
دی یونیورسٹی آف لاہور کا 16ویں کانووکیشن گزشتہ روز مین کیمپس ڈیفنس روڈ میںمنعقد ہوا جس میں وزیر سپورٹس اینڈ یوتھ آفیئرز پنجاب ملک فیصل ایوب کھوکھر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ کانووکیشن میں چیئر مین بورڈ آف گورنرز دی یونیورسٹی آف لاہور اویس رئوف ،ڈپٹی چیئرمین عزیر رئوف ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف ، وائس چانسلر اکیوٹیر یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی یوگینڈامحمد مپیزامہیگو، پروریکٹر ناصر محمود ،ڈائریکٹر سٹوڈنٹس آفیئرز عمارہ اویس ، پرنسپل یونیورسٹی کالج آف میڈیسن ڈاکٹر مہوش عروج ، رجسٹرار علی اسلم، کنٹرولر عاصم علی ، ڈینز اصغر ندیم سید ،مغیث اے بیگ ،ڈاکٹر زاہد پرویز ،ڈاکٹر عاطف کاظمی سمیت دیگر فیکلٹی ممبران اور سٹوڈنٹس نے والدین کے ہمراہ شرکت کی۔ 16ویں کانووکیشن میں 5486سٹوڈنٹس کو ڈگریاں تقسیم کی گئیں ۔ کانووکیشن میں 169سٹوڈنٹس کو گولڈ میڈل دیے گئے جبکہ 125سٹوڈنٹس کو پی ایچ ڈی کی ڈگریاں ،1117کو گریجویٹ اور 4244سٹوڈنٹس کو انڈر گریجویٹ ڈگریاں دی گئیں ۔دی یونیورسٹی آف لاہور سے مختلف ڈسپلن میں ابتک 84083گریجویٹس فارغ التحصیل ہوچکے ہیں۔ یونیورسٹی آف لاہور نے ریسرچ و رک پر خصوصی توجہ دی ہے ۔ ابتک 440پی ایچ ڈی پروڈیوس کرچکی ہے ۔یونیورسٹی میں 50سے زائد ڈیپارٹمنٹس موجود ہیں اور 11فیکلٹیز دستیاب ہیں۔تمام کیمپسز میں اس وقت 30ہزار سے زائد سٹوڈنٹس زیر تعلیم ہیں ۔وزیر سپورٹس اینڈ یوتھ آفیئرز پنجاب ملک فیصل ایوب کھوکھرنے دی یونیورسٹی آف لاہور کے 16ویں کانووکیشن سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں سے زیادہ انتظار والدین کو ہوگا جنکی سالوں کی محنت آج رنگ لائی ہے ۔ آپ لوگ خوش قسمت ہے جنکو یونیورسٹی آف لاہور میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں جو شخص جس کے لیے محنت کرتا ہے اسکو اسکا صلہ لازمی ملتا ہے۔یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد آ پ لوگوں نے اپنے ملک اور ادارے کا نام روشن کرنا ہے۔آپ سے درخواست ہے جہاں بھی نوکری کریں رات کو یہ لازمی سوچنا کہ سوسائٹی کے لیے کیا کیا ہے۔آپ میں سے جب کوئی ڈاکٹر یا انجینئر بن کر ملک کی خدمت کرے گاتو آپکے ادارے اور ٹیچرز کو فخر ہوگا ۔جب ہم گریجویٹ ہوتے ہیں تو ہمیں اپنی جاب کی بھی فکر پڑی ہوتی ۔ہم نے اہم قدم اٹھا یا تھا


کہ جو یونیورسٹیز سے فریش گریجویٹ ہیں انکو ادائیگی کے ساتھ انٹرن شپ کروائی جائے ۔60ہزار سے شروع کیا تھا اور چھ ہزار سٹوڈنٹس کو ادائیگی کے ساتھ انٹرن شپ دی ۔وہ پروگرام تو مکمل ہو گیا ہے لیکن بہت جلد انشائ اللہ نئے پروگرام میں یونیورسٹی آف لاہور کے فریش سٹوڈنٹس کو ایڈجسٹ کروں گا۔40ہزار سٹوڈنٹس یہاں اگر پڑھ رہا ہے تو سب سے زیادہ انٹرنیشنل سٹوڈنٹس بھی یہاں پڑھتے ہیں۔انٹرنیشنل سٹوڈنٹس کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے آج ڈگریاں وصول کیں ۔کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے چیئر مین دی یونیورسٹی آف لاہور اویس رئوف نے کہا کہ یہ کانووکیشن ہم سب کے لیے اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ کیونکہ آج یونیورسٹی کو قائم ہوئے 25سال ہو گئے ہیں ۔لیکن یہ کاونوکیشن ہمارے لیے خوشی کا باعث بھی نہیں ہے کیونکہ اس سال یونیورسٹی کے پیٹرن انچیف ایم اے رئوف ہمارے درمیان نہیںہیں لیکن ہم سب انکے مشن کو آگے لیکر چلیں گے ۔انہوں نے ایم ایچ قاضی کے ہمراہ جو ادارہ قائم کیا تھا وہ آج تناور درخت کی صورت اختیا ر کر چکا ۔ابتدائی طور پر یونیورسٹی نے 200داخلوں سے آغاز کیا تھا اور اس وقت 40ہزار سے زائد سٹوڈنٹس اس کیمپس میں زیر تعلیم ہیں ۔ ابتک چھ یونیورسٹیز قائم کر چکے ہیں۔سٹوڈنٹس کو مخاطب کر تے ہوئے انکا کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی 24کروڑ ہے جس میں سے 45لاکھ بچے 18سال سے زائد ہیںلیکن صرف چھ لاکھ بچوںکو یونیورسٹیز داخل دے سکیں ۔ انکے لیے یونیورسٹی آف لاہور جیسے سینکٹروں ادارے مزید چاہیے ۔یونیورسٹی آف لاہور نے عالمی رینکنگ میں ٹاپ 10میں پوزیشن حاصل کی ہے جو ہم سب کے لیے ایک اعزاز ہے۔ہم نے ریسرچ اینڈ کوالٹی ورک کو فوکس کیا ہوا ہے ۔ہم نے گزشتہ 25سال سے فیکلٹی سٹاف سمیت دیگر شعبوں پر خصوصی فوکس کیا ہے ۔اس وقت 1500بیڈز پرمشتمل ہسپتال بھی یونیورسٹی آف لاہور کے زیر نگرانی چل رہے۔ہم سٹوڈنٹس کو باہر کی یونیورسٹیز میں تعلیم دلوانے کے لیے انٹرنیشنل یونیورسٹیز کے ساتھ معاہدے کر رہے ہیں۔ہماری یونیورسٹی میں بیرون ممالک سے 900کے لگ بھگ سٹوڈنٹس زیر تعلیم ہیں ۔کانووکیشن سے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ ملک میں 265پرائیویٹ و سرکاری یونیورسٹیز ہیں جن میں سے یونیورسٹی آف لاہور نے عالمی رینکنگ میں ٹاپ 10میںپوزیشن حاصل کی ہے ۔میں نے بہت ساری یونیورسٹیز میں بطور وائس چانسلر خدمات سرانجام دی ہیں لیکن جو معیار یونیورسٹی آف لاہور کا ہے وہ کسی اور کا نہیں دیکھا۔ہم نے ریسرچ ورک کو خصوصی طور پر فوکس کیا ہوا ہے ۔ ہمارے جتنے بھی سٹوڈنٹس فارغ التحصیل ہو تے وہ ایلومینائی کا حصہ بن جاتے اور دنیابھر میں یونیورسٹی آف لاہورکا نا م روشن کرتے ہیں ۔ آپ لوگوں سے بھی یہی امید ہے کہ پاکستان میں رہیںیا بیرون ممالک یونیورسٹی آف لاہور کا نام روشن کرتے رہیے گا۔وائس چانسلر اکیوٹیر یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی یوگینڈامحمد مپیزامہیگونے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ ایم اے رئوف کے ساتھ انکا ساتھ 15سال پرانا ہے امید کرتا ہوں کہ انکے جانے کے بعد انکے مشن کو جاری رکھا جائےگا۔اس وقت دنیا بھر کو مختلف چیلنجز درپیش ہیں جنکے حل کے لیے اسلامی ممالک سمیت دیگر ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔سٹوڈنٹس کو مخاطب کر تے ہوئے انکا کہنا تھا کہ جب آپ یونیورسٹی آف لاہور کے اندر داخل ہوتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ محفوظ ہاتھوں میں آگئے ہیں ۔والدین کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے بہترین سرمایہ کاری کی ہے ۔چیئر مین اویس رئوف نے افریقہ ممالک کے لیے بہت سکالرشپ دیے ہیں جو انکی تعلیم دوست ہونے کا ثبوت ہے ۔انہوںنے کہا کہ پاکستان ایک عظیم ملک ہے جو اسلامی ممالک کے لیے مشعل راہ کی حیثت رکھتا ہے۔کانووکیشن کے اختتام پر چیئر مین اویس رئوف نے وائس چانسلر اکیوٹیر یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی یوگینڈامحمد مپیزامہیگو کو اعزازی شیلڈ پیش کی ۔
https://www.youtube.com/@jeeveypak/videos























