وزیراعظم عمران خان سے شریف برادران کو چھوڑنے کی بات شیخ رشید نے کی تھی۔ حقائق سامنے آگئے

وزیراعظم عمران خان بار بار کہہ رہے تھے کہ ان سے شریف خاندان کے لئے این آر او مانگا جا رہا ہے لیکن وہ نہ ڈیل کریں گے نہ ڈھیل دیں گے چوروں ڈاکوؤں کو چھوڑنا اللہ سے بے وفائی اور قوم سے غداری ہو گی ۔اپوزیشن کی جانب سے بار بار وزیراعظم عمران خان سے سوال کیا جا رہا تھا کہ این آر او مانگنے والوں کے نام بتائے جائیں جو لوگ وزیر اعظم کے پاس ڈیل یا این آر او کے لیے رابطہ کرتے ہیں ان کو قوم کے سامنے لایا جائے ۔بعض وفاقی وزراء کا کہنا تھا کہ وہ این آر او مانگنے والے کو جانتے ہیں اور کچھ تو ایوان میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔اسمبلی کے فلور پر بھی اپوزیشن نے حکومتی ارکان سے سوال کیا کہ جنہوں نے بھی این آر او مانگا ہے انکے نام بتائے جائیں ۔لیکن سرکاری بنچوں سے کوئی نام نہیں لیا جاتا تھا ۔ کافی دنوں سے اس معاملے پر بحث چھڑی ہوئی تھی اور پھر کچھ سیاسی شخصیات نے اشارہ تم نام لیا شہباز شریف اور پھر کچھ نے کہا شہباز شریف کی اہلیہ تہمینہ درانی کی جانب سے پیغامات بھیجے گئے ہیں اور کچھ مشترکہ دوستوں نے رابطے کیے ہیں ۔ لیکن حکومت کی طرف سے کسی بھی شخصیت کا نام کھل کر نہیں دیا جا رہا تھا نہ ہی وزیراعظم عمران خان نے خود کسی کا نام لیا ۔ اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ شریف برادران کو چھوڑنے کے لئے وزیراعظم عمران خان سے یہ بات کسی اور نے نہیں بلکہ وزیراعظم کے سب سے بڑا اعتماد دوست وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے خود کی تھی جس پر وزیراعظم عمران خان بھی ہکا بکا رہ گئے اور انہوں نے سخت غصہ دکھایا ۔


یہ واقعہ کسی اور نے نہیں بلکہ خود شیخ رشید احمد نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں بتا دیا ہے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ انہوں نے نواز شریف اور شہباز شریف کے حوالے سے لچک دکھانے کی کوشش کی تھی لیکن عمران خان نے انہیں سختی سے روک دیا شیخ رشید احمد کے مطابق انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے کہا کہ ان دونوں بھائیوں کی قسمت میں نہ تو پیسہ ہے ورنہ سکون ۔اگر یہ مر گئے تو ہمارے سر پڑ جائیں گے اس لیے چھوڑ دیں انہیں جانے دیں ۔جس پر عمران خان نے سختی سے کہا کہ میں انہیں کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گا ۔ دوسری طرف سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ایک مرتبہ پھر واضح طور پر کہا ہے کہ ہماری طرف سے کسی نے این آر او نہیں مانگا وزیر اعظم بتائیں کہ ان سے کس نے این آر او کی بات کی ہے ۔ سیاسی ٹاک شوز میں مسلم لیگ نون اور اپوزیشن کے دیگر رہنما بارہا کہہ چکے ہیں کہ اول تو ہم نے عمران خان سے این آر او کی بات نہیں کی دوسری بات یہ ہے کہ عمران خان کے این آر او دینے کی پوزیشن میں ہیں ؟ وہ تو اپنے وزیر خزانہ اسد عمر کو نہیں بچا سکے ۔وہ کسی دوسرے کو کیا این آر او دیں گے ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں