کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی/میو اسپتال، لاہور کے شعبہ اطفال سرجری نے بین الاقوامی سرجیکون 2025 کے پری کانفرنس ایونٹ کے طور پر ایک عملی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ منعقد کی۔

کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی/میو اسپتال، لاہور کے شعبہ اطفال سرجری نے بین الاقوامی سرجیکون 2025 کے پری کانفرنس ایونٹ کے طور پر ایک عملی ورکشاپ کامیابی کے ساتھ منعقد کی۔ یہ ورکشاپ پروفیسر محمود ایاز کے اسکل لیب میں منعقد ہوئی، جس نے سرجیکل ٹریننگ کے لیے ایک بہترین ماحول فراہم کیا۔

اس تقریب کو معزز شخصیات کی موجودگی سے رونق بخشی گئی، جن میں شامل تھے:

پروفیسر محمود ایاز – وائس چانسلر، کے ای ایم یو

پروفیسر وارث فاروقہ – صدر، سوسائٹی آف سرجنز آف پاکستان (ایس ایس پی)، لاہور چیپٹر

پروفیسر محمد سلیم – سابق پرو وائس چانسلر، یو سی ایچ ایس اور آئی سی ایچ (مہمانِ خصوصی)

پروفیسر معین – پرو وائس چانسلر، کے ای ایم یو

پروفیسر ہارون حمید – ڈین آف پیڈیاٹرکس

پروفیسر نبیلہ طلعت – رجسٹرار، یو سی ایچ ایس اور آئی سی ایچ

پروفیسر یار محمد – انچارج ایمرجنسی روم، میو اسپتال

ڈاکٹر شاہد فاروق – سیکریٹری، ایس ایس پی لاہور چیپٹر

ڈاکٹر کاشف بشیر – چیئرمین و سربراہ، شعبہ اطفال سرجری

ڈاکٹر محمد عمر – سابق سیکریٹری، ایس ایس پی لاہور چیپٹر

شعبہ اطفال سرجری کے سینئر فیکلٹی ممبران اور مختلف اسپتالوں سے 28 شرکاء نے اس ورکشاپ میں شرکت کی، جس نے اسے ایک مؤثر اور تعلیمی اعتبار سے مفید تجربہ بنا دیا۔

سیشن کا آغاز ڈاکٹر عادل افتخار کی جانب سے “امبیلیکل وینس کیتھیٹرائزیشن” پر ایک تعارفی لیکچر سے ہوا، جس کے بعد ڈاکٹر اسد منیر نے ایک بصیرت انگیز ویڈیو ڈیمانسٹریشن پیش کی۔ عملی تربیت کے مرحلے میں ڈاکٹر جمیل اختر، ڈاکٹر بتول فاطمہ، ڈاکٹر محمد اعظم اور ڈاکٹر عبداللہ نے شرکت کنندگان کی رہنمائی کی، تاکہ وہ اس تکنیک کا عملی تجربہ حاصل کر سکیں۔

اس ورکشاپ کی خاص بات پروفیسر محمود ایاز کی “امبیلیکل وینس کیتھیٹرائزیشن” پر ایک انتہائی مفید اور بصیرت افروز تقریر تھی، جس نے اس تکنیک اور اس کی طبی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

ورکشاپ کی کامیابی کا سہرا پورے شعبہ اطفال سرجری، بشمول پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی انتھک محنت کو جاتا ہے۔ ان کی تعلیمی و تربیتی ترقی کے لیے لگن اس تقریب کے دوران نمایاں نظر آئی۔

یہ ورکشاپ کے ای ایم یو/میو اسپتال میں اطفال سرجری کی تربیت کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اور اہم قدم ثابت ہوئی۔ یہ اس بات کا عکاس ہے کہ شعبہ اطفال سرجری تعلیمی برتری اور مہارتوں کے فروغ کے لیے مسلسل کوشاں ہے، جو مستقبل میں سرجیکل تعلیم کی ترقی کی راہ ہموار کرے گا۔