مفتی منیب الرحمن وفاقی وزیر فواد چوہدری پر برس پڑے

ممتاز عالم دین مفتی منیب الرحمن وفاقی وزیر فواد چوہدری پر برس پڑے اور انہوں نے فواد چوہدری کی جانب سے علماء کے بارے میں استعمال کی جانے والی زبان اور تاریخ کو مسخ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ممتاز عالم دین مفتی منیب الرحمان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں انہوں نے رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لئے بلائے گئے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر فواد چوہدری کے علماء کے بارے میں بیان پر افسوس کا اظہار کیا اور وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ ذرا کو پابند کریں کہ اسلامی تاریخ کو مسخ نہ کیا جائے۔


اس موقع پر مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری کا کہنا ہے علماء نے پاکستان بننے کی مخالفت کی لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ علماء نے پاکستان کی حمایت کی جبکہ اس وقت فواد چوہدری کا وجود بھی نہیں تھا ۔ مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا یہ افسوس کی بات ہے کہ نصاب میں پاکستان کی تاریخ شامل نہیں ہے اور ہمارے وزراء بھی تاریخ کو مسخ کررہے ہیں ۔ واضح رہے کہ فواد چودھری نے اپنے بیان میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہاتھا ملک کو کیسے چلانا ہے اس کا فیصلہ مولانا پر نہیں چھوڑا جا سکتا ملک کو نوجوان چلائیں گے تمام بڑے علماء پاکستان کے قیام کے خلاف تھے اور قائد اعظم کو کافر اعظم کہا کرتے تھے اس رو سے تو پاکستان کا قیام ہی عمل میں نہ آتا ۔آگے کا سفر مولویوں نے نہیں نوجوانوں نے کرنا ہے اور ٹیکنالوجی ہی قوم کو آگے لے جا سکتی ہے ۔اس بارے میں چوہدری فواد حسین نے جو ٹویٹ کیا تھا اس پر سوشل میڈیا میں کافی تفصیل کیے جا رہے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں