قبیلہ ملک دین خیل کے عوام سراپا احتجاج

ضلع خیبر۔ وادئ تیراہ میدان ملک دین خیل میں قتل ہونے والے دو بہن بھائی بلال آفریدی اور اس کی جواں سالہ بہن کے  قتل کے خلاف اور قاتلوں کی گرفتاری  کے لئے قبیلہ ملک دین خیل کے عوام سراپا احتجاج بن کر باڑہ خیبر چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور پاک آفغان شاہراہ کو ہر قسم کے ٹریفک کیلئے بند کیا گیا۔ انجمن تاجران کوہی شیرحیدر کے صدر فیاض خان اور عصمت اللہ آفریدی سٹوڈنٹس فورم کے صدر کی قیادت میں احتجاجی مظاہرین اکھٹا ہوکر کوہی چوک تا باڑہ بازار تک آٹھ کلومیٹر پیدل سفر طے کرکے خیبر چوک میں پڑاؤ ڈال دیا اور چوک بند کرکے شدید احتجاج کیا جس میں ممبر صوبائی اسمبلی محمد شفیق آفریدی اور ایم این اے اقبال آفریدی سمیت، حاجی صحبت خان، خیبر یونین کے زاہداللہ و ہاشم خان، شیر بہادر عرف غیرتی پختون، اے این پی کے گلاب دین، ستوری خان و وہاب اور ڈاکٹر عبدالوہاب سمیت سینکڑوں مظاہرین شامل تھے۔ مظاہرین میں پارلیمنٹیرین اور قبیلہ ملک دین خیل کے مشران کا ایس ایچ او اکبر آفریدی کیساتھ مذاکرات کئے اور 12 اپریل تک کیس میں واضح پیش رفت ہونے تک احتجاج کو مئوخر کر دیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے جس پر قاتلوں کی گرفتاری، انصاف کی فراہمی اور عوام کو تحفظ دینے کے نعرے درج تھے۔ خیبر چوک میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ہمارا پرامن احتجاج انصاف کے حصول تک جاری رہے گا۔ اس موقع پر ممبران اسمبلی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ ایشو ہر فورم پر اٹھائینگے اور صاف شفاف تفتیش اور گرفتاریوں تک ہر موقع پر عوام کے ساتھ ہونگے۔ مظاہرین نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ضم اضلاع میں سیکیورٹی کے صورتحال کی کھڑی نگرانی کرے  اور اس کیس میں خود نوٹس لیکر امن کے قیام کے لئے اقدامات اٹھائیں۔