
ٹریفک دباو دور کرنے کے اقدامات۔ کمشنر کراچی سیدحسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس منعقد
ڈی آئی جی ٹریفک، ٹریفک انجنیئرنگ بیورو کے افسران اور ڈپٹی کمشنرز کی شرکت
مصروف گیار سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لئے ٹریفک ٹکراو کے امکانات دور کرنے پر غور
ہوشنگ روڈ سگنل، فاطمہ جناح روڈ،بلوچ کالونی پل شاہراہ فیصل ال آصف اسکوایر انٹرسیکشن پر فوری کام ہوگا
ٹریفک دباو دور کرنے کے لئے ٹریفک اینفورسمنٹ اور انجنییرنگ کوششوں کو موثر بنانے کی ضرورت ہے کمشنر کراچی سید حسن نقوی
کراچی( ) کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے ٹریفک پولیس اور ٹریفک انجیئرنگ بیورو کے ڈی اے مل کر شہر میں ٹریفک دباو دور کرنے کے لئے مل کر کام کریں گے ٹریفک پولیس ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کرنے کے لئے اقدامات کرے گی۔ اور ٹریفک اننجیرنگ بیورو انجنییرنگ کوششیں کرے گی یہ فیصلہ بدھ کو کمشنر کراچی کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا اجلاس میں ڈی آئی جی ٹریفک احمد نواز چیمہ، ضلع شرقی کے ڈپٹی کمشنر ابرار جعفر ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو، اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹرز رابعہ سید، ڈائریکٹر انجیئرنگ بیورو یوسف اقبال ٹریفک بیورو کے انجنیئرز، اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں فاطمہ جناح روڈ، بلوچ کالونی فلائی اوور شاہراہ فیصل، ہوشنگ روڈ سگنل، میلینیم مال راشد منہاس روڈ انٹر سیکشن، الاآصف اسکوائر انٹر سیکشن اور دیگر پر فوری طور پر ٹریفک ٹکراو کے پوائنٹس Confilct points دور کرنے کے لئے ٹریفک انجنئرنگ بیورو اقدامات کرے گا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سڑک استعمال کرنے والوں کی رہنمائی کے لئے آگاہی اطلاعاتی بورڈ ز ٹریفک سائننر،اوربینر آویزاں کئے جائیں گے۔ ڈی آئی جی ٹریفک نے اجلاس کو دیگر گیارہ مقاما ت کی نشاندہی کی جہاں ترجیحی طور پر انجیینرنگ حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈی آئی جی ٹریفک ڈپٹی کمشنرز اور ٹریفک انجنءئرنگ بیورو کے افسران مل کر ان مصروف شاہراہوں پر انٹر سیکشنز اور یو ٹرننگ کادورہ کریں گے جائزہ لیں گے اور اقدامات تجویز کریں گے۔ اجلاس میں ٹریفک کی روانی متاثر کرنے والے دیگر اسباب کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلا س میں مختلف شاہراہوں پر ٹریفک دباو دور کرنے کے لئے متباد ل راستوں کی منصوبہ بندی اور بعض دو سمتوں میں چلنے والے ٹڑیفک کو یکطرفہ کرنے کی تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈی آئی جی ٹریفک ان سڑکوں کی نشاندہی کریں گے جہاں ٹریفک کو یکطرفہ کرنے کی ضرورت ہے۔کمشنر نے کہا کہ شہر میں ٹریفک مسائل کے حل کے لئے کام کرنے کے لئے ٹریفک اینفورسمنٹ کے ساتھ ساتھ انجیینرنگ کوششوں کو موثر بنانے کی ضرورت ہے۔
=======================
سندھ ہائیکورٹ نے دودھ کی قیمتوں سے متعلق درخواست پر کمشنر کراچی سے جواب طلب کر لیا۔ ہائیکورٹ میں دودھ کی قیمتوں سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ بغیر اسٹیک ہولڈرز کو سن کر کمشنر کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کہ قیمتیں نہ بڑھائے۔ 20 روپے بڑھا کر 220 روپے کلو کر دیا گیا ہے۔ اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ ہم نے اپنا جواب جمع کروا دیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے پاس حکومت کا جواب ہے ہی نہیں۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ہمارا کیس یہ ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کو بلایا جائے۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ اب تو یہ درخواست ہی غیر موثر ہو چکی ہے۔ کیوں کہ دودھ کی قیمتیں بڑھا دی گئیں ہیں۔ درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ دودھ کی قیمتوں کا تعین ڈیری فارمز کی مشاورت کے بغیر کیسے کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ قیمتوں سے ڈیری فارمز کے اخراجات ہی مکمل نہیں ہو رہے۔ عدالت نے کمشنر کراچی سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 5 مارچ تک ملتوی کردی۔
=======================
سندھ ہائیکورٹ نے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کی تقرری کیخلاف درخواست کی سماعت سے جسٹس ظفر احمد راجپوت نے معذرت کرلی۔ جسٹس ظفر احمد راجپوت کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کی تقرری کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل بیرسٹر حیدر وحید نے موقف دیا کہ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کی تقرری خلاف ضابطہ ہے۔ وائس چانسلر کے لئے امیدوار کے تحقیقی مقالے شائع ہونا ضروری ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی 30 سے زائد تحقیقی مقالے شائع ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن ان کے 18 مقالے شائع ہوئے ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے وکیل نے اپنا وکالت نامہ جمع کروا دیا۔ جسٹس ظفر راجپوت نے درخواست کی سماعت سے معذرت کرلی۔ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ریمارکس دیئے کہ ایچ ای سی کے وکیل میرے پارٹنر رہے ہیں۔ عدالت نے درخواست دوسرے بینچ کو مقرر کرنے کے لیے چیف جسٹس کو بھیج دی۔عدالت نے درخواست کی سماعت 13 فروری تک ملتوی کردی۔ وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کی تقرری کو پروفیسر مونس احمر نے چیلنج کیا تھا۔
=====================
سندھ ہائیکورٹ نے جامعہ کراچی کے انسٹیٹیوٹ آف کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز کے ڈائریکٹر کی تقرری سے متعلق درخواست کی فوری سماعت کی استدعا منظور کرلی۔ ہائیکورٹ میں جامعہ کراچی کے انسٹیٹیوٹ آف کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز کے ڈائریکٹر کی تقرری سے متعلق فوری سماعت کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ وائس چانسلر کے وکیل نے موقف دیا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے تقرری کا پراسیس مکمل کرنے کی اجازت دیدی تھی۔ ڈائریکٹر کی تقرری کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے لیکن عدالت کے حکم کے باعث نوٹیفائی نہیں کیا گیا۔ نئے ڈائریکٹر کی تقرری کے نوٹیفکیشن کے اجرا تک ڈاکٹر فرزانہ شاہین فرائض انجام دیتی رہیں گی۔ عدالت نے درخواست کی فوری سماعت کی استدعا منظور کرلی۔ عدالت نے درخواست کی سماعت 28 جنوری کو مقرر کردی۔























