
یو ای ٹی ٹیچنگ سٹاف ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر تنویر قاسم کی قیادت میں پریس کلب کے سامنے اساتذہ ٹیکس کٹوتی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔
یو ای ٹی ٹیچنگ اسٹاف ایسوسی ایشن کا پریس کلب کے سامنے احتجاج
22 جنوری 2025ء
لاہور ( ) یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) لاہور کی ٹیچنگ سٹاف ایسوسی ایشن (ٹی ایس اے) نے پریس کلب کے سامنے اساتذہ اور ریسرچرز کی تنخواہوں میں 25 فیصد ٹیکس کٹوتی کے خلاف پُرامن احتجاج کیا۔ احتجاج میں اساتذہ نے ایف بی آر کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا، جس میں اساتذہ اور ریسرچرز کی تنخواہوں پر 25 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ ٹی ایس اے کے
عہدیداران نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر “ٹیکس چھوٹ بحال کرو” جیسے نعرے درج تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر تنویر قاسم، جنرل سیکرٹری ٹی ایس اے، کا کہنا تھا کہ یہ ایک پُرامن اور علامتی احتجاج ہے۔ اگر نوٹیفیکیشن واپس نہ لیا گیا تو ہم اگلے مرحلے میں کلاسز کے بائیکاٹ کی طرف جا سکتے ہیں۔ اساتذہ کی جانب سے سوال اٹھایا گیا کہ کیا سارا ٹیکس صرف اساتذہ کی تنخواہوں سے ہی وصول کیا جائے گا؟ احتجاج میں ٹی ایس اے کے عہدیداران، بشمول احمد نوید ، ڈاکٹر محمد عثمان، ڈاکٹر اویس، اور دیگر اساتذہ نے بھرپور شرکت کی۔
====================

لاہور(پ ر)پنجاب پیرا میڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن مینٹل ہسپتال میں بڑا اکٹھ،گریجویٹی ترامیم سمیت بلاجواز تبادلوں کی سخت مذمت ، مطالبات تسلیم نہ ہونے پر سخت ردعمل دینے کا فیصلہ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب پیرا میڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن کا اجلاس گزشتہ روز پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ (مینٹل ہسپتال ) میں منعقد ہوا جس میں شہر کے تمام سرکاری ہسپتالوںسے عہدیداران و ملازمین نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس کی قیادت صوبائی قائدین محمد ارشد بٹ اور رانا پرویز نے کی ۔ اس موقع پر حکومت پنجاب اورمحکمہ صحت کے سرکاری ہسپتالوں ملازمین کے مطالبات کے حوالے سے گفتگو کی گئی ۔ ایل پی آر اور گریجویٹی پنشن میں ترامیم کی سخت مذمت کی گئی۔اس موقع پر محمد ارشد بٹ اور رانا پرویز نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ملازمین کے بلاجواز تبادلوںکی سخت مذمت کرتے ہیں اور حکومت سمیت محکمہ صحت کے حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تبدیل کئے گئے ملازمین کو فوری طور پر واپس لیا جائے تاکہ وہ ذہنی اذیت سے نکل کر اپنے فرائض بہتر طریقے سے سرانجام دے سکیں۔ ایل پی آر گریجویٹی ترامیم کو بھی واپس لیاجائے۔انہوں نے کہا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو بھرپور احتجاج کیا جائے گا ۔ اجلاس میں آئندہ لاہور جنرل ہسپتال میں پنجاب پیرا میڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن کا کنونشن کروانے کابھی فیصلہ کیا گیا جس میں پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں سے ایسوسی ایشن کے عہدیداران اور ملازمین شرکت کریں گے۔
=======================

محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے زیر اہتمام آئی پی ایچ میں ایک روزہ اینٹمالوجسٹس اور ڈینگی ماسٹر ٹریننرز کے لئے ٹریننگ ورکشاب کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ میں ڈینگی کے پیدا ہونے والے عوامل، وجوہات، ویکٹر سرویلنس، بائیو لوجیکل، کیمیکل کنٹرول، لیب ٹیسٹ، ادویات کا استعمال، سپرے ٹیکنیک، فوگنگ اور آئی آر ایس کے استعمال پر تفصیلی بتایا گیا۔صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی حکومت اکیلے کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک شہریوں کا بھرپور تعاون اور شراکت میسر نہ ہو۔ انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کو ہدایت کی کہ گزشتہ سال کے درجہ حرارت اور موسمی حالات کو مدنظر رکھ کر انسداد ڈینگی کے ایس او پیز تیار کیئے جائیں۔سی ای اوز ہیلتھ کو کہا گیا کہ وہ اپنے اضلاع میں ڈینگی لاروا سیمپلز کی تشخیص کے لئے فوری لیبز بنائیں۔وزیر صحت نے کہا کہ اس سال انسداد ڈینگی کے لئے اچھے نتائج کی حامل ایک نئی پالیسی سامنے لائیں گے۔ڈینگی کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول کو بھی خراب نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے
واضح کیا کہ ہمارا کام گھروں میں جاکر لوگوں کے کولرز صاف کرنا نہیں، انہیں فرائض سے آگاہ کرنا ہے۔ خواجہ عمران نذیر کا کہنا ہے کہ ڈینگی کے خاتمہ کے لئے شہریوں کو حکومت کا ہاتھ بٹانا ہوگا۔وزیر صحت نے یقین دلایا کہ ڈینگی ورکرز کو عزت دیں گے اور انکی تنخواہیں ہڑپ نہیں کرنے دوں گا۔ڈینگی ورکرز کسی شکایت کی صورت میں منسٹر کمپلینٹ سیل سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ تمام بیماریوں کے تدارک کے لئے تعلیم اور ریسرچ میں آئی پی ایچ کو سٹیٹ آف دی آرٹ سینٹر بنایا جائے گا۔اس کے لئے بھرپور وسائل فراہم کریں گے۔صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے ورکشاپ میں ڈینگی کے ماسٹر ٹریننرز میں سرٹیفکیٹ تقسیم کیئے۔اس موقع پر نئی ڈین آئی پی ایچ پروفیسر سائرہ افضل، ڈائریکٹر سی ڈی سی ڈاکٹر یداللہ اور ڈاکٹر شعبان بھی موجود تھے۔
=========

پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ غزہ فلسطین میں جنگ بندی امن معاہدے کے بعد شہریوں کی اپنے گھروں کو واپسی شروع ہو گئی ہے تاہم ہزاروں زخمیوں کے علاج معالجے اور دیکھ بھال کے لئے مالی امداد،ادویات کے ساتھ ہیلتھ پروفیشنلز کی بھی شدید ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس حکومت پاکستان کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے اگر اجازت ملی تو لاہور جنرل ہسپتال کے ڈاکٹرز،نرسز، پیرا میڈیکس رضا کارانہ طور پر فلسطین جا کر زخمی بچوں، خواتین اور بڑوں کے علاج معالجے اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے اپنی پیشہ وارانہ خدمات سر انجام دینے کے لئے تیار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور جنرل ہسپتال شعبہ آرتھو پیڈک اور گرینڈ ہیلتھ الائنس کے زیر اہتمام فلسطین سے اظہار یکجہتی کے لئے منعقدہ ریلی کے شرکاء اور میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ اس موقع پر پروفیسر محمد حنیف،ایم ایس ڈاکٹر فریاد حسین،ڈاکٹر عدنان مسعود،،ڈاکٹر خالد کاظمی، ڈاکٹر حسیب تھند،ڈاکٹر اقبال میو، ڈاکٹر نوید علی، ڈاکٹر شجاع، ڈاکٹر شیراز، ڈاکٹر عبداللہ، ڈاکٹر حسین خالد، جنید میو سمیت ڈاکٹرز، نرسز و پیرا میڈکس کی کثیر تعداد موجود تھی۔
شعبہ آرتھو پیڈک کے سربراہ پروفیسر محمد حنیف میاں کا کہنا تھا کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور مشکل کی اس گھڑی میں ان کے ان کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ظلم و زیادتی کی اس جنگ میں لاہور جنرل ہسپتال اب تک تین ملین سے زائد رقم فلسطینیوں کو بھجوا چکا ہے اور آئندہ بھی ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے تاکہ اہل فلسطین جلد اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر فریاد حسین کا کہنا تھا کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کی صبر استقامت اور جواں مردی کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ظلم و بربریت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اپنی شناخت کو برقرار رکھا۔
ڈاکٹر حسیب تھند کا کہنا تھا کہ لاہور جنرل ہسپتال کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف اپنے فلسطینی بہن بھائیوں کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو کہ ظلم و زبردستی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنے رہے۔ڈاکٹر عدنان مسعودنے بھی اہل فلسطین کی کاوشوں کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ جنرل ہسپتال کے ڈاکٹرز ہمہ وقت ان کے ساتھ ہیں۔پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر جنید میو نے بھی سیز فائر پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کہ وہ اپنے فلسطینی بھائیوں کو کبھی نہیں بھولیں گے اور جس حد تک ممکن ہو سکتا اُن کی مدد جاری رکھیں گے۔ریلی میں کثیر تعداد میں ڈاکٹرز نرسز اور پیرامیڈکس نے شرکت کی جن کا جوش خروش قابل دید تھاجبکہ شرکاء نے فلسطین کے حق میں زبردست نعرے بازی کی۔























