مصنوعی ذہانت کے انقلاب سے اب تھرپارکر بھی بہرہ ور ہوگا،ڈاکٹر سروش لودھی

مصنوعی ذہانت کے انقلاب سے اب تھرپارکر بھی بہرہ ور ہوگا،ڈاکٹر سروش لودھی

انسانی مستقبل بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت پر منحصر ہونے جارہا ہے،فیصل عُقیلی

تھر انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنںس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے تحت دو روزہ عالمی کانفرنس کا انعقاد

کراچی/ تھرپارکر() جامعہ این ای ڈی کے تھر انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تحت دو روزہ کمپیوٹر سائنس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت شیخ الجامعہ ڈاکٹر سروش حشمت لودھی نے کی جب کہ مہمانِ خصوصی کمشنر میرپور خاص فیصل احمد عُقیلی اور ڈپٹی کمشنر عبدالعلیم جاگیرانی نے اعزازی مہمان کی حیثیت سے شرکت کی۔ کانفرنس میں بریفنگ دیتے ہوۓ ڈین ای سی ای ڈاکٹر سعد احمدقاضی نے دورِِ حاضر میں کمپیوٹر اور اس متعلقہ اس کانفرنس کو تھرپارکر کے طالب علموں کے لیے خوش آئند قرار دیا۔ اسقبالیہ سے خطاب انسٹی ٹیوٹ آف انجئنیرز پاکستان کے چیئرمین انجئنیر سہیل بشیر نے کیا. بریڈفورڈ یونی ورسٹی یوکے سے آۓ ڈاکٹر طلال الدابی، ڈاکٹر ماریاتی بنت محمد یوسف کی نوٹ اسپیکر تھے۔ اٹلی سے کی۔نوٹ اسپیکر ڈاکٹر ماریا لوریا نے آن لائن شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوۓ شیخ الجامعہ ڈاکٹر سروش حشمت لودھی کا کہنا تھا کہ أرٹیفیشل انٹیلیجنس کی اصطلاح سائنس دان جان میک کارتھی نے استعمال کی تھی۔ انہوں نے اس کو ایسی مشینیں بنانے کی سائنس قرار دیا جو ذہانت کی حامل ہوں۔اپنے اردگرد نظر ڈالیں، تمام ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT)، مشین لرننگ اور روبوٹکس تک، سب کچھ مصنوعی ذہانت کے گرد گھوم رہا ہے۔ مستقبل میں اے آئی کا دائرہ وسیع تر ہوتا نظر آرہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی پیش رفت دیکھیں تو سیلف ڈرائیونگ کاروں کے علاوہ اب اساتذہ روبوٹس بھی پڑھاتے نظر آرہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے انقلاب سے اب تھرپارکر بھی بہرہ ور ہوگا، یہاں صلاحیت کی کمی نہیں، اپنے نوجوانوں کوٹیکنالوجی کی اس انقلابی دنیا سے آشنا کروانا ہماری ذمے داری ہے۔ اس موقعے پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوۓ کمشنر میرپور خاص فیصل عُقیلی نے مصنوعی ذہانت کے مثبت پہلوؤں کو اُجاگر کرتے ہوۓ کہا کہ انسانی جان کے لیے خطرہ بننے والے معاملات روبوٹس کے ذریعے حل کروائے جاسکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی میں مہارت حاصل کرنا طالب علموں کے لیے فائدہ مند ہے، انسانی مستقبل بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت پر منحصر ہونے جارہا ہے، اس شعبے میں سرٹیفیکیشن حاصل کرنا ایک دُرست سوچ ثابت ہوگی۔ ابھی سے این ای ڈی سمیت متعدد ادارے اے آئی سے متعلق کورسز کا آغاز کر چکے ہیں، جس میں آن لائن کورسز بھی شامل ہیں۔ ایسے میں طلبا کو تدریس جاری رکھتے ہوئے اے آئی میں مہارت حاصل کرنے پر بھی توجہ مرکوز کرنا چاہیے۔ اس دو روزہ کانفرنس میں صدر آئی ای پی فرحت عادل، پرووائس چانسلر ڈاکٹر محمد طفیل جوکھیو، پرنسپل تھر انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر ناصر الدین شیخ، رجسٹرار این ای ڈی سید غضنفر حسین، چیئرمین شعبہ کمپیوٹر سائنس(تھر) ڈاکٹر عباس علی، ڈاکٹر شہنیلہ زرداری، ڈاکٹر مبشر خان، ڈاکٹر صداقت اللہ، ڈاکٹر تہمینہ ایوب، کانفرنس سیکریٹری ڈاکٹر ماجدہ کاظمی سمیت دیگر ماہرین نے شرکت کی۔ کانفرنس کے۔اختتام پر پوسٹر مقابلوں کے تمام طالب علموں میں انعامات تقسیم کیے گئے جب کہ سیکریٹری آئی ای پی فاروق عربی نے ملکی و غیر ملکی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔