صرف 35 سال-سائنسدان نے 1704ء میں لکھے گئے ایک خط میں پیش گوئی کی تھی کہ دنیا کا وجود 2060ء میں ختم ہو جائے گا۔

معروف سائنسدان آئزک نیوٹن کی دنیا کے خاتمے سے متعلق اہم پیش گوئی سامنے آ گئی۔

سائنسدان آئزک نیوٹن جو حرکت اور کششِ ثقل کے قوانین بنانے کے لیے مشہور ہیں، انہوں نے 1704ء میں دنیا کے خاتمے سے متعلق اہم پیش گوئی کی تھی۔

سائنسدان نے 1704ء میں لکھے گئے ایک خط میں پیش گوئی کی تھی کہ دنیا کا وجود 2060ء میں ختم ہو جائے گا۔

دنیا کب اور کیسے ختم ہو گی؟ ناسا نے بتا دیا

طبیعیات کے ماہر نے قیامت سے متعلق مذکوہ پیش گوئی بائبل کی اپنی تشریح کی بنیاد پر کی تھی۔

ان کے خط کے مطابق ممکن ہے دنیا اس کے بعد ختم ہو، لیکن مجھے 2060ء سے قبل اس کے خاتمے کی کوئی وجہ نظر نہیں آ رہی۔

ان کی اس پیش گوئی نے بہت سے لوگوں کو بے چین کر رکھا ہے، کیونکہ انہوں نے جب 1704ء میں اپنا تفصیلی حساب لکھا تو شاید یہ تاریخ بہت دور لگ رہی تھی لیکن آج یہ صرف 35 سال کی دوری پر ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ اس تاریخ کے آنے پر زندہ ہوں گے۔
===================

8 ماہ سے خلاء میں پھنسے خلاء بازوں کی واپسی کی تاریخ سامنے آ گئی
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) میں سوار گزشتہ برس جون سے خلاء میں پھنسے ہوئے خلاء بازوں کی آئندہ ماہ 19 مارچ کو واپسی کی توقع ہے۔

غیر ملکی یڈیا رپورٹس کے مطابق ناسا کی خلاء باز 58 سالہ سنیتا ولیمز اور 62 سالہ بوچ ولمور ابتدائی طور پر 8 روز کے لیے خلاء میں گئے تھے، تاہم اسٹار لائنر کی خرابی کے سبب گزشتہ 8 ماہ سے خلاء میں پھنسے ہوئے ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بوئنگ اسٹار لائنز خلائی جہاز کی واپسی کے شیڈول میں تاخیر کی وجہ سے خلاء بازوں کا یہ سفر طے شدہ شیڈول سے بڑھ گیا۔

یہ بھی پڑھیے
روزانہ 16طلوع و غروبِ آفتاب کا نظارہ کر رہی ہوں: خلاء میں پھنسی سنیتا ولیمز
خلاء میں پھنسے بوئنگ اسٹار لائنر سے پُراسرار آوازیں آنے لگیں
امریکی خلا بازوں کا 8 یوم کا سفر 8 ماہ میں تبدیل ہونے کا خدشہ
بعد ازاں ان کی واپسی 2025ء کے فروری تک ہونی تھی تاہم اب ان خلاء بازوں کی آئندہ ماہ واپسی کا امکان ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آئندہ ماہ ایک نیا خلائی جہاز 12 مارچ کو لانچ ہو گا جو انہیں 19 مارچ کو زمین پر واپس لے آئے گا۔

واضح رہے کہ اس اضافی وقت کو دونوں خلاء باز اہم تحقیق میں حصہ لینے اور منفرد خلائی تجربات و دریافت کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔