حالات زیادہ خراب ہوئے تو لاک ڈاؤن پر مجبور ہوجائیں گے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان عوام سے ٹیلی فون کال پر مخاطب ہوءے اور کہا کہ کورونا کی تیسری لہر خطرناک ہے اور زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے تاہم بدقسمتی سے لوگ احتیاط نہیں کر رہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کی پہلی اور دوسری لہر میں پاکستان کو اللہ نے زیادہ نقصان سے بچایا جبکہ یورپ میں لوگوں کو ویکسین لگانے کے باوجود لاک ڈاؤن کیا گیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم لاک ڈاؤن نہیں کر رہے اور فیکٹریاں بھی کھلی ہیں لیکن اللہ نہ کرے اگرحالت زیادہ خراب ہو گئے تو پھر ہم بھی مجبور ہوجائیں گے۔ باقی دنیا میں جہاں بھی لاک ڈاؤن لگا وہاں سب سے زیادہ غریب لوگ متاثر ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ ماسک لازمی پہنیں اور پہلے سے زیادہ احتیاط کریں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں گھر پر صرف 27 فیصد لوگوں کو گیس میسر ہے اور 73 فیصد پاکستانی گیس سے محروم ہیں۔ اب ہم گیس کے مزید کنویں کھود رہے ہیں کیونکہ بیرون ملک سے آنے والی گیس مہنگی ہے اور پاکستان میں گیس کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلڈنگ بنانے سے یونیورسٹی نہیں بنتی بلکہ اعلیٰ کوالٹی ضروری ہے۔ ہائیرایجوکیشن میں تبدیلی لا رہے ہیں اور اپنے ویژن کے مطابق ہائیرایجوکیشن کا سربراہ بھی لا رہے ہیں۔

مہنگائی سے متعلق گفتگو میں کہا کہ مہنگائی ایڈمنسٹریشن کی وجہ سے ہے اور دوسرا مڈل مین کی زیادہ منافع خوری کی وجہ سے مہنگائی ہے۔ تاہم اب ایسا نظام لا رہے ہیں جس میں کسان براہ راست منڈیوں تک چیزیں پہنچائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کی بہتری کی وجہ سے روپیہ مستحکم ہوا ہے۔ بجلی کے جتنے معاہدے ہوئے وہ ڈالر نرخ میں کیے گئے اور تیل مہنگا ہونے کی وجہ سے بجلی بھی مہنگی ہوئی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر اسپتال بنانے کے لیے سرکاری زمینیں دے گے۔ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل بھی حل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امیر ممالک بھی کرپشن کی وجہ سے معاشی تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ رپورٹ کے مطابق ایک ہزار ارب ڈالر غریب ملکوں سے ہر سال چوری ہو جاتے ہیں۔ غریب ممالک کا سات ارب ڈالر باہر پڑا ہوا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ساری قوم ہی مل کر کرپشن کا مقابلہ کرتی ہے اس کے خلاف عمران خان اکیلے نہیں لڑ سکتا۔ صرف قانون بنانے سے کرپشن ختم نہیں ہو گی اس کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

Courtesy hum news