
کراچی
مور خہ22 جنوری 2024
کراچی22 جنوری۔ سندھ میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعلیم تک رسائی کے لئے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں، ترجمان سکھ دیو آسرداس ہمنانی ترجمان حکومت سندھ، سکھ دیو آسرداس ہمنانی نے کہا ہے کہ حکومت سندھ صوبے میں اسکول نہ جانے والے بچوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے تاکہ صوبے کے ہر بچے کو تعلیم کے حق تک رسائی حاصل ہو۔سکھ دیو ہمنانی نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 25-اے اور 37-بی پر عمل درآمد کرتے ہوئے، حکومتِ سندھ نے “سندھ میں بچوں کومفت اورلازمی تعلیم کا ایکٹ، 2013” متعارف کرایا، جس کے تحت سرکاری اسکولوں میں 16 سال کی عمر تک کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ صرف اسکول کی فیس ہی معاف نہیں کی گئی بلکہ حکومت بچوں کو مفت نصابی کتابیں، اسٹیشنری، اسکول بیگز اور یونیفارمز بھی فراہم کر رہی ہے۔ترجمان نے کہا کہ ملک میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد بے حد زیادہ ہے، تاہم حکومت سندھ نے بچوں کی تعلیم کے لئے متعدد پروگرام تشکیل دیے ہیں۔ حکومت سمجھتی ہے کہ صوبے کو درپیش تعلیمی چیلنجز کو صرف رسمی تعلیمی نظام کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا، اسی لئے حکومت سندھ نے غیر رسمی تعلیمی پالیسی اور اقدامات اپنائے ہیں تاکہ اسکول نہ جانے والے بچوں کو مرکزی دھارے میں شامل کیا جا سکے۔سکھ دیو آسرداس ہمنانی نے بتایا کہ حکومت سندھ صوبے بھر میں 3000 نان فارمل تعلیمی مراکز قائم کر رہی ہے، ہر ضلع میں 100 مراکز بنائے جائیں گے، جو اسکول چھوڑجانے والے بچوں کو تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت دونوں فراہم کریں گے۔ یہ مراکز نہ صرف بچوں کو تعلیم فراہم کریں گے بلکہ انہیں مستقبل میں روزگار کے قابل بھی بنائیں گے۔مزید برآں، پرائمری لیول پر اسکول چھوڑنے والے بچوں کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت سندھ نے فیصلہ کیا ہے کہ پرائمری اسکولوں میں شام کی کلاسز شروع کی جائیں گی، جنہیں بعد میں مڈل اسکول کے درجے تک اپ گریڈ کیا جائے گا، تاکہ اسکول چھوڑنے کی شرح کو کم کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سندھ پہلے ہی تعلیم کے شعبے کو موثر بنانے کے لئے کئی اہم اقدامات کر چکی ہے، جن میں ٹیچنگ لائسنس پالیسی کی تیاری، 60,000 اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی، پرائمری اور مڈل سرکاری اسکولوں میں موسیقی کے اساتذہ کی بھرتی اور نصاب میں اصلاحات شامل ہیں۔ حکومت سندھ پوری لگن کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ بچوں کو معیاری تعلیم کسی بھی امتیاز یا رکاوٹ کے بغیر فراہم کی جاسکے، سکھدیو آسرداس ہمنانی کا بیان۔
ہینڈ آؤٹ نمبر 85۔۔۔























