بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسے کی مکمل حمایت کرتے ہیں لوگوں کو لاپتہ کرکے وسائل کی لوٹ کھسوٹ ناقابل قبول ہے ـ بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)

خضدار: بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے مرکزی جاری اعلامیہ کے مطابق پارٹی کے مرکزی صدر سابق وقافی وزیر میر اسرار اللہ زہری و مرکزی کابینہ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت مارشل لا طرز حکمرانی جانبدارانہ پالیسیوں اور عوام دشمن اقدامات نے پورے ملک بالخصوص بلوچستان کے عوام کو جمہوری سیاسی اور سماجی طور پر شدید نقصان پہنچایا ہے۔ بی این پی (عوامی) ان اقدامات کو حکومت کی نوآبادیاتی نظام کا تسلسل قرار دیتی ہے اور ان اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے ۔
بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) قوم پرست و جمہوری جماعت ہے ہر ہمیشہ بلوچستان میں ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی ہے تاکہ ملک میں عدل و انصاف اور عوام کی خوشحالی اور ترقی کو یقینی بنایا جائے۔ بیان میں کہا ہے کہ بی این پی (عوامی) بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام 25 جنوری کو دالبندین میں ہونے والے جلسے عام کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے اور پارٹی کارکنان اور حامیوں کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ اس جلسے میں بھرپور شرکت کریںیہ جلسہ بلوچ نسل کشی جمہوری حقوق کی پامالی اور ریاستی مظالم کے خلاف ایک اہم پیغام ہوگا۔
مرکزی بیان میں مزید کہا ہے کہ حالیہ دنوں بلوچستان میں گرینڈ ہیلتھ الائنس کے سربراہ ڈاکٹر بہار شاہ اور سابق چیئرمین حفیظ مندوخیل کی گرفتاری اور تھری ایم پی او کے تحت نظر بندی نہایت افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ یہ عمل نہ صرف قانون کی بالادستی کو پامال کرتا ہے بلکہ باشعور اور تعلیم یافتہ طبقات کے خلاف آمرانہ سوچ کی عکاسی ہے ڈاکٹر معاشرے کے مسیحا ہیں ان کے خلاف ایسے اقدامات شرمناک اور ناقابل قبول ہیں جس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ بلوچستان میں عوام کے ساتھ ناروا سلوک نوآبادیاتی طرز حکمرانی اور عوامی حقوق کی پامالی روزمرہ کا معمول بن چکی ہے بلوچستان اسمبلی نام نہاد نمائندگی فارم 47 کے عددی کھیل تک محدود ہے جہاں حکومتی فیصلے عوامی خواہشات کے برعکس کیے جا رہے ہیں ایسے نمائندے جو وائسرائے کے طرز حکمرانی کی علامت بنے ہوئے ہیں عوام کے حق میں آواز اٹھانے کی جرات بھی نہیں رکھتے عوام کی فلاح وبہبود ، ترقی و خوشحالی کجا بلکہ عوامی ، جمہوری اور قانون کی بالادستی کے برعکس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مرکزی بیان میں مزید کہا ہے کہ بلوچستان سمیت پورے ملک پاکستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک سنگین انسانی اور قانونی بحران ہے بلوچستان میں آئے روز نوجوانوں کو ماروائے عدالت لاپتہ کیا جا رہا ہے جس سے عوام ریاست و حکومت سے مزید بد ذہن ہو رہی ہے حکومت بجائے طاقت کے جمہوری اور قانونی ذرائع سے اس مسئلے کا حل نکالے ریاستی طاقت کے بے جا استعمال نے عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے حکومت کو فوری طور پر اس مسئلے کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا چاہیے۔
مرکزی بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے وسائل کا بے دریغ استعمال جاری ہے لیکن ان کا فائدہ مقامی عوام کو نہیں دیا جا رہا ، بی این پی (عوامی) سمجھتی ہے کہ یہ نوآبادیاتی پالیسیوں کا تسلسل ہے جس کے ذریعے بلوچستان کے عوام کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے عوامی جلسے اور جلوسوں کے خلاف حکومتی کریک ڈان جمہوری اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ایسے اقدامات عوام کے سیاسی و سماجی حقوق کو محدود کرنے کی کوشش ہیں اور جمہوری نظام سے عوام کا اعتماد ختم کرنے کی سوچی سمجھی سازش ہیں پرامن مظاہرین پر تشدد قابلِ افسوس ہے جس کی سخت مذمت کرتے ہیں آئین پاکستان نے ہر شہری کو اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کا حق دی ہے اس حق کو دبانے کی کوشش حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کو عیاں کرتا ہے۔
بی این پی (عوامی)نے تمام پسے ہوئے طبقات بالخصوص بلوچ عوام کے خلاف حکومتی مشینری کے بے جا استعمال کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ عوام کو جمہوری نظام کے تحت اپنی آواز بلند کرنے کا پورا موقع دیا جائے اور عوام کے آئینی سیاسی اور سماجی ، ثقافتی اور علمی و ادبی حقوق کی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔

اسلام آباد (فاروق اقدس) مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری فروری کے پہلے ہفتے میں چین کے دورے پر جائیں گے، جہاں ان کی اپنے چینی ہم منصب صدر شی جن پنگ کے ساتھ باضابطہ بات چیت ہوگی جن میں عالمی اور اہم علاقائی امور بشمول سی پیک ٹو سرفہرست ہوں گے دو درجن معاہدوں پر دستخط ہونے کا امکان ، وفد کے ناموں کو حتمی شکل ، متوقع طور پر نائب وزیراعظم، وفاقی اور سندھ حکومت کے وزراء اور اہم عہدیدار شامل ہوں گے ۔

اپنے دورے کے دوران صدر زرداری چین کے علاقے ہاربین بھی جائیں گے جہاں وہ سرمائی اولمپک کی تقریب میں شریک ہوں گے۔

امکانی طور پر صدر مملکت 5 سے 7فروری تک چین میں قیام کریں گے، جس دوران دونوں ممالک کے درمیان تقریباً دو درجن معاہدوں پر دستخط ہونے کا امکان ہے۔