پیٹرول بہت جلد ساشے پیک میں ملا کرے گا

ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جس تیزی سے آسمان کو چھو رہی ہیں عوام کا کہنا ہے کہ وہ وقت دور نہیں لگ رہا جب پیٹرول بھی ساشے پیک میں خریدنا پڑے گا ۔اس قدر مہنگائی کے بعد عوام کے لئے پیٹرول کا زیادہ استعمال بھی درد سر بنتا جارہا ہے پیٹرول کی وجہ سے ہر شے کی قیمت بڑھ رہی ہے بازار میں جو چیز خریدنے جائیں بتایا جاتا ہے قیمت بڑھ گئی ہے پوچھتے ہیں کیوں کہتے ہیں پیٹرول مہنگا ہوگیا ہے۔
عوام جائے تو جائے کہاں؟
حکومت نے پٹرول کی قیمتوں کو نہ بڑھنے کا کیا کر تین دن بعد ہی نئی قیمتوں پر غور شروع کردیا ۔عوام کو ایک دن تسلی دی جاتی ہے اور دوسرے دن اس پر مہنگائی کا نیا بم پھینک دیا جاتا ہے موجودہ حکومت نے سب سے پہلے گیس کے بہت زیادہ بل بجے تو عوام کی چیخیں نکل گئی وزیراعظم عمران خان کو شکایت پہنچی تو انہوں نے سوئی گیس کے کرتا دھرتا حکام کو گھر بھیج دیا۔ پھر اس حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں راتوں رات اضافہ کیا جس سے عوام کی چیخ نکلی پھر شکایت وزیر اعظم تک پہنچی تو انہوں نے وفاقی وزیر صحت کو گھر بھیج دیا ۔معیشت کی تباہ حالی کا معاملہ سامنے آیا مقامی ماہرین معیشت سے لے کر ایم ایف تک یہ آواز گونجی کہ حکومت سے وزارت خزانہ نہیں چل رہی تو عمران خان نے وزیر خزانہ اسد عمر کو تبدیل کرکے گھر بھیج دیا۔



اسٹیٹ بینک سے اطلاع آئی کے حکومت کو بتائے بغیر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت کم ہو جاتی ہے حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد میں اسٹیٹ بینک رکاوٹ ڈالتا ہے بعد وزیر اعظم تک پہنچی تو انہوں نے گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کو گھر بھیج دیا ۔ایف بی آر اپنے ٹارگٹ حاصل نہیں کرسکا ریونیو اہداف کے حصول میں بری طرح حکومت کو ناکامی ہوئی ہے شکایت وزیر اعظم تک پہنچی تو انہوں نے ایف بی آر کے اعلیٰ حکام کو گھر بھیج دیا۔
یہ سلسلہ نا جانے کہاں جا کر رکے گا ۔وزیر اطلاعات کے بارے میں شکایت آئی تھی کہ پی ٹی وی میں لڑائیوں کے ذمہ دار ہیں پریس کلبوں میں ان کے داخلے پر پابندی لگادی گئی ہے صحافی ان سے ناراض ہیں شکایت وزیر اعظم تک پہنچی تو انہوں نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو تبدیل کردیا۔
اب پٹرولیم مصنوعات کی باری آئی ہے پیٹرول کی قیمت قابو میں نہیں آرہی وزیر پٹرولیم پہلے ہی عتاب کا شکار ہوچکے ہیں۔
وفاقی کابینہ میں پہلے ہی ردوبدل ہوچکا ہے اب صوبائی کابینہ میں بھی ردوبدل کی تیاری کی جارہی ہے۔


پاکستان کی معیشت پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین بتا رہے ہیں کہ تمام انڈیکیٹرز منفی میں جارہے ہیں معیشت میں بہتری نہیں آ رہی کسی شعبے میں کوئی اٹھا نہیں آرہی ہر معاملے میں مسائل بڑھتے جا رہے ہیں مزید قرضے لئے جارہے ہیں اور آئی ایم ایف کی شرائط کے سامنے جھکتے چلے جارہے ہیں جو حالات ہیں آنے والے دنوں میں پیٹرول کی قیمتیں مزید بڑھے گی ۔اپوزیشن نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کو عوام دشمنی قرار دے دیا ہے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے جو پیپلزپارٹی کی حکومت تھی تو دنیا بھر میں خام تیل مہنگا ہوا تھا اس لیے پاکستان میں مہنگائی ہوئی تھی لیکن آج دنیا بھر میں قیمتیں کم ہیں اور پاکستان نے قیمتیں بڑھ رہی ہیں یہ حیران کن بات ہے اور دراصل یہ حکومت کی ناقص پالیسیوں اور نااہلی کا نتیجہ ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں