“کام کی جگہ پر ہراسمنٹ کے خلاف جنگ: کے الیکٹرک کی کامیاب کہانی”


“کراچی کی کے الیکٹرک: خواتین ملازمین کے لیے محفوظ اور باوقار ماحول”

کراچی کی معروف توانائی کمپنی کے الیکٹرک (KE) نے کام کی جگہ پر ہراسمنٹ کے خلاف سخت پالیسیوں اور مثالی اقدامات کے ذریعے ایک صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہراسمنٹ کے واقعات کے حوالے سے جب بات کی جائے تو کے الیکٹرک کا نام ان کمپنیوں میں سرفہرست ہے جہاں کام کا ماحول شفاف، دوستانہ، اور باوقار ہے۔ کمپنی کی جانب سے ملازمین، خاص طور پر خواتین، کو ہراسمنٹ کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے گئے ہیں۔

حالیہ عرصے میں کے الیکٹرک میں ہراسمنٹ کے شکایات کے معاملات نہ ہونے کے برابر ہیں، سوائے ایک سابق ملازم کے کیس کے، جس میں کمپنی کے سی ای او کو ہراسمنٹ کے الزامات کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ معاملہ سندھ کے محتسب کے دفتر میں درج کرایا گیا اور میڈیا میں بھی نمایاں ہوا۔ تاہم، کمپنی کی جانب سے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے قانونی اور ادارہ جاتی طریقہ کار پر عمل کیا گیا۔

کام کی جگہ پر ہراسمنٹ ایک عالمی مسئلہ ہے، جس کا سامنا پاکستان سمیت کئی ممالک میں کیا جا رہا ہے۔ تاہم، توانائی کے شعبے میں کے الیکٹرک جیسی کمپنیاں اس حوالے سے مثالی اقدامات کر رہی ہیں۔ کمپنی کے دفاتر میں کام کرنے والی خواتین اور فیلڈ میں تعینات عملہ دونوں ہی کمپنی کی پالیسیوں اور ماحول سے مطمئن نظر آتے ہیں۔ خواتین ملازمین کو ہراسمنٹ کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لیے کمپنی نے خصوصی اقدامات کیے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں کام کی جگہ پر خود کو محفوظ محسوس ہوتا ہے۔

پاکستان میں ہراسمنٹ کے خلاف آگاہی اور تحفظ کے لیے حکومتی اور غیر سرکاری سطح پر کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کئی کمپنیوں اور اداروں میں ہراسمنٹ کے شکایات کو سننے اور انہیں حل کرنے کے لیے کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر ہراسمنٹ کے خلاف کمیشنز فعال ہیں، جو اس مسئلے کے خلاف موثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کمیشنز کا مقصد ہراسمنٹ کے واقعات کو روکنا، متاثرین کو انصاف فراہم کرنا، اور معاشرے میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) جیسے ادارے بھی ہراسمنٹ کے خلاف آواز اٹھانے اور متاثرین کو قانونی مدد فراہم کرنے میں پیش پیش ہیں۔ HRCP نے ہراسمنٹ کے خلاف آگاہی مہمات چلائی ہیں اور اس حوالے سے رپورٹس جاری کی ہیں، جن میں ہراسمنٹ کے واقعات کی نوعیت اور ان کے خلاف اقدامات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

ہراسمنٹ کی تعریف اور اقسام:
ہراسمنٹ سے مراد کسی فرد کو تنگ کرنا، دباؤ ڈالنا، یا اسے ذہنی یا جسمانی طور پر پریشان کرنا ہے۔ کام کی جگہ پر ہراسمنٹ میں جنسی ہراسمنٹ، زبانی یا جسمانی طور پر تنگ کرنا، اور امتیازی سلوک شامل ہو سکتا ہے۔ جنسی ہراسمنٹ میں کسی فرد کو جنسی طور پر تنگ کرنا، غیر مطلوبہ جنسی پیشکش کرنا، یا جنسی طور پر نامناسب رویہ ظاہر کرنا شامل ہے۔

تجاویز اور آگاہی:

ہراسمنٹ کے خلاف آگاہی مہمات کو مزید موثر بنایا جائے، خاص طور پر نوجوانوں اور مردوں میں اس حوالے سے حساسیت پیدا کی جائے۔

تعلیمی اداروں میں بچپن سے ہی لڑکوں کو لڑکیوں اور خواتین کا احترام سکھایا جائے۔

ہراسمنٹ کے خلاف قائم کیے گئے کمیشنز کو مزید فعال بنایا جائے اور انہیں وسائل فراہم کیے جائیں۔

میڈیا اور این جی اوز کو ہراسمنٹ کے خلاف آواز اٹھانے اور متاثرین کو قانونی مدد فراہم کرنے میں مزید کردار ادا کرنا چاہیے۔

نتیجہ:
کام کی جگہ پر ہراسمنٹ ایک سنگین مسئلہ ہے، لیکن کے الیکٹرک جیسی کمپنیوں نے اس حوالے سے مثالی اقدامات کر کے دوسرے اداروں کے لیے راہنمائی فراہم کی ہے۔ حکومتی اور غیر سرکاری سطح پر کیے گئے اقدامات سے معاشرے میں اس مسئلے کے خلاف آگاہی بڑھ رہی ہے، لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ ہراسمنٹ کے خلاف جنگ صرف قانونی اقدامات سے نہیں، بلکہ معاشرتی سوچ کو بدلنے سے جیتی جا سکتی ہے۔


سالک مجید – جیوے پاکستان ڈاٹ کام

https://www.youtube.com/@jeeveypak/videos