پاکستان ایمبیسی جاپان کی جعلی مہریں اور دستخط استعمال کر کہ کراچی پورٹ پر گاڑیاں کلیئر کروانے کا ایک سنگین واقع سامنے آیا

سفارت خانہ پاکستان، ٹوکیو
28/03/2021
وضاحت:
مورخہ 28 مارچ 2021 کو جنگ اخبار میں محمد عرفان صدیقی صاحب نے “جاپان میں اقتصادی سفارتکاری کا انوکھا واقعہ” کے عنوان سے ایک کالم لکھا۔ کالم میں جاپان میں تعینات پاکستان کے کمرشل کونسلر طاہر حبیب چیمہ صاحب کی طرف سے جاپان کے مختلف اداروں کو لکھے گئے ایک خط کا ذکر ہے۔ خط میں اداروں کو پاکستان جاپان بزنس کونسل نامی ایک تنظیم سے محتاط رہنے اور اظہارِ لاتعلقی کرنے کو کہا گیا ہے۔
مذکورہ کالم میں بیان کیئے گئے تمام واقعات کی صحیح اور مصدقہ تفصیلات درج ذیل ہیں۔
گذشتہ سال دسمبر میں پاکستان ایمبیسی جاپان کی جعلی مہریں اور دستخط استعمال کر کہ کراچی پورٹ پر گاڑیاں کلیئر کروانے کا ایک سنگین واقع سامنے آیا جس کی اطلاع پاکستان اور جاپان دونوں ممالک میں متعلقہ حکام کو کردی گئی۔ واقعہ کی خبر روزنامہ جنگ میں 14 جنوری 2021 کو سہیل افضل نے شائع بھی کی۔
اس واقعہ میں “Fuji Auto Trading Japan” نامی ایک کمپنی ملوث تھی جس کے چیف ایگزیکٹو افسر محمد عرفان صدیقی صاحب ہیں جو جاپان میں خود کو جنگ/جیو گروپ کا نمائندہ بتاتے ہیں۔ مذکورہ کمپنی کے خلاف پاکستان کسٹمز اور جاپانی پولیس تحقیقات کر رہی ہیں۔ تحقیقات کے دوران حکام نے عرفان صدیقی صاحب ہی کی “Maisha Systems” نامی ایک کمپنی کی جعلی دستاویز بھی پکڑ لی جو اس واقعہ میں استعمال گئی۔
اس واقعہ کے فوراً بعد رانا عابد حسین صاحب جو پاکستان جاپان بزنس کونسل نامی ایک تنظیم کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ خود کو ایک نامور جاپانی کمپنی کا ایڈوائزر بھی بتاتے ہیں، پاکستانی سفارتخانے کے افسران کے خلاف متحرک ہوگئے اور عرفان صدیقی صاحب کی کمپنیوں کے خلاف درج کرائی گئی شکایات واپس لینے کے لئیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔
پاکستانی سفارتخانے نے جب مذکورہ جاپانی کمپنی سے رانا عابد حسین صاحب کے ایڈوائزر ہونے کی تصدیق کرنی چاہی تو یہ بات سامنے آئی کہ موصوف نہ تو اس کمپنی کے ایڈوائزر ہیں اور نہ ہی وہ ذیلی کمپنی اب موجود ہے جس کے نام سے انہوں نے کارڈ چھپوا رکھے ہیں۔
یہ حقیقت سامنے آنے کے بعد سفارتخانے کی طرف سے جاپانی اور پاکستانی تجارت اور سرمایہ کاری کی وزارتوں اور جاپانی پولیس کواس معاملے پر مطلع کردیا گیا۔
سفارتخانہ پاکستان کی یہ کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ جاپانی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور پاکستانی کمپنیوں سے کاروبار کرنے کے لئے آمادہ کیا جائے۔ اسی ضمن میں سفارتخانہ پاکستان کی یہ ذمہ داری ہے کہ ایسے عناصر کی نشاندہی کی جائے جو جعلسازی میں ملوث پائے جائیں۔