کراچی پریس کلب میں قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کا دوسرا روز۔ پیکا قانون کے خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔ صحافی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اعلان۔


کراچی پریس کلب میں قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کا دوسرا روز۔

پیکا قانون کے خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔ صحافی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کا اعلان۔


کراچی( ) پی ایف یو جے کی اپیل پر ملک گیر احتجاج کے دوسرے روز بھی کراچی پریس کلب پر دانشوروں رائے عامہ کے رہنماؤں وکلا صحافیوں مزدور رہنماؤں اور حقوق انسانی کے علمبرداروں نے پیکا کو سیاہ ترین قانون قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے پی ایف یو جے کے سابق سیکرٹری جنرل مظہر عباس نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ازادی رائے صرف صحافیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر اس شخص کا مسئلہ ہے جو موبائل فون استعمال کرتا ہے اس کی آبادی بھی سلب ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے ہمیشہ کالے قانون بنائے ہیں کالے قانون کبھی ختم نہیں کئے۔کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر طاہر حسن خان نے کہا ہے کہ پیکا قانون کی مندرجات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اب یہ تحریک رکنے والی نہیں حکمران جن ایوانوں میں خود کو محفوظ سمجھ رہے ہیں انہیں عوامی سیلاب بہا کر لے جائے گا۔ پاکستان فیڈرل یونین اف جرنلسٹس کے نائب صدر خورشید عباسی نےکہا کہ جب بھی آزادی اظہار رائے کے خلاف کالے قانون بنائے گے صحافی برادری سڑکوں پر نظر آئی۔

انہوں نے کہا کہ پیکا قانون کی واپسی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ سی پی این ای کے سیکرٹری جنرل اعجاز الحق نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے پیکا قانون کے خلاف ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ ڈپٹی سیکرٹری جنرل سی پی این ای غلام نبی چانڈیو نے پیکا قانون کے خلاف پی ایف یو جے کی جاری تحریک کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکریٹری سردار لیاقت نے کہا کہ پاکستان کے میڈیا سے وابستہ تنظیموں نے ہمیشہ سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر کالے قوانین کے خلاف جدوجہد کی ہے۔ کراچی پریس کلب کے سابق صدر امتیاز خان فاران نے کہا کہ تمام سیاسی جماعت حزب اختلاف میں ہوتی ہیں تو واویلا مچاتی ہیں لیکن اقتدار میں جاتی ہیں تو انہیں سانپ سوکھ جاتا ہے پیپلز لائر فورم کے سیکرٹری اطلاعت نثار خٹک ایڈوکیٹ نے صحافیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ اپ کی تحریک کو جب بھی ضرورت ہوگی وکلا اپ کی بھرپور قانونی مدد کریں گے جسکم کے رہنما الہی بخش پکک نے کہا کہ سندھی قوم پرست مظلوم ہونے کے باوجود اپ کی تحریک کے ساتھ کھڑے ہیں، احتجاجی کیمپ سے ایچ آر سی کے چئیرمین اسد بٹ، جمشید حسین، بشیر سدوزئی، منظور رضی، منہاز الرحمن، شہناز خان، سالک مجید مشتاق سہل، اکرم خان، نیاز کھوکھر، کلثوم جمال، اخگر انور، وارث رضا، رفیق شیخ، اشرف بٹھی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر زندہ ہے صحافی زندہ ہے، پیکا قانون نامنظور، تیز ہو تیز ہو جدوجہد تیز ہو کے پرجوش نعرے لگائے گئے۔
جاری کردہ
سردار لیاقت
جنرل سیکرٹری
کراچی یونین آف جرنلسٹس
====================

پیکا کالا قانون نامنظور نامنظور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی پیکا ایکٹ2025 کے خلاف ملک گیر تین روزہ بھوک ہڑتالی کیمپ کے دوسرے دن بھی کراچی پریس کلب میں سول سوسائٹی انسانی حقوق کے علمبردار تنظیموں کے زعماء دانشوروں وکلاء کی بڑی تعداد نے بھوک ہڑتالیوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ کے یو جے کے زیر اہتمام بھوک ہڑتالی کیمپ میں 14 فروری بروز جمعہ تیسرے اور آخری دن سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے نمائندہ وفود شرکت کریں گے۔ آئیں اور پیکا کالے قانون کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔
(ھڑتالی کیمپ دن 11 بجے سے شام 5 بجے تک)
شکریہ۔
طاہر حسن خان صدر
سرداد لیاقت جنرل سیکرٹری
مجلسِ عاملہ کراچی یونین آف جرنلسٹس
تیز ہو تیز ہو جدوجہد تیز ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی پیکا ایکٹ2025 کے خلاف ملک گیر تین روزہ بھوک ہڑتالی کیمپ کے پہلے دن کراچی پریس کلب میں کے یو جے کے زیر اہتمام بھوک ہڑتالی کیمپ میں شہر کے ہر شعبے سے بڑی تعداد میں حاضری ھوئی 13 فروری آج دوسرے روز وکلاء انسانی حقوق کی نمائندہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے جمہوری پسند افراد نے ہڑتالی کیمپ میں بھرپور شرکت کا اعلان کیا ھے ھرتالی کیمپ دن گیارہ بجے سے شام 5 بجے تک قائم رہے گا آزادی اظہار رائے جو شہریوں کا بنیادی حق ھے پیکا کی شکل میں ایک کالا قانون مسلط کردیا گیا ھے اپنے بنیادی حق کی بحالی اور پیکا کے مکمل خاتمے کے لیے کراچی پریس کلب میں کے یو جے کے بھوک ھرتالی کیمپ میں ضرور اپنا احتجاج کرائیں۔
شکریہ۔
طاہر حسن خان صدر
سرداد لیاقت جنرل سیکرٹری
مجلسِ عاملہ کراچی یونین آف جرنلسٹس