کیا عدالت سے سزا یافتہ مریم نواز پارٹی عہدہ رکھ سکتی ہیں؟

سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور پاکستان مسلم لیگ نون کی حال ہی میں بنائی گئی نائب صدر مریم نواز شریف کے حوالے سے نئے اعتراضات سامنے آگئے ہیں جن میں کہا جارہا ہے کہ جب عدالتوں نے نااہل قرار دے چکی ہے تو پھر وہ پارٹی عہدہ کیسے رکھ سکتی ہیں ؟
سابق وزیراعظم نواز شریف کی مشاورت سے مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے پارٹی میں مختلف نائب صدور بنائے ہیں جن میں ایک نام مریم نواز شریف کا بھی ہے یہ پہلا موقع ہے کہ مریم نواز کو پارٹی میں کوئی اہم عہدہ دیا گیا ہے اس سے قبل وہ اپنے والد کے دور حکومت میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کی چیئرپرسن بنائی گئی تھی اس پر بھی اعتراض آنے کے بعد انہوں نے وہاں سے استعفی دے دیا تھا ۔
28 اکتوبر انیس سو تہتر کو پیدا ہونے والی 45 سالہ مریم نواز شریف اس وقت سیاسی میدان میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی امیدوں کا اصل مرکز بتائی جاتی ہیں بیگم کلثوم نواز کے انتقال کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کی سیاست میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر نظر آرہی ہے وہ مسلسل خاموش ہیں اور سیاست سے لاتعلق سے ہوگئے ہیں ایک وجہ ان پر قائم مقدمات ہیں اور ان کے معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ۔


ان حالات میں مریم نواز شریف ہیں سابق وزیراعظم نواز شریف کے سیاسی جانشین کے طور پر میدان میں موجود ہیں لیکن انہیں بھی ایک مقدمے میں عدالت نے 6 جولائی 2018 کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی اور نیب سے عدم تعاون پر مزید ایک سال کی سزا بھی دی گئی تھی دونوں سزائیں ایک ساتھ شمار کی جانی تھی اس عدالتی فیصلے کے نتیجے میں انہیں دس سال کے لیے الیکشن لڑنے سے نااہل قرار دیا گیا ۔
19 ستمبر 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی درخواست ضمانت پر جیل کی سزا معطل کردی اور انہیں ان کے والد اور شوہر کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا کب سے مریم نواز شریف جیل سے رہا ہوکر گھر پہنچ گئی ہیں اس دوران انہوں نے بھی سیاسی خاموشی اختیار کی اور والد کی سیاسی پالیسی کے مطابق عمل کرتی رہی ہیں البتہ سوشل میڈیا پراپنے سوشل اکاؤنٹ سے وہ اکادکا پیغامات بھیج کر کارکنوں کو اپنے والد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صحت اور بلند حوصلوں سے آگاہ رکھتی ہیں اور کارکنوں کا حوصلہ بڑھاتی رہتی ہیں ۔
مسلم لیگ نون کی جانب سے مریم نواز کو نائب صدر بنائے جانے پر پاکستان تحریک انصاف سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے کان کھڑے ہوئے ہیں اور یہ اندازے لگائے جارہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بجائے مریم نواز مسلم لیگ نون کی مرکزی رہنما کے طور پر ابھر سکتی ہیں لہذا مریم نواز اور مسلم لیگ نون کے سیاسی مخالفین میدان میں نکل آئے ہیں اور مریم نواز کو نائب صدر کا عہدہ دیے جانے پر اعتراض کرنے لگے ہیں ۔


پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی وہ نمایاں شخص ہیں جنہوں نے سب سے پہلے مریم نواز کو مسلم لیگ نون کی پارٹی میں نائب صدر کا عہدہ دینے پر اعتراض اٹھایا ہے ان کا کہنا ہے کہ عدالت مریم نواز کو نااہل قرار دے چکی ہے لہذا پارٹی کو چاہیے کہ ان سے عہدہ واپس لے لے ۔پارٹی عہدوں میں ردوبدل یقینی طور پر نون لیگ کا حق ہے لیکن کوئی قاعدہ قانون بھی ہوتا ہے اور عدالتوں سے نااہل شخص کو عہدہ نہیں دینا چاہیے ۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ شاہ محمود قریشی نے یہ بات صرف نون لیگ یا مریم نواز کی مخالفت میں نہیں کی بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ اسی بنیاد پر جہانگیرترین کا راستہ روک سکیں جہانگیر ترین پاکستان تحریک انصاف میں ان کے سب سے بڑے مدمقابل سمجھے جاتے ہیں اور سپریم کورٹ جہانگیر ترین کو بھی نااہل قرار دے چکی ہے لیکن اس کے باوجود وزیراعظم عمران خان کابینہ کے اجلاس میں مشاورت کے لئے جہانگیر ترین کو ان کے تجربے کی بنیاد پر بلاتے ہیں سعد بٹھاتے ہیں اور اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ ایسا وہ بار بار کریں گے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دراصل شاہ محمود قریشی ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہ رہے ہیں وہ بات تو مریم کو عہدہ دینے کے خلاف کر رہے ہیں لیکن چاہتے یہ ہیں کہ جہانگیر ترین کا راستہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے روک دیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں