سینئر صحافی)بھی شریک ہوئے۔


اگلے دن 21 فروری کی صبح وفد نے ہمدرد کارپوریٹ ہیڈ آفس کا دورہ کیا جہاں اُنھوں نے محترمہ سعدیہ راشد، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سید شبیب الحسن صاحب اور کلینکل سائنسز ڈویژن ہمدرد کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر حکیم عبدالحنان صاحب اور ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کے ڈائریکٹرسید محمد ارسلان صاحب سے ملاقات کی۔

دوران گفتگو کئی موضوعات پر سیر حاصل تبادلہ خیال ہوا، تاہم چند اہم ترین موضوعات نکات کی شکل میں پیش کیے جارہے ہیں:

شہید حکیم محمد سعید
محترمہ سعدیہ راشد نے بتایا کہ الحمدللہ شہید حکیم محمد سعید نے پاکستان میں علم کے شہر کا جو خواب دیکھا تھا، اپنی حیات میں اُس کی عملی تعبیر بھی دیکھی۔ بہت کم خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں۔ یہ اُن پر اللہ پاک کا خاص کرم تھا کیوں کہ وہ جو کام بھی کرتے تھے نہایت خلوص نیت سے کرتے تھے۔ وہ سخت اور غیر متزلزل قوت ارادی کے حامل تھے۔اُنھوں نے ملک و قوم کے لیے اتنے بڑے ادارے بہ طور ورثہ چھوڑے ہیں۔ آج آپ سب اُن کے بنائے ادارے کے مہمان ہیں۔اُن کی شہادت قومی سانحہ ہے جس سے ملک کا بہت نقصان ہوا۔ وہ طب یونانی کی ترویج میں مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔

مدینۃ الحکمہ
محترمہ سعدیہ راشد نے بتایا جب مدینۃ الحکمہ بنا تو اُس وقت نہ سڑک تھی نہ پانی کی سپلائی تھی۔ پورا علاقہ صحرائے لَق و دَق تھا لیکن اُنھیں وہی جگہ عزیز تھی کیوں کہ اس مقام کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔محققین کے مطابق مدینۃ الحکمہ جہاں قایم ہے وہاں مسلم جرنیل محمد بن قاسم کی افواج نے دیبل کی طرف بڑھنے سے پہلے قیام کیا تھا۔ادارےان اقدار اور روایتوں کے فروغ، تحفظ اور ترویج کے لیے قایم کیے جاتے ہیں جنھیں معاشرہ اپنے لیے ضروری خیال کرتا ہے۔ مدینۃ الحکمہ وسیع تر تناظر میں علم و حکمت، تعلیم و تعلم اور تحقیق و کاوش کی ان قدروں ان روایتوں کے احیاء کی ایک کوشش کا نام ہے جو ہماری عظیم ثقافتی میراث ہیں۔اس علم کے شہر میں نئے اذہان کو جدید علوم کے ساتھ مشرقی تہذیب و ثقافت سے رغبت بھی سکھائی جاتی ہے۔

ہمدرد کی طبی سہولیات اور سرگرمیاں
سید محمد ارسلان صاحب نے بتایا ہمدرد کے زیر انتظام ہسپتالوں میں ایلوپیتھی اور طب یونانی دونوں کی او پی ڈی موجود ہیں۔اس کے علاوہ جدید طبی مشینری اور نئی لیب آپریشنل ہیں۔ہمدرد یونی ورسٹی ہسپتال میں جدید ترین گائنی وارڈ بنایا گیا ہے۔ دور دراز کے ایسے گوٹھ اور دیہات جہاں کلینک نہیں ہیں وہاں ہمدرد کی موبائل ڈسپنسری جاتی ہےاور لوگوں کو مفت ادویہ دیتی ہے۔ اس کے علاوہ نعمت بیگم ہسپتال ناظم آباد میں وسعت کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

طب یونانی کا مقدمہ
پروفیسر ڈاکٹر حکیم عبدالحنان صاحب نے کہا کہ طب یونانی کی الگ وزارت ہونی چاہیے۔دوہا میں طبی کانفرنس میں بھارتی مندوبین نے شرکت کی۔ بھارت قطر میں اپنی آئیورویدک ادویہ کے لیے منڈی کھوج رہا ہے۔ بھارتی حکومت نے وہاں کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے وزارت قایم کردی ہے۔ کوویڈ ۱۹ کی وباء میں بھارتی حکومت نے مقامی آئیورویک ادویہ کو فروخت کے لیے اجازت دی جب کہ ہم جو عرصہ دراز سے نزلہ زکام کے لیے ادویہ بنارہے ہیں، ہمیں حکومتی تعاون و سرپرستی حاصل نہیں ہوئی۔ہندوستان میں جتنی بھی روایتی ادویہ اور مصنوعات تیار کی جارہی ہیں وہ ایکسپورٹ بھی ہوتی ہیں۔ پاکستان طب یونانی کی ایکسپورٹ بڑھانے کی خوبی و صلاحیت رکھتا ہے۔

ملاقات کے بعد پروفیسر ڈاکٹر حکیم عبدالحنان صاحب نے وفد کا طبی معائنہ کیا اور اُنھیں مفت ادویہ بھی دیں۔ مہمان صحافیوں نے ہمدرد پاکستان کے آفس کا دورہ کیا اور مختلف ڈائریکٹران سے ملاقات کی۔اس کے بعد اُنھوں نے قائد اعظم کے مزار پر حاضری دی ، فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر ہمدرد پاکستان کی درخواست پر مزار کے منتظمین نے میوزیم خصوصی طور پر کھولا ، جہاں قائد اعظم کے زیر استعمال ذاتی اشیا، گاڑیاں اور دیگر چیزیں موجود تھیں۔دوپہر میں ایک معروف نہاری سینٹر میں اُنھیں پرتعیش ظہرانہ دیا گیاجس میں کراچی سے تعلق رکھنے والے صحافیوں عمران ذاکر(نامہ نگار، فنانشل ڈیلی)، سرور سومرو(نامہ نگار آواز ٹی وی) اورفرحان میمن (مدیر ہفت روزہ سٹی مرر) کو بھی مدعو کیا گیا۔ بعدازاں سید محمد ارسلان کے ہمراہ وفد نے نعمت بیگم ہمدرد یونی ورسٹی کا تعلیمی دورہ کیا ۔معزز مہمان ہسپتال میں دی جانے والی جدید سہولیات، کم چارجزاور پیرا پیڈک اسٹاف کی پروفیشنل ازم سے بہت متاثر ہوئے۔کراچی پریس کلب کا دورہ کیا اور وہاں کے عہدیداران سے ملاقات کی ۔سورج ڈھلتے مہمانوں نے ساحل سمندر کی سیر کی۔ رات میں لال قلعہ نامی معروف ریسٹورنٹ میں اُنھیں عشائیہ دیا گیا۔ جس کے بعد اُنھیں واپس اسکالر ہائوس مدینۃ الحکمہ پہنچادیا گیا۔

اگلی صبح وفد نے شہید پاکستان حکیم محمد سعید کے مزار پر حاضری دی، بوٹنکل گارڈن کا دورہ کیا اور ادارہ سعید ، بیت الحکمہ لائبریری کا مطالعاتی دورہ کیا۔ صحافیوں نے نادر قرآنی نسخوں اورمخطوطات دیکھ کر خوش گوار حیرت کا اظہار کیا۔ شہید حکیم محمد سعید کی گاڑی دیکھ کر سب نے اُداسی اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ شہید پاکستان کی شہادت قومی سانحہ ہے۔ بعدازاں جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر کی جانب سے ظہرانے میں شرکت کی۔ پروفیسر ڈاکٹر سید شبیب الحسن صاحب نے ہمدرد یونی ورسٹی پر بریفنگ دی۔ جس کے بعد صحافیوں کے وفد نے ہمدرد یونی ورسٹی کی کانوکیشن میں شرکت کی اور پھر خوشی اور مسرت کے ساتھ بذریعہ ہوائی سفر واپس اپنے شہروں کو روانہ ہوگئے۔

صحافیوں کے اس اہم دورے کے تمام انتظامات انفارمیشن ڈپارٹمنٹ نے انجام دئیے۔