تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں فراڈ سینٹرز سے 50 پاکستانیوں سمیت 215 غیرملکیوں کو بازیاب کرایا گیا

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی سرحدی علاقے میں واقع فراڈ سینٹرز سے 50 پاکستانیوں سمیت 215 غیرملکیوں کو کامیابی سے بازیاب کرایا گیا ہے۔ یہ غیرملکی آن لائن فراڈ اور اسکیم سینٹرز میں جبری مشقت کرنے پر مجبور تھے۔ بینکاک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، یہ کارروائی تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی پولیس نے مشترکہ طور پر کی، جس میں 109 تھائی، 50 پاکستانی، 48 بھارتی، 5 تائیوانی، اور 3 انڈونیشیائی شہریوں کو بچایا گیا۔

فراڈ سینٹرز کا نیٹ ورک

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، جنوب مغربی ایشیا میں جرائم پیشہ گروہس ہزاروں لوگوں کو انسانی اسمگلنگ کے ذریعے ان علاقوں میں لاتے ہیں، جہاں ان سے آن لائن فراڈ اور دیگر غیرقانونی سرگرمیوں میں جبری مشقت لی جاتی ہے۔ یہ فراڈ سینٹرز کئی سالوں سے فعال ہیں اور ان کے ذریعے سالانہ اربوں ڈالر کمائے جاتے ہیں۔

کارروائی کی تفصیلات

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی پولیس نے کمبوڈیا کے سرحدی صوبے بینٹیے میانچے کے علاقے پوئیپٹ میں واقع ایک تین منزلہ عمارت پر چھاپہ مارا۔ تھائی حکومت کے ترجمان جیرایو ہاؤنسب کے مطابق، یہ کارروائی دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ تھی، جس کا مقصد سائبر فراڈ کے خلاف جنگ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تھائی شہریوں کی سب سے بڑی تعداد ہے جو ایک ہی کارروائی میں بازیاب کرائے گئے ہیں۔

پاکستانیوں کی بازیابی

بازیاب ہونے والے 50 پاکستانیوں کے خاندان پہلے سے ہی ان کی رہائی کے لیے بے چین تھے۔ ان میں سے کئی خاندانوں نے فراڈ سینٹرز کو بھاری رقم ادا کی تھی، تاکہ ان کے پیاروں کو رہا کیا جا سکے۔ پاکستانی حکام نے بھی اس معاملے میں تھائی اور کمبوڈیا کی حکومتوں کے ساتھ تعاون کیا ہے، تاکہ اپنے شہریوں کو واپس لایا جا سکے۔

فراڈ سینٹرز کا طریقہ کار

یہ فراڈ سینٹرز عام طور پر نوجوانوں کو پرکشش نوکریوں کا لالچ دے کر اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔ ایک بار جب وہ ان مراکز میں پہنچ جاتے ہیں، تو انہیں جبری مشقت پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ان سے آن لائن فراڈ، کریپٹو کرنسی اسکیمز، اور دیگر غیرقانونی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اگر وہ انکار کریں، تو انہیں تشدد اور دیگر سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بین الاقوامی رد عمل

چین نے بھی حال ہی میں اپنے 621 شہریوں کو ان فراڈ سینٹرز سے بازیاب کرایا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں اسکیم سینٹرز کے خلاف کارروائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تھائی لینڈ اور میانمار کی سرحد پر بھی حالیہ دنوں میں بڑی کارروائیاں کی گئی ہیں، جہاں اسکیم سینٹرز سے منسلک علاقوں میں بجلی، ایندھن، اور انٹرنیٹ کی سہولیات منقطع کر دی گئی ہیں۔

پاکستانی حکومت کا کردار

پاکستانی حکومت نے اس معاملے پر فوری طور پر رد عمل ظاہر کیا ہے اور اپنے شہریوں کی بازیابی کے لیے تھائی اور کمبوڈیا کی حکومتوں کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

اختتامیہ

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں فراڈ سینٹرز سے 50 پاکستانیوں سمیت 215 غیرملکیوں کی بازیابی ایک بڑی کامیابی ہے۔ تاہم، یہ واقعہ انسانی اسمگلنگ اور آن لائن فراڈ کے بڑھتے ہوئے خطرات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اس طرح کے جرائم کے خلاف سخت اقدامات کریں اور اپنے شہریوں کو ان خطرات سے آگاہ کریں۔ پاکستانی شہریوں کی بازیابی ایک خوش آئند خبر ہے، لیکن ابھی بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ان فراڈ سینٹرز میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کی رہائی کے لیے مزید کوششیں کی جانی چاہئیں۔