سندھ کابینہ کے فیصلے کے مطابق یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر کے تقرر کو بہتر کیا گیا ہے، اب یہ طریقہ اختیار کیا جارہا ہے کہ استاد ، وائس چانسلر کے نمائندے کے ساتھ ساتھ کوئی ریٹائرڈ اور متعلقہ شعبے کا ماہر بھی وائس چانسلر کا امیدوار ہوسکتا ہے،

کراچی 27 جنوری ۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ کابینہ کے فیصلے کے مطابق یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر کے تقرر کو بہتر کیا گیا ہے، اب یہ طریقہ اختیار کیا جارہا ہے کہ استاد ، وائس چانسلر کے نمائندے کے ساتھ ساتھ کوئی ریٹائرڈ اور متعلقہ شعبے کا ماہر بھی وائس چانسلر کا امیدوار ہوسکتا ہے، موجودہ نظام کے تحت کوئی بھی پروفیسر وی سی مقرر ہو سکتا ہے، پروفیسر کے بطور وی سی تقرری کا قانون بھی پاکستان پیپلز پارٹی نے ہی بنایا تھا، ایسا نہیں ہے کہ کوئی پروفیسر وی سی مقرر نہیں ہو سکتا لیکن اس کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا ڈائریکٹوریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ یونیورسٹی کے سابقہ وی سی علامہ ائی آئی آئی قاضی، مظہر الحق صدیقی، نثار صدیقی، مہران یونیورسٹی کے مظفر شاہ بیوروکریٹ تھے، مگر وہ وی سی تعینتات ہوئے، پہلے 8 جامعات تھے آج سندھ میں 30 یونیورسٹیز ہیں، درخواست گزار محدود ہوجائیں گے تو کیا کریں گے، نئے طریقہ کار کے تحت عمر کی حد 62 سال اور متعلقہ فیلڈ میں پی ایچ کی شرط رکھی گئی ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز سے گذارش ہے کہ حکومت سندھ کے ساتھ تعاون کریں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ایک تاجر رہنما نے ایک وفاقی وزیر کی موجودگی میں کچھ ریمارکس دیئے اس پر کہنا چاہوں گا کہ پنجاب بھی ہمارا صوبہ ہے اور پنجاب میں موٹر ویز کی ترقی ہو رہی ہے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ وفاقی حکومتیں زیادہ تر پنجاب کے جماعتوں کی ہی رہیں، انہوں نے موٹر ویز پر توجہ دی جبکہ سندھ میں موٹر ویز کے حوالے سے زیادتی ہوتی رہی ہے جس کا ہم نے اظہار بھی کیا ہے۔ وفاق منصوبوں میں سندھ یاباقی صوبوں کے ساتھ کتنی زیادتی ہوئی، ہمارے پاس فہرست موجود ہے، لیکن وزرائے اعلیٰ کا موازنہ کرنا ہے تو مختلف میگا پروجیکٹس کو دیکھنا چاہئے، صوبہ سندھ میں توانائی کے شعبے میں تھر کول جیسے منصوبے پر کام ہوا، تھر کول کا منصوبہ پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ نے شروع کیا، پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے اس منصوبے کو بند کردیا ، 2008 میں صدر آصف علی زرداری کی حکومت دوبارہ آنے پر تھر کول منصوبے پر کام دوبارہ شروع کیا گیا۔ آج تھر کا کوئلہ پورے ملک میں سب سے سستا کوئلہ ہے اور اس کی بجلی سب سے سستی ہے، ماہرین بھی مانتے ہیں کہ سب سے سستی بجلی تھر کے کوئلے سے ہی بن سکتی ہے۔سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ صحت کے شعبے میں صوبہ سندھ سب سے آگے ہے، این آئی سی وی ڈی، این آئی سی اچ، سائبر نائف جیسا ایک بھی ماڈل پاکستان کے کسی صوبے میں نہیں ملے گا، سندھ کے گمبٹ ہسپتال میں جگر اور پھیپھڑے کی مفت میں پیوندکاری ہو رہی ہے، ایسا ماڈل کہیں نہیں ملے گا، سندھ کا سائبر نائف دنیا کا واحد یونٹ ہے جہاں مفت علاج ہوتا ہے۔ انسانی صحت اور جان سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ سڑکوں کی بہتری کے لئے کام کر رہی ہے، سندھ کی جامعات بہترین تعلیمی خدمات فراہم کر رہی ہیں، سولرائزیشن کے منصوبے کے تحت حکومت سندھ لاکھوں افراد کو سستی ترین سولر بجلی فراہم کرنے کے منفرد منصوبے پر کام کررہی ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ویژن کے تحت دنیا میں سیلاب متاثرین کیلئے 21 لاکھ گھروں کی تعمیر اور مالکانہ حقوق کے ساتھ فراہمی سندھ حکومت کا ایک اہم ترین منصوبہ ہے۔سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پر عوام نے ہر نئے الیکشن میں پہلے سے زیادہ اعتماد کیا اور زیادہ ووٹ دیئے۔پیپلز پارٹی کی عوام میں پذیرائی ہے، کچھ چیلنجز ہیں اور حکومت سندھ ان سے نمٹنے کے لئے کوشاں ہے۔ صدر آصف علی زرداری ، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، محترمہ فریال تالپور اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سندھ کی ترقی کیلئے بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں ، آج بھی سندھ کی جانب سب صوبوں سے لوگ روزگار اور کاروبار کئے رخ کررہے ہیں یہ سندھ حکومت کی کارکردگی کا ایک اہم ثبوت ہے، پورا پاکستان اور سارے صوبے ہمارے صوبے اور ہمیں پیارے ہیں اور سندھ سب صوبوں کے لوگوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں حکومت سندھ کے 180 ارب روپے محکمہ ایکسائز کے سیس ٹیکس کے پھنسے ہوئے ہیں، سیس ٹیکس کی یہ رقم حکومت سندھ کو ملنی چاہئے، سندھ اپنے محدود مالی وسائل میں اپنے عوام کی بہترین خدمت کررہا ہے، ہم کہتے ہیں کہ خدارا وہ پیسے سندھ کو دیں تاکہ یہاں کام ہو سکیں۔ایک سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ چینی شہریوں کے حوالے سے وزیر داخلہ اور آئی جی سندھ پہلے ہی وضاحت دے چکے ہیں، ہمیں چینی شہریوں کا تحفظ اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے، سکیورٹی کے سلسلے میں کچھ ایس او پیز بنائی گئی ہیں ہم چاہتے ہیں کہ سب ان ایس او پیز پر عمل کریں۔ ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پروفیسر یقیناً وائس چانسلر بن سکتے ہیں لیکن انتظامی ماہرین میں سے بھی اگر بہتر نمائندہ مل سکتا ہے تو اسے بھی موقع ملنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت پی ٹی آئی سنجیدہ اندرونی تضادات کا شکار ہے، ہم چاہتے ہیں کہ وہ مذاکرات کی ٹیبل پر آئیں اور ملک کے خلاف غیر ملکی سازشیں بند کردیں، جب ان کے بانی کو سزا ہوئی تو ایک شخص بھی احتجاج کے لئے باہر نہیں نکلا۔ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کی حمایت کرتا ہوں، ، تجاوزات کے خلاف ایکشن پر پولیس پر حملے ہوتے ہیں، حکومت کو عوامی ردعمل کے مطابق فیصلے کرنے پڑتے ہیں ۔ ہمیں اپنی سوچ میں بہتری لانی چاہئے اور تجاوزات کے خلاف کارروائی کے وقت تجاوزات کرنے والوں کے خلاف حکومتی کارروائی میں تعاون کریں۔ایک سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے صدر آصف علی زرداری کے دور میں این ایف سی ایوارڈ لیا اور پارلیمنٹ کو ہمیشہ کیلئے مضبوط کردیا۔

ہینڈآؤٹ نمبر 106۔۔۔

ڈائریکٹو ریٹ آف پریس انفارمیشن فون۔99204401

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ

کراچی

مور خہ 27 جنوری 2025

سندھ کابینہ کی کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس – ناصر شاہ، سعید غنی، ضیا النجار کی شرکت – اہم فیصلے

کراچی 27 جنوری ۔ سندھ کابینہ کی کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی صوبائی وزیر توانائی و پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ممبران وزیر بلدیات سندھ سعید غنی اور وزیر داخلہ و قانون سندھ ضیاء الحسن لنجار نے شرکت کی۔ اجلاس میں ترجمان سندھ حکومت سمیتا افضال سید نے خصوصی طور پر شرکت کی جبکہ اجلاس میں سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری تعلیم، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، سیکرٹری آبپاشی، سیکرٹری یونیورسٹی اینڈ بورڈز کے علاوہ دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں سانگھڑ کیڈیٹ کالج کے 400 کلو واٹ سولرائزیشن کے لئے 120 ملین روپے غیر ترقیاتی فنڈز سے ادا کرنے کے لئے طویل مشاورت اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب سے اس پر اعتراضات کو دور کرنے کے بعد منظوری دی گئی اور اس پر پابند کیا گیا کہ سانگھڑ کیڈیٹ کالج سمیت سندھ بھر کے تمام کیڈیٹ کالجز مستقبل میں اپنے ذاتی فنڈز کو اس طرح یوٹیلائیز کریں کہ انہیں سندھ حکومت سے گرانٹ کی ضرورت پیش نہ آئے۔ اجلاس میں لوکل گورنمنٹ کے تحت ڈسٹرکٹ سجاول میں 77.858 ملین رقم کی لاگت سے سڑکوں کی 2021 میں شروع کی گئی تعمیر میں اب تک 29.88 ملین کے اخراجات ہونے اور بقیہ 47 ملین روپے کی غیر ترقیاتی فنڈز کی رقم جاری کرکے اس منصوبے کو مکمل کرنے کی درخواست پر ممبران کمیٹی نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی اس کی مشروط اجازت دیتے ہوئے اس منصوبے کو اسی لاگت میں پورا کرنے اور اس کی رئیوائس سمری نہ بھیجنے کی تحریری ضمانت کی ہدایات دی۔ اجلاس میں سندھ کلچر، ٹورزم اینڈ آرکائیوز کی جانب سے سندھی ڈرامہ، فلمز اور ویب سیریز کے ذریعے سندھی کلچر کو فروغ دینے کی غرض سے 2 کروڑ روپے کہ گرانٹ پر اس ایجنڈے کو سندھ انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کو بھیجنے اور وہاں سے اسے انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے ذریعے بھیجنے کی ہدایات دی۔ چیئرمین کمیٹی سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے اس حوالے سے انفارمیشن ڈپارٹمنٹ میں 1 ارب روپے کا فنڈز رکھا ہے اور یہ انہی کے ذریعے دیا جاسکتا ہے۔ اجلاس میں کڈنی سینٹر کے لئے 500 ملین کی ایک بار کی گرانٹ جس سے 15 بیڈ کے آئی سی یو سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کے لئے درخواست پر ڈائریکٹر کڈنی سینٹر نے تفصیلات بتائی، تاہم کمیٹی کے ارکان نے سیکرٹری صحت کو آئندہ اجلاس میں اس کی تفصیلی رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایات دی۔ اجلاس میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ بحالی کی عمارت کی توسیع اور اس پر دو نئی منزلہ تعمیر کے لئے 600 ملین میں سے 200 ملین غیر ترقیاتی فنڈز جبکہ باقی آئندہ 400 ملین روپے آئندہ مالی سال کے سالانہ ترقیاتی اسکیموں میں شامل کرنے پر کمیٹی نے منظوری دے دی۔ اجلاس میں محکمہ آبپاشی کی جانب سے ایم این وی ڈریں کی آڑ او بی ڈی 1 اور 3 کے سال 2022 میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ حصوں کی بحالی جو کہ وفاقی حکومت کے تحت ہونا ہے واپڈا سے فنڈز کی تاحال ادائیگی نہ ہونے اور اس سے سندھ کے عوام کے متاثر ہونے پر منظوری دیتے ہوئے کمیٹی نے زور دیا کہ واپڈا سے اس کی ادائیگی لی جائے اور فنڈز واپس جمع کروائے جائیں۔ اجلاس میں محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی میں کنسلٹینٹ کی تعیناتی کا ایجنڈا آئندہ اجلاس تک موخر کردیا۔
=================

وزارت ریلوے نے آئندہ چند ماہ میں 15 ہزار اضافی پوسٹیں ختم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جو وزارت کی رائٹ سائزنگ کوششوں کا حصہ ہے۔

یہ فیصلہ کابینہ کمیٹی برائے رائٹ سائزنگ کے پیر کو ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کی، جس کا مقصد وفاقی وزارتوں میں رائٹ سائزنگ کے اقدامات کی پیشرفت کا جائزہ لینا تھا۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وزیر کو آگاہ کیا کہ 29 وزارتوں اور ایک آئینی ادارے سے 11,877 پوسٹوں اور 4,660 مرنے والی پوسٹوں کے خاتمے کی تصدیق حاصل ہو چکی ہے۔

اورنگزیب نے کمیٹی کے فیصلوں کے نفاذ کی تعریف کی اور وزارتوں اور محکموں کی کوششوں کو سراہا۔

وزارت ریلوے نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ 17101 پوسٹیں پہلے ہی ختم کی جا چکی ہیں جبکہ 5,695 پوسٹوں کو ختم کرنے کا عمل جاری ہے، جو کہ 95859 منظور شدہ پوسٹوں میں سے ہیں۔

اس کے علاوہ، وزارت نے منصوبہ بندی کی ہے کہ آئندہ قریب میں 15000 اضافی پوسٹیں بھی ختم کی جائیں گی تاکہ وزارت کی حقوق سائزنگ کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

اجلاس میں وزارت کی کارکردگی کو اس کے بنیادی مینڈیٹ سے ہم آہنگ کرنے اور غیر ضروری پوسٹوں کو کم کرنے پر زور دیا گیا۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اس معاملے کو مزید جائزے اور تجویز کردہ اقدامات کے نفاذ کے لیے سب کمیٹی برائے حقوق سائزنگ کو بھیجا جائے گا۔