
سندھ حکومت طلبہ یونین کے انتخابات فوری منعقد کروائے، قانون سازی کو 3 سال گزر گئے، جمعیت
کراچی (پریس ریلیز): اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے تحت سندھ اسمبلی میں پیش کردہ جامعات وائس چانسلر بل, طلبہ یونین الیکشن کی قراداد کے مسترد ہونے اور انٹر میڈیٹ نتائج میں بے ضابطگیوں کے خلاف پریس کلب تا سندھ اسمبلی ریلی نکالی گئی، انتظامیہ کی تمام رکاوٹوں کو عبور کرنے کے بعد ریلے سندھ اسمبلی پہنچنے میں کامیاب ہوگئ جسے دھرنے میں تبدیل کردیا گیا۔
ناظم اسلامی جمعیت طلبہ کراچی حافظ محمد آبش صدیقی کا سندھ اسمبلی کے باہر دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سندھ حکومت طلبہ یونین کے انتخابات سے راہ فرار اختیار کررہی ہے، جمعیت کا یہ احتجاج پورے صوبے کی طلبہ کی آواز بنا ہے، طلبہ یونین کے انتخابات منعقد کروائے جائیں اور طلبہ کے حق پر شب خون نہ مارا جائے، مظاہرے میں شہر بھر سے طلبہ کی بڑی تعداد شریک تھی۔
اس موقع ناظم کراچی جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ قانون سازی کے ذریعے جامعات کی خودمختاری پر حملہ کیا جارہا ہے، کسی صورت ایسی قانون سازی کو قبول نہیں کرتے، سندھ کی جامعات میں سندھ سرکار کی سیاسی بھرتیاں نہیں ہونے دینگے، پیپلزپارٹی جامعات کو اپنی جاگیر سمجھنے لگی ہے، اس کی خودمختاری کے خلاف اقدامات پر ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے،
بعدازاں سندھ حکومت سے ڈی سی آفس میں مذاکرات کا مرحلہ شروع ہوا، اس موقع پر حکومت سندھ کی جانب سے ایڈیشنل سیکریٹری یونیورسٹیز عبدالرحیم میتلو اور ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو جبکہ اسلامی جمعیت طلبہ کی جانب سے عتیق الرحمان، کامران سلطان اور تیمور احمد مذاکرات کے عمل میں شریک تھے، حکومتی نمائندوں کی دھرنے میں آمد اور یقین دہانی کے بعد دھرنا ختم کردیا گیا، اس موقع پر ایڈیشنل سیکریٹری یونیورسٹیز عبدالرحیم کھوسو نے طلبہ یونین کے انتخابات کے لئے کوڈ آف کنڈکٹ کی تیاری میں جمعیت کو شامل کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔
ابراہیم عادل
سیکریٹری اطلاعات
اسلامی جمعیت طلبہ کراچی























