سکھر میں کثیرالمنزلہ عمارتوں پر پابندی ختم، آباد کا اظہار تشکر

کراچی: ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد)کے چیئرمین فیاض الیاس نے سکھر میں کثیرالمنزلہ عمارات کی تعمیر پابندی ختم کرنے پر چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ سے تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر کی اجازت سے سکھر میں تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا جس سے لاکھوں افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے 24 مارچ کو ہونے والے اجلاس میں سکھر میں کثیرالمنزلہ عمارتوں پر لگائی گئی پابندی ختم کرنے کا حکم جاری کیا تھا جس پر عمل کرتے ہوئے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی(ایس بی سی اے) نے نوٹی فیکیشن جاری کردیا ہے۔چیئرمین آباد نے کہا کہ سکھر میں گزشتہ 5 سال سے بلند عمارتوں کی تعمیرات پر بلاوجہ پابندی عائد تھی جس سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو منفی تاثر جارہا تھا۔بلند عمارتوں کی تعمیر پر پابندی کے باعث سندھ کے تیسرے بڑے شہر میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری رکی ہوئی تھی جس کے باعث نہ صرف سکھر بلکہ ملکی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے تھے۔انہوں نے کہا کہ قومی معیشت کی خاطر سکھر اور ملک کے دیگر حصوں کی طرح کراچی اور حیدرآباد میں بھی بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔فیاض الیاس نے کہا کہ پاکستان میں پہلے ہی ایک کروڑ 20 لاکھ گھروں کی کمی ہے جبکہ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق ملکی آبادی کے لیے ہرسال 7 لاکھ گھروں کی ضرورت ہے۔ چیئرمین نے کہا کہ گھروں کی کمی کی وجہ سے رہائشی یونٹ کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جبکہ مکانات کے کرایوں میں بھی ہوشربا اضافے سے رینٹ پر رہنے والے لوئر مڈل طبقے کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ فیاض الیاس کا کہنا تھا کہ بلند عمارتوں کی تعمیر پر پابندی ختم ہونے سے رہائشی یونٹس کی قیمتوں میں 20 سے 25 فیصد کمی ہوسکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کی ترقی کے ساتھ 70 سے زائد دیگر صنعتوں کی ترقی وابستہ ہے جس سے لاکھوں افراد کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔