انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت نے مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمیں آفاق احمد سمیت 11 افراد کو عدالتی ریماند پر جیل بھیج دیا۔

کراچی(کورٹ رپورٹر) انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت نے مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمیں آفاق احمد سمیت 11 افراد کو عدالتی ریماند پر جیل بھیج دیا۔ کراچی کلفٹن میں انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت میں مہاجر قومی موومنٹ کے چئرمین آفاق احمد کو بکتر بند گاڑی میں سخت سیکورٹی میں لایا گیا۔ لانڈھی میں میں ٹرک نذر آتش کرنے کے مقدمہ میں گرفتار مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد اور دیگر 10 کارکنان کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات کیوں لگائی گئی ہیں۔ سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ آفاق احمد کے کہنے پر جلاؤ گھیراؤ کیا گیا ہے، ٹینکر کمیونٹی اس وقت ان لوگوں کی وجہ سے انڈر تھریٹ ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ انڈر تھریٹ تو میں بھی ہوں تو کیا میں بھی کارروائیوں کا حکم دے دوں۔ سر آفاق بھائی کے کہنے پر ڈمپر جلائے گئے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کام کی بات کرو۔ 144 پر انسداددہشت گردی کیسے لگ گئی۔ سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ ڈمپر جلانا خوف پھیلانا ہے اسی دہشتگردی کی دفعہ لگائی گئی ہے۔ جاوید چھتاری ایڈوکیٹ مے موقف دیا کئ ڈمپر کئی کئی لوگوں کو کچل رہے ہیں یہ خوف کی علامت ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے ہاں ڈسپلن نہیں ہے۔ لیکن بیرون ملک پہنچتے ہی سب ڈسپلن میں آجاتے ہیں۔ جب تک بھاری جرمانہ نہیں ہوتا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ گاڑی جلانا دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ مدعی کون ہے۔ ٹینکر کا مالک کہاں ہے۔ عدالت نے کہا کہ آفاق احمد کہاں ہیں، آپ اچھا بولتے ہیں۔ بدقسمتی ہے کہ قوم نے آپ سے فائدہ نہیں اٹھایا۔کچے میں ڈاکو ہیں پکے میں ڈاکو نہیں ہوتے۔ یہ تو ہمارے محافظ ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اس سیکشن میں سزا کتنی ہے۔ محمد فاروق ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ آفاق احمد کی گرفتاری دہشتگردی کی دفعات میں نہیں آتی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے میں آپ سے زیادہ قانون جانتاہوں کیونکہ آپ جونیئر ہیں۔پراسیکیوٹر کو بتانے دیں کہ ریمانڈ کس سیکشن میں چاہیئے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ریمانڈ کیوں چاہیئے۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ تفتیش کیلئے ریمانڈ چاہیئے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو علم ہی نہیں۔ آپ مجھے شواہد بتائیں۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ ڈرائیور اور دیگر کو ڈرائیور اور دیگر کو گرفتار کرنا۔گرفتار ہونے والے ملزمان سے اسلحہ اور پیٹرول برآمد ہوا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ مجھے بتائیں ریمانڈ کیوں چاہیئے کیا تفتیش کرنی ہے۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ 2 شخص مسنگ ہیں۔ لاکھوں کاسامان مسنگ ہے۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ یہ تو مشکوک معاملہ ہے اس میں جسمانی ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے میں ملزم کو جیل بھیج رہا ہوں۔ سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ ٹینکر جلانے کی وجہ سے شہر خوف کی علامت بنا ہوا ہے اس لیے اے ٹی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس مقدمے میں جو بھی دفعات لگائی گئی ہیں اس میں کس طرح اے ٹی اے لگ سکتی ہے؟ آپ کے پاس ایسے کیا شواہد ہیں جس کی بنیاد پر ریمانڈ مانگ رہے ہیں۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ ڈمپر کا ڈرائیور اور کنڈیکٹر مسنگ ہیں خدشہ ہے ان کے پاس ہیں۔ دو انسانی جانوں کا مسئلہ ہے، لاکھوں روپے کی چینی کی بوریاں غائب ہیں۔ ان کو بازیاب کرانا ہے اس لیئے ریمانڈ مانگ رہے ہیں۔ عدالت نے آفاق احمد کو عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا جبکہ ان کی درخواست ضمانت پر فریقین کو نوٹس جاری کردئیے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر سے مقدمہ کا چالان طلب کرلیا۔ سماعت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے آفاق احمد کاکہنا تھا کہ اس شہر کے لیے آواز بلند کرنے کی سزا دی جارہی ہے،مجھے جیل بھیج کر وہ لوگ واضح ہوگئے ہیں جو اس مافیا کے ساتھ ہیں، اس شہر میں جان لیوا گاڑیاں دندناتی ہوئی پھر رہی ہیں، میرا کیا مطالبہ تھا میں تو قانون کے مطابق ہیوی ٹریفک کی روانی چاہتا تھا، حکومت اس وقت ڈمپر مافیا کی سرپرستی کررہی ہے ،پیپلز پارٹی اس معاملے میں مکمل طور پر ایکسپوز ہوگئی ہے, عدالت نے مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کی جیل میں بی کلاس سہولیات دینے کی درخواست منظور کرلی۔اس موقع پر کارکنان کی بڑی تعداد بھی عدالت پہنچ گئی۔آفاق احمد پر پھول نچھاور کیے گئے اور نعرے بھی لگائے گئے۔